ایٹمی حملے کیلئے امریکی فضائیہ کا ہدفجاپانی شہر کو کتا تھا موسم کی خرابی کے باعث ناگاساکی کو نشانہ بنایا گیا

ایٹمی حملے کیلئے امریکی فضائیہ کا ہدفجاپانی شہر کو کتا تھا موسم کی خرابی کے ...

لندن( خصوصی رپورٹ )چھ اگست سنہ 1945 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا۔ اس دھماکے کے بعد 13 مربع کلومیٹر تک کے علاقے میں تباہی پھیل گئی تھی۔جبکہ اس کے تین دن بعد ناگا ساکی پر ایٹم بم گرایا گیا ۔ایک جھٹکے میں ہزاروں زندگیاں برباد ہو گئیں۔ حالانکہ ناگاساکی اصل نشانہ نہیں تھا۔آٹھ اگست 1945 کی رات گزر چکی تھی۔ امریکہ کے بم گرانے والے بی۔ 29 سْوپر فوٹریس طیارے پر بم لدا ہوا تھا۔ بڑے سے تربوز کے سائز والے اس بم کا وزن 4050 کلوگرام تھا۔اس دوسرے بم کے نشانے پر جاپان کا صنعتی شہر کوکرا تھا۔ یہاں جاپان کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں تھیں۔صبح نو بج کر پچاس منٹ پر نیچے کوکرا نظر آنے لگا۔ اس وقت بی۔ 29 طیارہ 31 ہزار ?فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔لیکن شہر کے اوپر بادل تھے۔ طیارہ فضا میں گھوم کر بادلوں کے ہٹنے کا انتظار کرتا رہا۔ بی۔ 29 پھر سے لوٹ کر کوکرا پر آیا لیکن جب بم گرانے کا وقت آیا تو شہر پر دھوئیں کا قبضہ تھا اور نیچے توپیں آگ اگل رہی تھیں۔بی۔ 29 کا ایندھن تیزی سے کم ہو رہا تھا اور اب طیارے میں صرف اتنا ایندھن ہی بچا تھا کہ وہ واپس لوٹ سکے۔ طیارہ زیادہ دیر فضا میں انتظار نہیں کر سکتا تھا۔اس مہم کے گروپ کپتان لیونارڈ چیشر نے بعد میں بتایا ‘ہم نے صبح نو بجے پرواز شروع کی تو کوکرا نشانے پر تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بادل تھے۔ تبھی ہمیں اس علاقے کو چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔ اور ہم دوسرے ٹارگٹ کی طرف بڑھے جو کہ ناگاساکی تھا۔‘کچھ ہی دیر میں ایک بھاری بھرکم بم تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ 52 سیکینڈ تک گرنے کے بعد بم زمین سے 500 فٹ اونچائی پر پھٹ گیا۔گھڑی میں وقت تھا گیارہ بج کر دو منٹ۔ کھمبی کی شکل کا آگ کا ایک بہت بڑا گولا اٹھا جس کا سائز آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور پورے شہر کو نگل گیا۔ناگاساکی کے ساحل پر کھڑی تمام کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی تھی۔ کوئی یہ جان بھی نہیں سکا کہ ان کے شہر کے ساتھ ہوا کیا۔ احساس ہونے سے پہلے سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔شہر کے باہر چند جنگی قیدی کانوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بتایا ‘پورے شہر سے انسانوں کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ کچھ بہت ہی غیر معمولی ہوا ہے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ لوگوں کے چہرے، ہاتھ، پیر گل رہے تھے۔ ایٹم بم کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔‘ناگاساکی پہاڑوں سے گھرا تھا اس لیے تباہی 6.7 مربع کلومیٹر سے باہر نہیں پھیل سکی۔ بعد میں اندازہ لگایا گیا کہ ہیروشیما میں ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ ناگاساکی میں مرنے والوں کی تعداد 74 ہزار تھی۔1945 میں ایک عام جاپانی کی زندگی بہت مشکل ہو گئی تھی۔ انڈے، دودھ، چائے اور کافی دکانوں سے غائب ہو گئے تھے۔ سبزیاں سونے کے بھاؤ بکتی تھیں اور پیٹرول عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو گیا تھا۔سڑکوں پر نجی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ صرف فوجی ٹرک نظر آتے تھے یا پھر پیدل یا سائیکل سوار شہری۔چھ اگست 1945 کو صبح سویرے جاپانی ریڈاروں نے دیکھا کہ چند امریکی جہاز جنوب کی طرف سے اڑتے ہوئے آ رہے ہیں۔ سائرن بجنا شروع ہو گئے، ریڈیو نشریات بند ہو گئیں۔ اس وقت پیٹرول کی اس قدر قلت تھی کہ ان جہازوں کو روکنے کے لیے جاپانی جہاز اڑ نہیں سکے۔ آٹھ بجے ریڈیو پروگرام دوبارہ شروع کر دیے گئے۔آٹھ بج کر نو منٹ پر امریکی فضائیہ کے کرنل پال ٹبیٹس بی29 طیارے کے انٹرکام سے اپنے ہوابازوں سے مخاطب ہوئے: 'اپنے گاگلز ماتھے پر رکھ لیں۔ جیسے ہی الٹی گنتی شروع ہو، فوراً انھیں پہن لیں اور اس وقت تک پہنے رکھیں جب تک آپ کو نیچے زبردست روشنی نہ دکھائی دے۔'ہوائی جہاز کے پیٹ میں ساڑھے 11 فٹ لمبا، چار ٹن وزنی نیلے اور سفید رنگ کا بم تھا جس کا نام 'لٹل بوائے' تھا۔ نیو میکسیکو کی ٹاپ سیکرٹ لیبارٹری میں بننے والے اس 'بم' کا وجود اس قدر خفیہ رکھا گیا تھا کہ امریکی نائب صدر تک کو اس کا علم نہیں تھا۔سوا آٹھ بجے یہ بمجہاز کے پیٹ سے چھوڑ دیا گیا۔ اسے زمین تک پہنچتے پہنچے 43 سیکنڈ لگے۔ جلد ہی ہواباز میجر چارلز سوین نے شہر کے مرکز سے آگ کا ایک عظیم گولہ اوپر اٹھتے دیکھا۔شہر کے وسط میں جو کچھ تھا وہ لمحے میں بھسم ہو گیا۔ بم گرنے کے مقام سے 15 کلومیٹر کے دائرے میں ہر شیشہ پگھل گیا۔ درج? حرارت ایک لاکھ درجے تک جا پہنچا۔ پورا شہر آگ کے طوفان کے تھپیڑے کھانے لگا۔ شہر کی ڈھائی لاکھ لوگوں میں سے 80 ہزار ایک لمحے کے اندر اندر جل کر بھسم ہو گئے۔جہاز کے پچھلے حصے میں بیٹھے باب کارن نے اپنے کوڈک کیمرے سے نیچے کے منظر کی تصویر لے لی جس میں جامنی بادلوں کے اندر سے روشنی کا تین ہزار فٹ بلند مشروم کی شکل کا مرغولہ اوپر اٹھ رہا ہے۔ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کے نتیجے میں کم از کم 74 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھیفوکوئیچی نامی ہیروشیما کے باسی اس منظر کے بارے میں لکھتے ہیں۔'اچانک میں ایک عظیم آگ کا گولہ دیکھا جو سورج سے کم از کم پانچ گنا بڑا اور دس گنا زیادہ روشن تھا۔ یہ سیدھا میری طرف آ رہا تھا۔'شریک ہواباز رابرٹ لوئس نے اپنی لاگ بک میں لکھا: 'میرے خدا، یہ ہم کیا کر رہے ہیں؟'37 سالہ مقامی صحافی ناکامورا اس وقت ہیروشیما سے باہر تھے، لیکن دھماکے کے اثر سے وہ گر پڑے اور ان کا چہرہ شیشہ لگنے سے زخمی ہو گیا۔ تاہم انھوں نے اپنی موٹر سائیکل اٹھائی اور شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔وہ ہیروشیما کی تباہی دیکھنے والے پہلے صحافی تھے۔ انھوں نے اپنے اخبار کو بریکنگ نیوز بھیجی: 'سوا آٹھ بجے دشمن کے دو جہازوں نے ہیروشیما پر کوئی خصوصی بم گرا دیا ہے۔ ہیروشیما مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔'جب اخبار کے بیوروچیف کو یہ خبر ملی تو اس نے یقین کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ فوج اس بات کو تسلیم نہیں کر رہی کہ شہر تباہ ہو گیا ہے اور اتنی تعداد میں لوگ مر گئے ہیں۔ اس نے ناکامورا سے کہا کہ وہ ہلاکتوں کی تعداد کو کم کر دے۔ناکامورا نے جواب دیا، 'فوج بیوقوف ہے!'تین دن بعد نو اگست کو ایک اور جاپانی شہر ناگاساکی پر اسی قسم کا ایک اور بم گرا دیا گیا۔ اس بار بم کا نام 'فیٹ مین' (موٹا آدمی) تھا۔ اسے بوکسکار طیارے سے گرایا گیا اور اس کے پائلٹ کا نام میجر چارلس سوینی تھا۔ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم کے نتیجے میں کم از کم 74 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید : عالمی منظر