خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد، پنجاب کا انتظار

خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد، پنجاب کا انتظار

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سوات سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے منتخب رکن محمود خان کو صوبے کا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا ہے، وہ تحریک انصاف کی سابق حکومت میں پہلے وزیر داخلہ ، وزیر آبپاشی اور بعد میں کھیلوں کے وزیر رہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مالا کنڈ ڈویژن سے کوئی رکن اسمبلی صوبے کا وزیراعلیٰ بنے گا ، محمود خان ارب پتی ہیں وسیع جائیداد کے مالک ہیں۔ اپریل 2014ء میں اُن کا نام اُس وقت نمایاں ہونا شروع ہوا جب پشاور ہائی کورٹ میں اُن کے خلاف کرپشن کا ایک مقدمہ دائر ہوا، جس میں اُن پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے18 لاکھ روپے کے فنڈ اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کئے تھے تاہم اِس ضمن میں ہونے والی تحقیقات میں اُنہیں اِس الزام سے بری الذمہ قرار دیا گیا اور فنڈز کی منتقلی کا ذمہ دار محکمہ سپورٹس کے ماتحت افسروں کو قرار دیا گیا۔ محمود خان کی نامزدگی سے وہ ساری قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں،جو ممکنہ وزیراعلیٰ کے متعلق کی جا رہی تھیں اور ان میں(سابق وزیراعلیٰ) پرویز خٹک، سابق سپیکر اسد قیصر اور سابق وزیر عاطف خان کے نام لئے جا رہے تھے۔

خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک پانچ سال تک وزیراعلیٰ ہے،لیکن یہ حکومت مخلوط تھی اس میں قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی بھی شریک تھیں۔ اول الذکر کے وزراء کو ایک بار کرپشن کے الزام میں برطرف کیا گیا تاہم کچھ عرصے کے بعد اُنہیں دوبارہ شریکِ اقتدار کر لیا گیا۔پھر اسلام آباد کے ناکام دھرنے کے بعد اُنہیں یہ کہہ کر حکومت سے الگ کر دیا گیا کہ قومی وطن پارٹی نے تحریک انصاف کی سیاسی جدوجہد میں اس کا ساتھ نہیں دیا، اِس لئے اُسے شریک حکومت نہیں رکھا جا سکتا، جماعت اسلامی البتہ آخر تک حکومت کا حصہ بنی رہی۔ اگرچہ خیبر بینک اور بعض دوسرے معاملات پر جماعت اسلامی کے حکومت سے اختلافات بھی پیدا ہوئے تاہم اس کے باوجود وہ شاملِ حکومت رہی۔

پرویز خٹک کو چونکہ ایک مخلوط حکومت چلانا تھی اِس لئے وہ دوسری جماعتوں کے تعاون کے حصول کی خاطر اُن کے بعض مطالبات ماننے پر بھی مجبور تھے اُن کا دعویٰ رہا ہے کہ انہوں نے صوبے میں پولیس کلچر تبدیل کر دیا، پٹوار خانوں سے رشوت کا خاتمہ کیا، ہسپتالوں اور سکولوں کی اصلاح کی، ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کا پابند بنایا اور سرکاری سکولوں کے معاملات اِس حد تک درست کر دیئے کہ لوگوں نے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں سے اُٹھا کر سرکاری سکولوں میں داخل کروا دیئے۔ اس کے علاوہ اُن کی حکومت میں صوبے میں ایک ارب20 کروڑ درخت بھی لگائے گئے۔ اگرچہ اس پر مختلف النوع الزامات بھی لگے اور یہ بھی کہا گیا کہ پرائیویٹ نرسریوں سے مہنگے پودے خرید کر اقربا پروری کی گئی اور اس کے ساتھ ہی خود رو پودوں کو اپنی کاوشوں کا حصہ بنا دیا گیا تاہم جتنے پودے لگائے گئے اگر ان کا تیسرا حصہ بھی پورے درخت بن جائیں تو اِسے ایک کامیاب پراجیکٹ ہی کہا جائے گا۔سکولوں اور ہسپتالوں کی اصلاح ہوئی یا نہیں اس کی گواہی صوبے کے لوگ بہتر دے سکتے ہیں۔

اگر تحریک انصاف صوبے کی حالت بدلنے کی جائز دعویدار تھی تو اِس کا کریڈٹ ہر صورت میں پرویز خٹک کو ہی جائے گا، کیونکہ اس دوران صوبائی حکومت کے چیف ایگزیکٹو وہی تھے اُن کی کارکردگی کا اعتراف بھی ہونا چاہئے ،خصوصاً دھرنے کے دِنوں میں انہوں نے اس کی کامیابی کے لئے صوبے کے وسائل جس طرح خرچ کئے وہ بھی اُن ہی کا حوصلہ تھا،وہ بجا طور پر اس کی امید بھی رکھتے ہوں گے کہ اُنہیں دوبارہ وزیراعلیٰ بنایا جائے گا،لیکن اب کی بار پارٹی چیئرمین کی نظرِ انتخاب ایک دوسرے رکن پر پڑی ہے ،جو صوبائی وزیر رہنے کے باوجود سیکنڈلوں کی زد میں نہیں رہا اور اس کی شہرت بھی اچھی ہے، اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ صوبے کو پہلے سے بہتر انداز میں چلائیں گے اور پرویز خٹک کے دور میں جو کام نہیں ہو سکے اور عوام جن کی توقع کر رہے تھے اب وہ اُن کی طرف توجہ دیں گے۔عمران خان کے فیصلے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی رُک گیا ہے،جو الیکشن کے نتائج آنے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ سوات سے تحریک انصاف نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستیں جیتی ہیں،اِس لئے اِس علاقے سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی خواہش تھی کہ اگلا وزیراعلیٰ اِس علاقے سے ہونا چاہئے تاکہ وہ دہشت گردی سے بُری طرح متاثرہ اس علاقے کی تیزی سے بحالی میں کردار ادا کر سکے، اِس لئے پارٹی قیادت نے یہ فیصلہ کرکے خطے کے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے اور امید ہے کہ نئے وزیراعلیٰ علاقے کی بحالی کے لئے وفاق سے زیادہ فنڈز کے حصول میں کامیاب ہو جائیں گے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ کے نام کا اعلان اگرچہ ابھی نہیں کیا گیا ہے تاہم اشارہ یہ دیا گیا ہے کہ وہ ’’نوجوان اور مسٹر کلین‘‘ ہو گا اِس ایک اعلان کے ساتھ ہی کئی بوڑھے، بوڑھیاں اور ادھیڑ عمر تو وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے،کئی ایسے بھی ہیں، جنہیں اور سب کچھ کہا جا سکتا ہے،مسٹر کلین کہنا البتہ ذرا مشکل ہے،لیکن کیا معلوم چند دِنوں کی لانڈری کے بعد وہ بھی صاف ستھرے ہو جائیں، بلکہ ایسے دھوئے جائیں کہ سب پاک ہو جائیں اِس لئے امید کرنی چاہئے کہ پردہ غائب سے جو بھی نام سامنے آئے گا وہ مسٹر کلین ہی ہو گا،اس اعلان کے بعد صوبائی اسمبلی کے ایک دو نوجوان ارکان نے اپنے چیئرمین کے اشارہ کو سمجھ کر گمان کر لیا کہ شاید ان کے سر پر وزارتِ علیا کا ہُما بٹھایا جانے والا ہے،لیکن پنجاب کی وزارتِ علیا خیبرپختونخوا سے خاصی مختلف ہو گی، کیونکہ خیبرپختونخوا میں تو اب کی بار تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے، کسی دوسری جماعت کے تعاون کی محتاج قطعاً نہیں، بلکہ اپنی پارٹی کے ارکان بھی ناجائز دباؤ نہیں ڈال سکیں گے،جس طرح سابق حکومت میں تحریک انصاف کے بعض ارکان کرتے رہے اور اسی کلچر کا نتیجہ تھا کہ جب مارچ میں سینیٹ کے الیکشن آئے تو انہوں نے اپنا ووٹ ڈنکے کی چوٹ پر بیچا اور کروڑوں کمائے، یہ کوئی الزام نہیں خود چیئرمین نے اپنے ارکان کو یہ سرٹیفکیٹ عطا کیا اور اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ملی کہ انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔

جب حکومت سازی کے لئے بندے پورے نہ ہوں تو پھر ایسے ارکان کی بھی لاٹری نکل آتی ہے، جنہیں پہلے پارٹی سے نکالا جاتا ہے، جب وہ آزاد الیکشن لڑ کر جیت جاتے ہیں تو انہیں دوبارہ منا کر پارٹی میں لایا جاتا ہے جیسا کہ شاہ محمود قریشی کو شکست دینے والے آزاد رکن سلمان نعیم کے ساتھ ہوا وہ تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ شاہ محمود نے اُنہیں یقین دہانی بھی کرائی تھی، لیکن آخری وقت پر نہ جانے کیوں ٹکٹ خود لے لیا،لیکن اس نوجوان نے شاہ محمود قریشی کو صوبائی نشست پر بری طرح ہرا دیا توجہانگیر ترین اسے فوری طور پر جہاز میں سوار کر کے بنی گالہ لے آئے۔شاہ محمود احتجاج ہی کرتے رہ گئے اب یہ نوجوان ایم پی اے دوبارہ تحریک انصاف میں رونق افروز ہے۔ البتہ خیبرپختونخوا میں محمود خان کو کسی مشکل کا سامنا نہیں وہ جیسے چاہیں حکومت چلائیں اُنہیں قانون سازی میں کوئی پریشانی نہیں، نہ وہاں کسی جہاز کے پھیروں کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ