آسان حج

آسان حج

قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً

ترجمہ:جو لوگ حج بیت اللہ کے لیے زادِ راہ اور قدرت رکھتے ہوں ان پراللہ کی طرف سے حج کرنا فرض ہے۔۔۔حج ارکانِ اسلام میں سے پانچواں رکن ہے۔ یہ عبادت مال اور بدن دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ لہٰذا حج کیا کرو۔ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے۔ اس شخص نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج واجب ہو جاتا اور تم میں اس کی استطاعت نہ ہوتی‘‘۔

احکاماتِ قرآنی اور ارشاداتِ رسول ﷺ کے مطابق حج ہر اس شخص پر فرض ہے جو مسلمان، عاقل، بالغ اور آزاد ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی طور پر اتنی طاقت رکھتا ہو کہ سفر خرچ، آمدورفت برداشت کرسکے نیز اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل و عیال کے پاس بھی گذر بسر کا سامان پوری طرح موجود ہو۔ عورتوں کے ساتھ جب تک کوئی محرم مرد نہ ہو ان پر حج فرض نہیں۔ آج کل بعض لوگ قرض لے کر یا مانگ کر حج کرنے جاتے ہیں، یہ طریقہ اچھا نہیں ہے۔ اگر کسی شخص پر حج فرض ہو جائے اور اس میں تاخیر کرے تو تاخیر کا گناہ اس کے ذمے ہو گا۔ اس پر امام ابو حنیفہؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ کا اتفاق ہے۔ حج عمر بھر میں ایک مرتبہ ادا کرنا کافی ہے۔ اگر کئی مرتبہ ادا کیا جائے تو نورٌ علیٰ نور۔۔۔لہٰذا جب بھی انسان پر حج فرض ہو فوراً ادا کر لینا چاہیے۔ ہمارے ملک کا یہ رواج اسلامی روح کے منافی ہے کہ جب انسان بوڑھا ہو جائے تب اسے حج کے لیے روانہ کیا جاتا ہے۔ خواہ اس پر حج اس عمر سے کہیں پہلے ہی کیوں نہ فرض ہو چکا ہو۔

اصطلاحاتِ حج اور ان کے معنٰی و مطالب:

1۔ احرام: وہ خاص لباس جو حاجی کو پہننا لازم ہے۔ یہ دو چادریں ہوتی ہیں۔ ایک چادر بطور تہہ بند استعمال کی جاتی ہے اور دوسری چادر اس طرح اوڑھی جاتی ہے کہ سر ننگا رہے۔

2۔ میقات: ایک خاص مقام جہاں سے احرام باندہ کر بیت اللہ کی جانب چلنا ہوتا ہے۔ بحری جہاز کے مسافروں کے لیے ’’یلملم‘‘ کا مقام ہے جس کو آج کل سعدیہ کہتے ہیں۔ جہاز والے حاجیوں کو اس مقام کی اطلاع کر دیتے ہیں۔ اب بحری جہاز پر سفر نہیں ہوتا صرف ہوائی جہاز کے ذریعے ہوتا ہے۔ میقات لمحے بھر میں گزر جاتا ہے، اس لئے ہوائی جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ہی احرام باندھ لیا جاتا ہے۔

3۔ طواف: کعبہ کے گرد سات چکر لگانا۔ ایک چکر لگانے کو شوط بھی کہتے ہیں۔ طواف ایسی عبادت ہے جو حرم کعبہ کے علاوہ کسی اور جگہ ادا نہیں ہو سکتی۔

4۔ مطاف: کعبہ کے گرد وہ جگہ جہاں طواف کیا جاتا ہے، اسے مطقاف کہتے ہیں۔

5۔ تلبیہ: حسبِ ذیل کلمات جو دورانِ حج اور احرام باندھتے وقت پڑھنے کا حکم ہے لیکن طواف کرتے ہوئے یہ کلمات نہیں پڑھے جاتے۔وہ الفاظ یہ ہیں:

(ا) لَبِّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبِّیْکَ ۔ لَبِّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبِّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکْ۔یا

(2) لَبِّیْکَ اِلٰہَ الْحَقِّ لَبِّیْکَ ۔

6۔ ملتزم: بیت اللہ کی عمارت میں حجرِ اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان جگہ کا نام۔

7۔ حجر اسود: ایک سیاہ رنگ کا پتھر جو کعبہ کے مشرقی گوشہ میں نصب ہے۔ یہاں سے طواف کی ابتدا کی جاتی ہے۔

8۔ استلام: طواف کرتے ہوئے ہر چکر پورا ہونے پر حجرِ اسود کو بوسہ دینا استلام کہلاتا ہے۔ رش کی صورت میں ہاتھ سے اشارہ بھی کافی ہے۔ استلام کے لیے دھکم پیل کرنا درست نہیں۔

9۔ مقامِ ابرہیم: جہاں حضرت ابراہیم ؑ کے قدموں کا نشان ہے۔ بیت اللہ کے قریب موجود ہے۔ اس پتھر کو سنہری جالی میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ جالی کے پاس سے دیکھا جاسکتا ہے۔

10۔ صفاو مروہ: دو پہاڑیوں کا نام جن کے درمیان دوڑنا ہوتا ہے۔

11۔ سعی: صفا و مروہ کے درمیان دوڑنے کو سعی کہتے ہیں۔

12۔ منیٰ: ایک جگہ کا نام جو حرم کی حدود میں واقع ہے۔

13۔ عرفات: میدان کا نام جہاں 9 ذی الحجہ کو ٹھہرا جاتا ہے۔ یہ حرم کی حدود سے باہر ہے۔

14۔ وقوفِ عرفات: 9 ذی الحجہ کو زوال آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں ٹھہرنا۔

15۔ مزدلفہ: ایک جگہ کا نام جو منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔

16۔ جمرات: تین شیطان جہاں کنکر مارتے ہیں۔

17۔ رمی جمار: شیطانوں پر پتھر مارنا۔

18۔ حرم: مکہ کے گرد چاروں طرف حد بندی کر دی گئی ہے۔ اس حد بندی کے اندر کا علاقہ حرم کہلاتا ہے اور اس حد کے باہر کا علاقہ حل کہلاتا ہے۔

19۔ دم: حج میں کسی خلاف ورزی، کوتاہی یا غفلت کی وجہ سے بطور کفارہ قربانی دینا پڑتی ہے، اس کو دم کہتے ہیں۔

حج کی اقسام

حج کی تین اقسام ہیں۔

1۔ قِران 2۔ تمتّع 3۔ افراد

قِران: حج اور عمرہ دونوں کے لیے میقات سے ایک ہی احرام باندھنا۔

تمتّع: حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کے لیے احرام باندھ کر صرف عمرہ کرناپھر حج کے لیے دوبارہ احرام باندھ کر حج کرنا۔

افراد: میقات سے صرف حج کا احرام باندھنا۔

ان تینوں اقسام میں سے کسی ایک قسم کے حج کی آپ کو نیت کرنا ہو گی۔ حج قِران مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں پابندی زیادہ ہے۔ عام طور پر حجاج حج تمتع کی نیت کرتے ہیں۔

احرام باندھنا: اگر آپ بحری جہاز سے سفر کر رہے ہیں تو سعدیہ کے مقام پر پہنچ کر احرام باندھنے کی نیت کر لیجئے۔ غسل کیجئے۔ یہ غسل سنت مؤکدہ ہے اور پھر احرام باندھ لیجئے۔ اگر آپ ہوائی جہاز سے سفر کر رہے ہیں تو ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے قبل کراچی، لاہور یا پشاور یا اپنے مقام سے ہی آپ کو احرام باندھنا ہو گا۔ احرام باندھنے کے بعد اگر مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نفل ادا کریں۔ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ یَا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ دوسری رکعت میں قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ پڑھیں۔ پھر مذکورہ بالا تین اقسام میں سے ایک قسم کے حج کا احرام باندھیں یعنی نیت کریں۔ احرام باندھتے وقت تلبیہ کہئے۔

لَبِّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبِّیْکَ ۔ لَبِّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبِّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکْ۔

کبھی یہ بھی پڑھ لیجئے۔

لَبِّیْکَ اِلٰہَ الْحَقِّ لَبِّیْکَ ۔

تلبیہ کہہ چکنے کے بعد یہ دعا پڑھئے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ غُفْرَانَکَ وَ رِضْوَانَکَ اَللّٰھُمَّ اَعْتِقْنِیْ مِنَ النَّارَ ۔

اب آپ حالتِ احرام میں ہیں۔ اب بیشتر وقت دعا و اذکار یا تلبیہ میں مصروف رہئے۔

تلبیہ ہلکی بلند آواز سے کہنا مستحب ہے۔

ٹیبل

حرم شریف میں داخلہ: تلبیہ ، دعا و اذکار کرتے ہوئے انتہائی ادب و احترام سے حرم شریف میں داخل ہو جائیے۔ مسجد حرام میں باب السلام سے داخل ہونا مستحب ہے۔ حرم شریف میں داخل ہونے کو بعد حسبِ ذیل کام کیجئے:۔

پہلا کام طواف: طواف سے پہلے طواف کی نیت کرنا فرض ہے۔ طواف کرتے ہوئے تلبیہ نہ کہیں، بلکہ درج ذیل دعا پڑھیں۔

رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ

طواف کے سات چکر ہوتے ہیں۔ ہر چکر حجرِ اسود سے شروع ہوتا ہے۔ جب ایک چکر پورا کر لیں تو حجرِ اسود کو بوسہ دیں یعنی استلام کریں۔ اگر بھیڑ کی وجہ سے بوسہ ممکن نہ ہو تو اشارہ بھی کافی ہے۔ ہر مرتبہ جب حجرِ اسود پر پہنچیں تو اللہ اکبر کہیں۔ حجرِ اسود کے علاوہ رکن یمانی کا استلام بھی مستحب ہے۔ رکن یمانی جنوبی طرف کا کونہ ہے۔ اس کو دایاں ہاتھ یا دونوں لگا کر چوم لیجئے۔

طواف کے بعد یہ دعا پڑھئے:

الف: اَللَّھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَبَارِک لِیْ فِیْہِ وَاخْلُفْ عَلٰے کُلِّ غَائبَۃٍ لِیْ بَخَیْرٍ۔

ب: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰے کُلِّ شَیئ قَدِیْرِ ۔

دوسرا کام : مقامِ ابراہیم ؑ پر دوگانہ نفل۔ طواف سے فارغ ہو کر مقامِ ابراہیم ؑ کے قریب آیئے اور یہ آیت پڑھئے۔

وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی۔

اب مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کرکے (یعنی اس طرح کہ دونوں سامنے ہوں) دو رکعت نماز طواف پڑھئے۔ (پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ یَا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ اور دوسری رکعت میں قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدْ پڑھئے۔ یہ دو نفل احناف کے نزدیک واجب ہیں۔ یہ نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ حجرِ اسود کو بوسہ دیجئے۔ پھر ملتزم سے چمٹ چمٹ کر رویئے۔ دعائیں مانگئے۔ پھر چاہ زم زم پر آکر قبلہ رو کھڑے ہو کر خوب پانی پیجئے اور یہ دعا پڑھئے۔

اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ عِلْماً نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَاءً مًِنْ کُلِّ دَاعٍ۔

ترجمہ:اے اللہ میں تجھ سے نفع بخش علم اور خوب وافر رزق اور ہر بیماری سے شفا یابی کی دعا مانگتا ہوں۔

تیسرا کام : صفا مروہ کی سعی۔ اب مسجدِ حرام سے باب الصفا کی طرف سے نکل کر صفا (پہاڑی) کی طرف روانہ ہوں۔ پہاڑی کے قریب پہنچ کر یہ آیت پڑھئے۔

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاءِرِ اللّٰہِ۔

پھر یہ پڑھئے۔

اَبْدَ أُبِمَا بَدَاَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ ۔

یہ پڑھنے کے بعد صفا پہاڑی پر چڑھئے۔ یہاں تک کہ بیت اللہ نظر آنے لگے۔ اب قبلہ رو ہو کر تین مرتبہ پڑھئے۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَر ۔

پھر یہ دعا پڑھیئے۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰے کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَھٗ وَنَصَرَ عَبْدَھٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَھٗ۔

یہ دعا پڑھنے کے بعد جو دل میں آتا ہو اللہ سے مانگتے رہئے۔ اس کے بعد انہی کلماتِ مذکورہ بالا کو تین مرتبہ کہہ کر صفا سے مروہ کی جانب اُتر آیئے۔ مروہ کی طرف چلئے، کچھ فاصلہ کے بعد دو بڑے بڑے ستون نظر آئیں گے۔ ان دونوں ستونوں کے درمیان کا فاصلہ درڑ کر عبور کیجئے۔ اس عمل کو سعی کہتے ہیں۔ دونوں ستونوں کے درمیان دوڑتے ہوئے یہ دعا بھی پڑھئے۔

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمُ ۔

پھر مروہ پہاڑی کے اوپر چڑھئے اور اسی طرح وہی دعائیں پڑھئے جو آپ نے صفا کے اوپر پڑھی تھیں۔

اس طرح صفا سے مروہ تک ایک چکر ہوا اور مروہ سے صفا تک دوسرا چکر۔ اسی طرح آپ کو سات چکر پورے کرنا ہیں۔ آپ کا ساتواں چکر مروہ پر ختم ہو گا۔

صفا مروہ پر یہ دعائیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔

صفا پر چڑھنے کے بعد تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھیئے۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰے کُلِّ شَیئ قَدِیْرِ ۔

صفا پر یہ دعا بھی پڑھئے:۔

اَللَّھُمَّ اِنَّکَ قُلْتَ اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ وَ اِنّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ وَاِنِّیْ اَسْءَلُکَ کَمَا ھَدَیْتَنِیْ لِلْاِسْلَامِ اَنْ لَاتُنْزِعَہٗ مِنِّی حَتّٰی تَتَوَ فَّانِیْ وَ اَیَا مُسْلِمٌ۔

ان دعاؤں کے علاوہ جو دلی مرادیں ہیں اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہئے۔

طریقہ حج

حج کے پانچ دن مقرر ہیں۔ 8 ذی الحجہ سے لے کر 12 ذی الحجہ تک، ذیل میں روزانہ کئے جانے والے اعمال کا مفصل ذکر ہے۔

8 ذی الحجہ

آج آپ نے حسبِ ذیل کام کرنا ہیں۔

1۔ حج کے ارادہ سے غسل کرکے احرام باندھ لیجئے (یہ احرام باندھنا فرض ہے)۔

2۔ فجر کی نماز مکہ مکرمہ میں ادا کیجئے۔

3۔ طلوعِ آفتاب کے بعد منٰی کی طرف روانہ ہو جایئے۔ پیدل یا سواری پر جیسے ممکن ہو۔ راستہ میں تلبیہ کہیں، استغفار پڑھیں، درود پڑھیں۔ منٰی میں ایک رات ٹھہرنا سنت ہے۔

4۔ منٰی میں آپ کو پانچ نمازیں ادا کرنا ہیں۔ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور 9 ذی الحجہ کی فجر کی نماز۔

9 ذی الحجہ

آج آپ کو حسبِ ذیل کام سر انجام دینے ہیں۔

1۔ فجر کی نماز منٰی میں ادا کرنے کے بعد میدانِ عرفات کی طرف چل دیجئے۔ راستے میں تلبیہ اور تکبیر پڑھتے جائیے۔

2۔ عرفات کے قریب پہنچ کر کلمہ، تکبیر اور تمجید کے بعد مخصوص دعائیں پڑھئے جو آگے لکھی جا رہی ہیں۔

3۔ ممکن ہو تو وقوفِ عرفات کی نیت کرکے غسل کر لیں ورنہ وضو کافی ہے۔

4۔ آج ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرکے پڑھنا سنت ہے۔ اگر آپ حنفی ہیں تو نماز میں قصر مت کریں، پوری رکعتیں پڑھیں۔ غیر احناف یہاں پر قصر کے قائل ہیں۔

5۔ وقوفِ عرفات، عرفات میں ٹھہرنے کا وقت زوالِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہے۔ یہ فرض ہے۔ اس دوران اگر کسی وقت بھی عرفات کے میدان میں پہنچ جائیں تو حج ہو جاوے گا، وگرنہ نہیں۔ البتہ یہ خیال رہے کہ غروبِ آفتاب سے قبل میدانِعرفات کو مت چھوڑیئے وگرنہ دم (قربانی) لازم آئے گی۔ میدانِ عرفات میں سار ا وقت اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے میں صرف کیجئے۔ ممکن ہو تو کسی بزرگ کے حلقہ میں پہنچ جائیں اور دعائیں مانگتے رہیں۔

6۔ غروبِ آفتاب کے بعد میدانِ عرفات سے مغرب کی نماز ادا کئے بغیر مزدلفہ کی جانب روانہ ہو جائیے۔ راستے میں تلبیہ اور دعائیں پڑھئے۔ آج آپ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اورعشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کریں گے۔

7۔ تمام رات مزدلفہ میں قیام کیجئے۔ ممکن ہو تو جاگتے رہئے۔ تلاوت اور اذکار میں مشغول رہئے۔ یہ رات لیلۃ القدر سے افضل ہے۔ 10 ذی الحجہ کی صبح تک مزدلفہ میں قیام سنت ہے۔

8۔ صبح کو فجر کی نماز ادا کرکے طلوعِ آفتاب سے ذرا قبل منٰی کی طرف روانہ ہو جایئے۔ راستے میں وادی محسر آئے گی۔ یہاں سے تیزی کے ساتھ گذر جایئے۔

9۔ چلنے سے قبل سات کنکریاں مزدلفہ سے اٹھا لیجئے۔ یہ مستحب ہے۔ اگر آپ چاہیں تو منٰی پہنچ کر یا راستے سے بھی اٹھا سکتے ہیں۔ یہ خیال رہے کہ جمرہ (شیطان) کے قریب سے کنکر نہ اٹھائیں۔ اگر آپ چاہیں تو تمام یعنی 49 کنکریاں مزدلفہ سے اٹھا سکتے ہیں۔

دعائیں

عرفات کی طرف روانگی کے وقت: آج مختلف مقامات پر پڑھنے والی مسنون دعائیں حسبِ ذیل ہیں۔

1۔ آج جب آپ میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوں تو راستے میں برابر تلبیہ اور تکبیر کہتے رہئے۔

2۔ عرفہ کے دن کی بہترین دعا یہ ہے۔ (کلمہ توحید)

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰے کُلِّ شَیئ قَدِیْرِ ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے جو عرفہ (کے دن) سب سے زیادہ دعا کی ہے وہ کلمہ توحید ہے اور یہ (مذکورہ بالا) دعا ہے۔

3۔ مذکورہ بالا کلمۂ توحید کے بعد یہ دعا پڑھئے۔

اَللَّھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا اَللَّھُمَّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرً لِیً اَمْرِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَسَارِسِ الصَّدْرِ وَ شَتَاتِ الْاَمْرِ وَ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ اَللَّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مَنْ شَرِّ مَا یَلِجُ فِیْ النَّھَارِ وَ شَرِّ مَا تَھُبُّ بِہِ الرِّیَاحُ۔

میدانِ عرفات پہنچ کر:

1۔ جب آپ میدانِ عرفات میں جاکر ٹھہریں تو کثرت سے تلبیہ پڑھیں۔ حدیثِ رسول ﷺ کے مطابق عرفات میں تلبیہ پڑھنا سنت (مؤکدہ) ہے۔

2۔ تلبیہ کے بعد یہ دعا پڑھیں:

اِنَّمَا الْخَیْرُ خَیْرُ الْآخِرَۃِ ۔

3۔ آج جب آپ ظہر اور عصر کی نمازیں (اکٹھی) ادا کر چکیں تو پھر ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھیں۔

اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لَلّٰہِ الحَمْدُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لَلّٰہِ الحَمْدُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لَلّٰہِ الحَمْدُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ اَللَّھُمَّ اھْدِنِیْ بِاالھُدٰی وَ نَقِّنِیِ بِالتَّقْوٰی وَاغْفِرْلِیْ فِیْ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔

4۔ اب ہاتھ نیچے کر لیجئے اور اتنی دیر خاموش رہئے جتنی دیر سورہ فاتحہ پڑھی جاتیہے۔ پھر دوبارہ ہاتھ اٹھا کر اسی طرح عمل کیجئے جیسا پہلے کیا تھا۔

مزدلفہ میں قیام کے دوران:

1۔ مزدلفہ میں صبح صادق طلوع ہونے کے بعد قبلہ رو ہو کر دعا تکبیر، تہلیل، توحید پڑھتے رہئے، یعنی وہ تمام کلمات اور دعائیں جو آپ نے میدانِ عرفات میں پڑھی تھیں وہی یہاں پڑھتے رہئے۔ یہاں تک کہ دن کی روشنی اچھی طرح پھیل جائے۔

2۔ جب آپ مزدلفہ سے منٰی کی طرف چلنے لگیں تو راستے میں متواتر تلبیہ پڑھتے رہیں حتی کہ شیطان کو کنکریاں مارنے کا وقت آجائے۔

10 ذی الحجہ(یوم النحر)

آج 10 ذی الحجہ ہے۔ اس دن کو یوم النحر بھی کہتے ہیں۔ اس وقت آپ مزدلفہ سے منٰی پہنچ چکے ہیں۔ آج کے اعمال یہ ہیں:

1۔ رمی، جمرۃ العقبہ: یعنی صرف بڑے شیطان کے سامنے پہنچ کر سات کنکریاں دائیں ہاتھ سے ماریئے۔ اگر کنکر اسے نہ لگے قریب گر جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کنکرمارنے کے بعد لبیک کہنا بند کر دیجئے۔ ہر کنکر مارتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبرکہئے۔

یہ کام زوال سے پہلے ختم کر لیجئے یہی مسنون وقت ہے۔

2۔ اس کے بعد دعا نہ مانگئے، بلکہ قربانی کے لیے تیاری کیجئے۔

3۔ قربانی کر چکنے کے بعد سر کے بال منڈوا دیجئے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک بالوں کا چوتھائی حصہ کتروانا واجب ہے۔ عورتیں انگلی کے ایک پور کے برابر بال کٹوائیں۔ بال کٹوانے کے بعد دعا مانگئے۔ نیز امام اعظم ؒ کے نزدیک رمی، قربانی اور حجامت اسی ترتیب کے ساتھ واجب ہیں۔ ترتیب سے کیجئے۔ وگرنہ دم لازم آئے گا۔

4۔ اب احرام کھول دیجئے۔

5۔ اس کے بعد طوافِ زیارت کے لیے مکہ چلئے۔ یہ طواف حج کا رکن ہے اور فرضہے۔ اس طواف کی اجازت 12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔

6۔ طواف کے بعد خانہ کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا کرکے فوراً واپس منٰی چلے آیئے اور ظہر کی نماز آکر منٰی میں ادا کیجئے۔ رات کے وقت منٰی میں رہنا واجب ہے۔

آج مختلف اوقات اور مقامات کی دعائیں حسبِ ذیل ہیں۔

منٰی میں قربانی کے وقت:

1۔ قربانی کرتے وقت یہ نیت کیجئے اور پڑھیئے:

اَللَّھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ

2۔ پھر یہ دعا پڑھئے:

اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰے مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اِنَّ صَلٰوتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَخْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بَذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللَّہُ اَکْبَرُ۔

3۔ اس کے بعد جانور کے گلے پر پاؤں رکھ کر چھری چلا دیجئے۔

4۔ اگر اونٹنی ہو تو زمین پر لٹانے کی بجائے پاؤں باندھ کر کھڑا کرکے ذبح کیجئے اور یہ پڑھئے۔

اَللّٰہُ اَکْبَرُ ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ۔ اَللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ

11، 12 ذی الحجہ

یہ ایام منٰی میں قیام کرنے کے ہیں۔ آپ چاہیں تو 13 تاریخ کو بھی ٹھہر سکتے ہیں۔ اپنی سہولت دیکھئے۔

اس قیام کے دوران آپ کو روزانہ زوال کے بعد رمی کرنا ہو گی جس کی ترتیب یہ ہے۔

1۔ پہلے جمرہ اولیٰ (چھوٹا شیطان) پر سات کنکریاں ماریئے اور ہر کنکر مارتے وقت اللہ اکبر کہئے۔

2۔ پھر ذرا آگے بڑھ کر ہموار زمین میں آئیے اور دیر تک قبلہ کی طرف رُخ کرکے کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کیجئے۔

3۔ پھر جمرہ وسطیٰ (درمیانہ شیطان) پر اسی طرح سات کنکریاں اللہ اکبر کہہ کر ماریئے۔ پھر شمال کی جانب آگے بڑھ کر قبلہ رو کھڑے ہو جایئے۔ ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعائیں مانگئے۔

4۔ پھر جمرہ عقبہ (بڑا شیطان) پر اسی طرح سات کنکریاں اللہ اکبر کہہ کر ماریئے مگر اب یہاں پر مت ٹھہریئے اور چلتے ہوئے یہ دعا مانگئے۔

اَللَّھُمَّ اجْعَلَہُ حَجًّا مَّبْرُورًا وَّذَنْبًا مَّغْفُوْرًا۔

منٰی سے واپسی:

12 یا 13 ذی الحجہ کو منٰی سے واپس مکہ چلئے۔ راستے میں وادی محصب آئے گی۔ یہاں پر ٹھہریئے۔ آپ چاہیں تو تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر سکتے ہیں، لیکن سنت یہ ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء یہیں پڑھی جائیں۔ پھر ذرا لیٹ کر مکہ مکرمہ جایا جائے۔

آپ کو مبارک ہو، آپ کا حج مکمل ہو گیا

اس کے بعد آپ کو حسبِ ذیل دو کام کرنے ہیں۔

1۔ طوافِ وداع

2۔ مدینہ منورہ میں روضۂ رسول مقبول ﷺ پر حاضری۔

طوافِ وداع:

جب آپ مکہ سے واپس اپنے گھر لوٹنے لگیں تو طوافِ وداع کریں۔ یہ طواف واجب ہے ۔ اس کا وقت طواف زیارۃ کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور آخری وقت کی کوئی قید نہیں۔

روضۂ رسولِ مقبول ﷺ کی حاضری:

روضۂ رسول ﷺ کی حاضری حج کے فرائض و واجبات کا حصہ نہیں۔ ہر حاجی عشقِ رسول کی تڑپ دل میں رکھتے ہوئے روضۂ اقدس پر حاضری کو اپنے لیے باعثِ سعادت مندی و سرفرازی سمجھتا ہے۔ حکومتِ سعودی عرب اپنی سہولت کے پیشِ نظر بعض حجاج کو حج سے قبل اور بعض کو حج کے بعد مدینہ منورہ جانے کی اجازت دیتی ہے۔ آپ کو جس وقت بھی موقع میسر آئے، انتہائی ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ محبت اور شوق کے جذبات لیے ہوئے دربارِ نبوی میں حاضری دیجئے۔ جالی کے سامنے آکر یہ تصور کریں کہ حضور اکرمﷺ تمام معروضات خود سن رہے ہیں۔ اب پورے ادب سے سلام عرض کریں۔

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ ۔

پھر اپنے بزرگوں دوستوں کا سلام پیش کریں اور ساتھ ساتھ اس عاجز و گنہگار بندہ محمد طاہر کا سلام بھی خدمتِ اقدس میں پیش کر دیں اور عرض کریں کہ اس ناکارہ کو بھی بار بار حاضری کا پروانہ ملے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ بھی آپ ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔ ان کی خدمت میں سلام نیاز پیش کریں۔ یہ تمام عمل کرتے ہوئے قرآنِ حکیم کی یہ آیت ہر وقت شعور میں رکھئے۔

یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ قَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھُرُوْا لَہٗ بِاالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضِ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنo

ترجمہ: اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو اسی طرح ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اب دل میں اپنی خامیوں، کوتاہیوں پر احساس ندامت دوبارہ حاضری کی توفیق مانگتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ آئیے۔

مزید : ایڈیشن 1