’’ بغاوت ہوگی‘‘

’’ بغاوت ہوگی‘‘
’’ بغاوت ہوگی‘‘

  

پاکستان مُسلم لیگ (ن) کے سابقہ وزیر اعظم نا اہل قرار دئے جانے کے بعد اپنے آبائی شہر لا ہورجا رہے ہیں۔ سابقہ وزیر اعظم کا قافلہ جس کر و فر کیساتھ روانہ ہو رہا ہے ا ور جس طرح اِسکی تیاریوں کے لئے خُصوصی انتظامات کئے جارہے ہیں اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نواز شریف عدلیہ ، نیب اور دوسرے اداروں کو اپنی مُقبولیت کے رُعب سے متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ اِس کے ساتھ فوج کو بھی عندیہ دینا چاہتے ہیں کہ مُجھے اور میرے خاندان کے افراد کو گرفتار کرنے کے صورت میں مُلک میں ’’ بغاوت شروع ‘‘ہو سکتی ہے۔ سیاسی مُخالفین کو یہ پیغام دینا مقصوُد ہے کہ وُہ عوام میں تمام تر کرپشن کے باوجود مقبول ہیں۔ وُہ سیاسی مخالفیں کے ریشیہ دیوا نیوں کے باوجود بھی سیاسی اُفق پر جگمگاتے رہیں گے۔ موجودہ حکومت کے لئے وہ لا اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تا کہ حکومت اُنکو محفوظ راستہ دینے یا نواز شریف کو کوئی نہ کوئی ر یلیف دینے پر مجبورہو جائے۔

عدالتِ عالیہ کے پانچ رُکنی بنچ کے فیصلے کے مُطابق نااہل ہو جانے کے بعد مُوصوف نے جتنی بھی پریس کانفر نسز کی ہیں۔ اُن میں یہ عندیہ دیا ہے کہ فیصلہ اُنکے خلاف پہلے ہی سے لکھا جا چُکا تھا۔ اُنکو کسی نہ کسی طرح پھنسانے کے لئے عذرِ لنگ تلاش کیا گیا ہے۔ اُن کے خیا ل میں اُنکو منصب سے ہٹانے کے لئے فوج اور عدلیہ نے مِل کر سازش کی ہے۔ اُنکو اِس بات پر فخر ہے کہ اُنکے مخالفین ، جے آئی ٹی اور معزز جج صاحبان اُنکے خلاف کسی قسم کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔ اپنے خلاف نیب میں دائر ریفرنسز کے بارے میں اُنکا کہنا ہے کہ اُنکو معلوم ہے کہ نیب میں فیصلہ کیا ہو گا؟ اُنکا استدلال ہے کہ عدالتِ عالیہ کا عمل در آمد کے لئے خصوصی جج کو مقرر کرنا اِس حقیقت کو ثابت کر تاہے کہ در پردہ طاقتیں اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتی ہیں۔ اِس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں نظر ثانی کی اپیل میں بحال کر دیا گیا تو میں اِس دفعہ وزارتِ عظمیٰ کو قلمدان خوُد نہیں سنبھالوں گا۔ انہوں نے سوال اُ ٹھا یاہے کہ کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیرِ اعظم کو پانچ جج صاحبان منصب سے کیسے ہٹا سکتے ہیں؟ اُن کے خیال میں عدلیہ کا فیصلہ بے معنی ہے۔ عوام ہی طاقت کا سر چشمہ ہیں۔ جب وُہ کسی بھی شخص کو چُن لیتے ہیں تو اُس شخص پر مُلک کے قانون کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ با الفاظِ دیگر، وزیر اعظم کسی بھی مُلکی قانوں سے با لاتر ہیں کیونکہ وُہ عوام کے ووٹوں سے مُنتخب ہیں۔ ہمارے سابقہ وزیر اعظم عدالت عالیہ اور فوج کو مُتنازعہ بنانے کے لئے اپنی سا ری توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔حالانکہ وُہ اِس حقیقت سے و اقف ہیں کہ اُنکی نا اہلی اِس بناء پر ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنی تنخواہ جو کہ اُنکے بیٹے کی کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ تھی، اُسکو اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔

نواز شریف کا استدلال یہ ہے کہ انہوں نے یہ تنخواہ بلفعل وصول ہی نہیں کی۔ لہذا اُسکو گو شواروں میں ظاہر کرنا مُناسب نہیں سمجھا گیا۔ جب کہ قانون یہ کہتا ہے کہ اِس حقیقت سے قطع نظر تنخواہ وصول نہیں کی گئی ، ہر پاکستا نی پر فرض ہے کہ وُہ اپنے آمدنی کے گوشواروں میں ہر قسم کی آمدنی ( وصول شُدہ یا غیر وصول شُدہ) کو ظاہر کرے۔ نواز شریف اپنے غیر وصول شُدہ آمدنی کو ظاہر نہ کرکے امین نہیں رہے۔ وزیر اعظم کے خیال کے مُطابق یہ ایک چھوٹی سی سہو تھی جس کو محض بہانہ بنایاگیا ہے۔ کیو نکہ عدالت عالیہ، جے آئی ٹی اور دوسرے اداروں کو ایسے اثبا ت نہیں مِلے جس سے کرپشن ثابت ہو لہذا اُنکو نا اہل ثابت کرنے کے لئے کمزور بہانہ ڈھونڈا گیا ہے۔ اِس شک کو مزید تقویت دینے کے لئے کئی تبصرہ نگاروں اور قانونی ماہرین نے اپنی آراء دی ہیں۔ عوام اور قانونی ماہرین اپنی رائے دینے کے لئے آزاد ہیں۔ نواز شریف کو عدالتی فیصلے کی رُو سے نظر ثانی کی اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں، اگر کوئی شخص عدالت عالیہ کے فیصلے سے مُتفق نہیں تو وہ عدالت سے با قاعدہ رجوع کر سکتا ہے لیکن بضیر کسی ٹھوس دلیل کہ عدالتوں پر انُگلی اٹھا کر ہم اُن کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے پر رائے زنی کرنا اور وہ بھی غلط انداز میں تو ہین عدالتِ ہے۔ ایسا شخص جو مُلک کا وزیر اعظم رہ چُکا ہو۔ اُس کے لئے عدالت کے فیصلے کا اِس طرح تمسخر اُڑانا کسی بھی با شعور آدمی کے لئے نا قابلِ فہم ہے۔ ایسی بے تُکی باتیں کرکے نواز شر یف با شعور لوگوں کی نظروں سے مزید گِر رہے ہیں۔ عوام میں پذیرائی حاصل کرنے کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کے پیش کرنا اِس حقیقت کا غماز ہے کہ نواز شریف کی نظر میں مُلکی قانون اور آئین کی کوئی پرواہ نہیں۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ اُن کو عوام نے چُنا ہے۔ با ایں وصف، وُہ مُلک کے وزیر اعظم بھی تھے۔ عدالت اور مخالف جماعتوں کو اُنکے جائز منصب سے اختلاف نہ تھا۔ اختلاف اِس بات سے تھا کہ انہوں نے ناجائیز طور پر دولت اکٹھا کی اور اِس دولت سے دوسرے ممالک میں املاک خریدیں۔ یہ املاک انہوں نے اپنے بیٹوں کے نام پر خریدیں۔ نواز شریف اور اُنکے دوسرے افرادِ خانہ اپنی آمدنی کے ذرایع ثابت کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ لیکن عدالت عالیہ نے اِس الزمات کی تحقیق کرنے اور یہ الزامات ثابت ہو جانے کی صورت میں مُناسب کارروائی کرنے کے لئے نیب کے احکام کو کام سونپ دیا ہے۔ کیونکہ عدالتِ عالیہ فنی اعتبار سے ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ نا اہلی کا فیصلہ تحریک انصاف، شیخ رشید اور جامعت اسلامی کی اپیل پر کیا گیا ہے۔لیکن اِس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اصل کرپشن تو اُن ریفرنسز سے نیب میں ثابت ہو گی اور قوی امکان ہے کہ تمام افراد کو نیب کی جانب سے سز ا مِلے گی۔ لیکن نواز شریف اور اُنکے خاند ان کے افراد کو پُورا حق حاصل ہو گا کہ وُہ اپنی بے گُناہی ثابت کر سکیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف اور اُنکے خاندان کے پاس منی ٹریل کے اثبات موجود نہیں۔ قطری شہزادے کے خطوط پیش کرکے نواز شریف اور اُ نکے وکلاء نے نا تجربہ کاری اور قانون سے عدم واقفیت کا ثبوت دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سابقہ وزیر داخلہ نے نوا شریف کی بارے میں ا پنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے با لکُل ٹھیک کہا تھا کہ نواز شریف کو اُنکے مشیروں نے اِس حال تک پہنچایا ہے۔ اِس کے علاوہ، نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ وُہ نوشتہ دیوار پڑھنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ وُہ اپنی غلط حکمتِ عملی کی وجہ سے تین بار ناکام وزیر اعظم ثابت ہوئے۔ اَب بھی جذباتی فیصلے کرکے وُہ ا یسی تا ریخ رقم کر رہے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے انتہائی مُضر ثابت ہو گی۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اُن کے ہی دورِ حکومت میں عدالت عالیہ پر حملہ کیا گیا۔ اِس دفعہ حملہ نہیں کیا گیا لیکن عدالت عالیہ کی توہیں کرکے غلط روش کی بُنیاد ڈالی۔حالا نکہ

عدالتِ عالیہ کے فیصلے کو قبول کرنے کے لئے انہوں نے لکھ کر رضامندی دی تھی۔ انہوں نے عدالت کے بنچ اور جے آئی ٹی کے قیام پر نہ

مخالف آ جانے سے اُنکی نظر میں عدالت کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ شاید میاں صاحب یہ بھُول رہے ہیں کہ مقننہ قانون سازی کر سکتی ہے۔ لیکن آئین کی تشریح کرنا عدالت عالیہ کا کام ہے۔ وُہ قانونی پہلوؤں پر اپنی رائے دینے کی مجاز ہے۔ جس معاشرے سے عدل و انصاف ختم ہو جاتاہے۔ وہُ معاشرہ انحطاط کی جانب رواں دواں ہو جا تا ہے۔فوج،عدالت اور اداروں کو متاثر کرنے کے لئے عوامی مقبولیت کی دھونس دینا ایک غیر مُناسب عمل ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔اور ہاں باسٹھ تریسٹھ میں ترمیم کرنا مُلک کے لئے نا انصافی ہوگی۔اسکا اب سب کو اندازہ ہوچکا ہے کہ سیاستدان کیوں چاہتے ہیں کہ ان شقوں کو نکال باہر کیا جائے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ