پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ ماہ بلانے پر اتفاق

پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ ماہ بلانے پر اتفاق
پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ ماہ بلانے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(صباح نیوز) اسلام آباد اور کابل نے پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس آئندہ ماہ منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے،کمیشن کا اجلاس ستمبر میں بلانے کی تجویز اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر عمر زخیلوال نے پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ہونے والی ایک ملاقات کے دوران دی، اسحاق ڈار نے اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس کا انعقاد دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی شعبے میں تعاون کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سفیر اور پاکستانی وزیر خزانہ نے اس موقع پر باہمی دلچسپی کے دوطرفہ امور بشمول دونوں ملکوں کے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات کی۔افغان سفیر عمر زخیلوال نے اس موقع پر کہا کہ گزشتہ لگ بھگ دو سال میں پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اس کا آئندہ اجلاس کابل میں منعقد کرنے کی تجویز دی۔واضح رہے کہ پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا آخری اجلاس نومبر 2015 میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات گزشتتہ ایک سال سے زائد عرصے سے انتہائی کشیدہ رہے ہیں جس کی وجہ سے جہاں نہ صرف سفارتی تعلقات متاثر ہوئے بلکہ دوطرفہ تجارت پر اس کا منفی اثر پڑا دوسری طرف پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر زبیر موتی والا نے افغان سفیر اور پاکستانی وزیر خزانہ کی ملاقات کو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ "کاروباری برداری کے لیے یہ ایک خوش آئند بیان ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھی بات ہوئی ہے اور یہ اجلاس گزشتہ دو سال سے نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے کاروبار پر اثر پڑ رہا ہے اور افغانستان کے لیے ہماری برآمدات بھی کم ہوئی ہیں۔"زبیر موتی والا نے مزید کہا کہ افغانستان پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اور ان کے بقول، اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں تنا کی وجہ سے دو طرفہ تجارت کے حجم پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ"دو طرفہ تجارت کا حجم دو ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ آج یہ کم ہو کر ایک ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔ افغانستان کے دو طرفہ تجارت 80 فیصد پاکستان کے حق میں ہے۔ لیکن، اب پاکستان کی برآمدات بہت زیادہ کم ہو گئی ہیں اور یہ پاکستان کے کاروباری برادری کا بھی نقصان ہے۔"زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کے وسیع امکانات موجو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں اضافہ کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے باہمی سفارتی تعلقات کا پائیدار بنیادوں پر استوار ہونا ضروری ہے۔

مزید : اسلام آباد