’اب اس ایک کام کیلئے غیر ملکیوں کو کفیل کی ضرورت نہ رہے گی، خود ہی اپنے کاروبار کے مالک بن سکتے ہیں‘ سعودی عرب نے غیر ملکیوں کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی، پاکستانیوں کی چاندی ہوگئی کیونکہ۔۔۔

’اب اس ایک کام کیلئے غیر ملکیوں کو کفیل کی ضرورت نہ رہے گی، خود ہی اپنے ...
’اب اس ایک کام کیلئے غیر ملکیوں کو کفیل کی ضرورت نہ رہے گی، خود ہی اپنے کاروبار کے مالک بن سکتے ہیں‘ سعودی عرب نے غیر ملکیوں کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی، پاکستانیوں کی چاندی ہوگئی کیونکہ۔۔۔

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کبھی تو یہ حالات تھے کہ غیر ملکی کسی چھوٹی سی دکان کے مالک بھی نہیں بن سکتے تھے لیکن اب اس قدر تبدیلی آ گئی ہے کہ بڑے بڑے کاروباری اداروں کی ملکیت کا حق بھی غیر ملکیوں کو دیا جا رہا ہے۔ یہ مثبت تبدیلی مملکت کے حالیہ معاشی بحران اور اس سے نمٹنے کے لئے متعارف کروائے گئے وژن 2030 منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی حکام نے فیصلہ کیاہے کہ غیر ملکیوں کو انجینئرنگ کمپنیوں کی 100 فیصد ملکیت کا حق دیا جائے گا۔

’غیرملکیوں کے خلاف یہ کام نہیں کررہے، یہ افواہ ہے‘ سعودی حکومت نے واضح اعلان کردیا، غیر ملکیوں کے سر پر منڈلاتا سب سے بڑا خطرہ ٹل گیا، سانس میں سانس آگئی

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی کامرس اینڈ انویسٹمنٹ منسٹری اور سعودی جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کم و بیش ایک سال سے اس تجویز پر غور و خوض کر رہی تھیں۔ کوئی غیر ملکی ادارہ سعودی عرب میں کسی انجینئرنگ کمپنی کا مالک بننے چاہے تو اس کے لئے دو شرائط ہوں گی۔ اول یہ کہ ادارہ متعلقہ شعبے میں کم از کم 10 سال کا تجربہ رکھتا ہو، اور دوئم یہ کہ کم از کم چار ممالک میں اس کی کاروباری خدمات فراہم کی جا رہی ہوں۔ان شرائط سے واضح ہوتا ہے کہ صرف مستحکم ملٹی نیشنل کمپنیاں ہی اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غیر ملکی ادارے کی ساکھ اور مملکت کے لئے اس کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مطلوبہ شرائط میں نرمی بھی کی جا سکتی ہے۔

مزید : عرب دنیا