سابق وزیر اعظم کا جی ٹی روڈ شو کامیاب ،نواز شریف جہلم میں ’’ناراض ساتھیوں ‘‘کو منانے کے لئے رکے ،میڈیا کو احساس ہی نہیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے :نصراللہ ملک

سابق وزیر اعظم کا جی ٹی روڈ شو کامیاب ،نواز شریف جہلم میں ’’ناراض ساتھیوں ...
سابق وزیر اعظم کا جی ٹی روڈ شو کامیاب ،نواز شریف جہلم میں ’’ناراض ساتھیوں ‘‘کو منانے کے لئے رکے ،میڈیا کو احساس ہی نہیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے :نصراللہ ملک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جہلم(ڈیلی پاکستان آن لائن)ممتاز تجزیہ کار اور سینئر صحافی نصراللہ ملک نے کہا ہے کہ میں بڑا حیران ہوں اپنے ان صحافی دوستوں اور تجزیہ کاروں سے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کا شو ناکام ہو گیا ہے ،اسلام آباد سے جہلم تک سابق وزیر اعظم اپنی حکمت عملی میں مکمل طور پر کامیاب نظر آتے ہیں،میڈیا ہاؤسز کا اللہ ہی حافظ ہو چکا ہے ،میڈیا کو احساس ہی نہیں ہے اور اپنے پاؤں پر وہ کلہاڑی مار رہا ہے جو بالآخر  اس  کی ساری افادیت کو ہی ختم کر دے گا ،ہم دیکھنے کے باوجود نہ دیکھنا چاہیں تو الگ بات ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’’نیو نیوز ‘‘ کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے نصرا للہ ملک کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف بات کر رہے ہیں سویلین بالا دستی کی ،اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ وہ زیادہ محب وطن اور دیانت دار ہے جبکہ سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کو بہتر چلا سکتے ہیں ،وہ زیادہ دیانت دار اور سمجھدار ہے ،یہ لڑائی ملک کے دو اداروں کی ہے ،یہ لڑائی ماضی میں بھی رہی ہے اب بھی ہو رہی ہے اور پتا نہیں کتنا عرصہ مزید جاری رہے گی ؟جو حکمرانی کی امید لگا کے لائن میں کھڑے ہیں اگر وہ حکومت میں آتے ہیں تب بھی یہ لڑائی رہے گی ، کوئی کسی غلط یا خوش فہمی میں نہ رہے کہ یہ لڑائی نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ان دو اداروں کی لڑائی اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب آپ کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان سب بیٹھ کر یہ فیصلہ کر لیں کہ اس ملک نے کیسے آگے بڑھنا ہے ؟اگر مل جل کر تمام ادارے آگے بڑھنے کے لئے کوشش کریں گے تب پاکستان ایک مضبوط پاکستان بن سکتا ہے ،ہر ادارے اور سیاستدان کو  ملک کی بہتری کے لئے مل جل کر کام کرنا ہو گا ۔نصراللہ ملک کا کہنا تھا کہ جہلم میں میاں نواز شریف آج کئی ناراض اور جن سے رابطے منقطع تھے ان سے ملاقاتیں کریں گے ،سابق وزیر اعظم 2018 کے انتخابات کی کیمپئن بھی چلا رہے ہیں اور اب گجرات اور گجرانوالہ ان کا ٹارگٹ ہو گا اور وہاں وہ بڑا شو کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں ؟اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل اَز وقت ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ملک میں بہت بڑی سیاسی تقسیم موجود ہے ،کبھی میاں نواز شریف بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور پیپلز پارٹی ان کی مخالف ہوتی تھی ،آپ کو یاد ہو گا ماضی میں جب بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لئے آئی جے آئی بنی  تو نواز شریف ہی تھے جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے تھے لیکن اب میاں نواز شریف نے ماضی کی راہ بدل لی ہے ،کچھ جماعتیں نواز شریف کو ’’قصہ پارینہ بنانا چاہتی ہیں اور کچھ سیاسی جماعتیں ایسا نہیں چاہتی ،مجھے اب بھی نہیں لگتا کہ تمام سیاسی جماعتیں آج کسی ایک نکتے پر اکٹھی ہو سکیں ۔نصراللہ ملک کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت میڈیا کو  ڈس کریڈٹ کیا جا رہا ہے ایک پلڑا حکومت کے ساتھ اور دوسرا مخالفت میں کھڑا ہو جائے ،دونوں اپنے اپنے مفادات لے ،میڈیا کی اس پالیسی کے بعد لوگوں کا میڈیا سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے ،میڈیا کا کام ہے کہ اگر نواز شریف کا جلسہ ہو رہا ہے وہ جلسہ دکھائے اگر عمران خان کا کوئی جلسہ ہے تو وہ دکھائے اور صیحح رپورٹنگ کر ے۔

مزید : جہلم