سیاست معروضی! دانا دشمن یا دوست؟

سیاست معروضی! دانا دشمن یا دوست؟
سیاست معروضی! دانا دشمن یا دوست؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیانے کہتے ہیں کہ نادان دوست کی نسبت دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔ اور زیادہ چالاک گندگی کی طرف دوڑتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا اشارہ کوے کی طرف ہے۔ ہماری سیاسی ہلچل اور زندگی میں تو یہ مقولہ ہر روز ثابت ہو جاتا لیکن پھر بھی اس سے سبق حاصل نہیں کیا جاتا، حالانکہ استفادہ کریں تو بہتر نتائج نکلتے ہیں، بہرحال سیاست تو مفادات کے اردگرد گھومتی ہے اس لئے ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق بات کرتا ہے اور کبھی کبھار تو معاملہ اس سے بھی بالاتر ہو جاتا ہے۔ہمارے فرزند راولپنڈی جو اپنے حلقہ انتخاب کے حوالے سے بھی افواج پاکستان کی حمائت کے دعویدار ہیں، ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جن کو زیادہ سیانا کہا جا سکتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ حزب اختلاف یا بقول ان کے شکست خوردہ جماعتوں کے احتجاج پر تنقید کے نشتر نہ برساتے۔ انہوں نے تو شاہ سے وفاداری نبھانے کے لئے اس احتجاج کو قطعی ناکام قرار دے دیا اور طعنہ زنی کی جو یقیناًاشتعال دلانے والا مسئلہ ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے جماعتی ترجمان (معاف کیجئے، فواد چودھری بھی ہیں، ہم نے ان کو قانونی و پارلیمانی ترجمان کے کھاتے میں ملا لیا ہے) نعیم الحق نے بہت ہی مثبت بات کی ا ور کہا کہ احتجاج سب کا حق ہے، ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ امن و امان خراب نہیں ہوگا، قارئین خود ہی انصاف کر لیں کہ کس کا ردعمل بہتر ہے۔

جہاں تک شیخ رشید کا تعلق ہے تو وہ اپنی یک نفری جماعت کے اکلوتے منتخب رکن ہیں، ان کے دعویٰ کے مطابق تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ حلیف جماعتیں ہیں اور وہ مل کر حکومت بنائیں اور چلائیں گی ۔دوسری طرف بنی گالا میں دوسرے امورو مسائل زیربحث ہیں، وزیر اعظم کے حلف سے لے کر صوبائی حکومتوں کی تشکیل اور کابیناؤں کے لئے وزرا کا چناؤ بھی ان میں شامل ہے، ابھی تک تو صرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے قائد ایوان کا فیصلہ ہوا ہے۔ کے پی کے میں محمود خان کو باقاعدہ نامزد کردیا گیا اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا گیا، وزیر اعلیٰ اور سپیکر اسی جماعت سے ہوں گے اور تحریک انصاف حلیف ہوگی اور مخلوط حکومت بنائی جائے گی ابھی پنجاب میں کشمکش جاری ہے اور چیئرمین عمران خان کے حوالے سے اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’’ڈارک ہارس‘‘ ہی سامنے آئے گا، جن حضرات کے نام لئے جارہے ہیں ان میں سے کابینہ مکمل کی جائے گی۔ عبدالعلیم خان، میاں اسلم اقبال، میاں محمود الرشید اور ڈاکٹر یاسمین راشد پہلی صف میں ہیں، لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ، پاک صاف اور اچھے کردار کا حامل نامزد ہوگا، کراچی کے واوڈا کہتے ہیں، بندہ امریکہ سے ’’کوالیفائیڈ‘‘ یہ عمران خان کی باقاعدہ ان سوئنگ ہوگی جو بڑے بڑے بلے بازوں کو سمجھ نہیں آتی تھی بہر حال یہ بلی بھی تھیلے سے باہر آجائے گی۔

بات ہو رہی تھی احتجاج اور فرزند راولپنڈی محترم شیخ رشید کی جو وزارت سے ماورا ہیں، فرماتے ہیں ’’میں سب سے سینئر سیاست دان اور آٹھ بار وزیر رہ چکا اب میری کوئی حسرت نہیں اور نہ ہی میں وزارت مانگوں گا‘‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو شاید کچھ بریفننگ دی گئی اور وہ فرزند راولپنڈی کے حوالے سے ذرا محتاط ہوگئے ہیں، یوں بھی ہماری اطلاع کے مطابق آج کل ممتاز وکیل سابق وزیر و مشیر بابر اعوان کا ستارہ عروج پر ہے وہ چیئرمین عمران خان کے بہت قریب ہیں اور ان کو ابھی سے وزیر اعظم کہہ رہے ہیں، ایسا انہوں نے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے بھی کہہ دیا جس پر فاضل چیف جسٹس نے ان کو یاد دلا دیا کہ تاحال عمران وزیر اعظم نہیں کہ انہوں نے حلف نہیں اٹھایا، محترم بابر اعوان شرمندہ ہوئے یا نہیں خبر میں کوئی ذکر نہیں ہے، اس پر ہمیں یاد آیا کہ فاضل اعوان صاحب جب پاکستان پیپلز پارٹی میں تھے تو ایسی ہی مہارت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے، گناہ وثواب ان دوست کے سر جنہوں نے ہمیں یہ واقع سنایا، وہ کہتے ہیں، سپریم کورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت زیر سماعت تھی، چودھری اعتزاز احسن نے دلائل دیئے، فاروق، اے نائیک بھی کچھ بولے، بابر اعوان نے تو ایک لفظ نہ کہا البتہ اعتزاز احسن نے فاضل عدالت کو بتایا تھا کہ فاروق اے نائیک اور بابر اعوان بھی ان کی معاونت کے لئے موجود ہیں، اس کے بعد فیصلے کی باری آئی اور فاضل عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے آصف علی زرداری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا، جونہی فیصلے کا اعلان ہوا، بابر اعوان انتظار کئے بغیر کمرہ عدالت سے باہر نکلتے چلے گئے، ہمارے دوست کو تجسس ہوا کہ ان کی حس بھی تو صحافیانہ ہے وہ فوراً پیچھے لپکے، باہر آکر بابر اعوان نے موبائل نکالا ڈائل کیا اور مختصر انداز میں اطلاع دی ’’بی بی! زرداری صاحب کی ضمانت کرا دی ہے‘‘ ادھر سے غالباً شکریہ ادا کیا گیا، ہمارے دوست نے یہ اطلاع چودھری اعتزاز احسن کو دی تو وہ ہنس پڑے، تو محترم اب تحریک انصاف میں حلیف جماعت اور انصافی بننے والے کے درمیان مقابلہ سخت ہے، کون جیتے گا، اللہ ہی جانے؟

بہرحال بات آج کی اپوزیشن کے احتجاج سے چلی، یار لوگ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ محمد شہباز شریف کی غیر حاضری پر گرہ پر گرہ لگائے چلے جارہے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ احتجاج میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کون کون سے راہنما شامل اور شانہ بشانہ تھے اور یہ مظاہرہ کامیاب ہی کہا جائے گا کہ قریباً سب نے شرکت کی اور حاضری معقول تھی۔

ہم بہر حال نظام جاری رہنے کے قائل اور ملک میں امن کے داعی ہیں کہ اس سے شاید ہم لوئرمڈل کلاس والوں کے بھی مسائل حل ہو جائیں، شاید آنے والی حکومت بزرگ شہریوں کا خیال کرے اور ان کی بڑھاپے کی پنشن بڑھادے کہ سابقہ حکومت کے ادوار میں ایسا نہیں ہوا۔

اس سلسلے میں ابھی تک پیپلز پارٹی کی حکمت عملی اور سیاست بہتر ہے جو کہتی ہے کہ ہر فورم پر مقابلہ اور احتجاج ہوگا لیکن عمران خان کے راستے میں روڑے نہیں اٹکائے جائیں گے، اچھے کام کی مخالفت نہیں ہوگی اور غلط کام کی تعریف نہیں ہوسکتی، ان کے مطابق یہ نظام چلنا چاہئے، جہاں تک متحدہ اپوزیشن کا تعلق ہے تو یہ اتحاد ایک نکتے پر ہے وہ ’’انتخابی دھاندلی‘‘ ہے، اس کے بعد کے نکات روز روز کے مذاکرات میں طے ہوں گے اور ایسا ہی ہورہا ہے، اقتدار میں آنے والوں کو اس اپوزیشن کو آسان نہیں لینا چاہئے اور کوشش کرنا چاہئے کہ پارلیمانی روایات کے مطابق محاذ آرائی سے بچا جائے مسلم لیگ (ن) نے بھی پُر امن رہنے اور جائز، شفاف کام کی مخالفت نہ کرنے اور عوامی مسائل کے لئے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کے بارے میں قارئین خود ہی سوچ لیں، ہم اگر عرض کریں گے تو شکائت ہوگی۔

مزید : رائے /کالم