ثقافتی زوال و کمال

ثقافتی زوال و کمال
ثقافتی زوال و کمال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج کل ’’فلم طیفا ان ٹربل‘‘ کے بہت چرچے ہیں اور یہ فلم خاصی ’’کماؤ پوت‘‘ ثابت ہوئی ہے۔ فلم میں نے ابھی دیکھی نہیں، مگر ہمارے چودھری خادم حسین تو ایسی ایسی تعریفیں کر رہے ہیں کہ ان کی زبانی فلم کی کہانی سن کر منہ میں پانی بھر آتا ہے اور بھی بہت سے لوگ فلم کی تعریف کر رہے ہیں اور اگر فلم اچھی ہے تو پھر تعریف ہونی بھی چاہئے اور پاکستانیوں کو بھی چاہئے کہ وہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے انڈسٹری کی حوصلہ افزائی کریں۔۔۔ تاکہ فلم انڈسٹری ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے فلم انڈسٹری کے حوالے سے حکومت کو بھی آگے بڑھ کے کچھ کرنا چاہئے کیونکہ ہم ایک بہت بڑی ثقافتی یلغار کی زد میں ہیں۔۔۔ اور اس کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں ہماری ڈرامہ انڈسٹری نے تو اب کچھ کروٹ لی ہے۔ اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ خواتین کی اکثریت اب پاکستانی ڈرامے کے ساتھ جڑی نظر آتی ہے۔ اور اب ہندوستانی ڈرامے کی وہ پہلی سی اہمیت نہیں رہ گئی جو چند سال پہلے تھی۔۔۔ یہ ایک اچھی تبدیلی ہے۔ اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی محنت ہے کہ انہوں نے ہندوستانی ڈرامہ کی یلغار کو روکا۔۔۔ مگر فلم انڈسٹری ابھی تک دوبارہ اپنے ’’پاؤں‘‘ پر کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کر سکی۔۔۔ ایک آدھ فلم کی پسندیدگی سے امید تو پیدا ہو جاتی ہے، مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی ہے۔ لیکن کوشش جاری ہے اور کوشش کرنی بھی چاہئے۔

ایک زمانہ تھا ہماری فلم انڈسٹری اپنے محدود وسائل کے باوجود خطے میں اپنی اہمیت رکھتی تھی۔ ان دنوں بہت مخلص اور محنتی لوگ فلم سے جڑے ہوئے تھے۔ اداکاروں اور اداکاراؤں کی ایک لمبی فہرست تھی۔ ایک سے بڑھ کے ایک اداکار عوام کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ اکمل خان، سدھیر، یوسف خان، وحید مراد، ندیم، سنتوش کمار، درپن اور سلطان راہی فلم کے اہم ستون تھے۔ کہانی کاروں کی بھی ایک لمبی فہرست تھی، موسیقاروں، شاعروں کا بھی ایک کارواں تھا۔ فلم پرڈیوسروں کے ڈیرے آباد رہتے تھے۔ سٹوڈیوز میں رونقیں ہوتی تھیں۔ یہ سب پروفیشنل لوگ تھے فلم کی کہانی۔۔۔ موسیقی، گیتوں کے حوالے سے بہت محنت کرتے تھے۔ چونکہ بنیادی طور پر کہانی، موسیقی اور گیت فلم کے لئے بہت اہم ہوتے تھے سو یہ لوگ پہلی توجہ ہی ادھر دیتے تھے پھر اس کے بعد کرداروں کے حوالے سے آگے بڑھتے تھے۔ ایک وقت درجن بھر ہیرو اور ہیروئن موجود ہوتے تھے۔ سو کاسٹنگ کے وقت کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی جو بھی کردار کے لئے مناسب ہوتا اسے کاسٹ کر لیا جاتا تھا اور فلم کامیاب ہو جاتی تھی۔۔۔ خرابی اس وقت پیدا ہوئی، جب ایک اداکار، موسیقار، شاعر اور ہدایت کار کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا اور دیگر لوگوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

سلطان راہی کے زمانے تک اداکاروں کی ایک لمبی فہرست تھی۔ یوسف خان، مصطفی قریشی، افضال احمد، غلام محی الدین، اقبال حسن اور دیگر بہت سے اداکار موجود تھے، مگر سلطان راہی کی وفات کے بعد فلم انڈسٹری نے ایک اداکار،ایک اداکارہ، ایک موسیقار، ایک شاعر اور ایک ہدایت کار پر تکیہ شروع کردیا اور پھر یہی وجہ بنی کہ فلم انڈسٹری کسی ایک کے بھی قابل نہ رہی اور اب جہاں رات جاگتی تھیں، وہاں دن رات ایک جیسے نظر آتے ہیں، ہزاروں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں، اپنے اپنے فن کے ’’مایہ ناز‘‘ لوگ اب اپنا اور بچوں کا پیٹ پالینے کے لئے مختلف چھوٹے چھوٹے کام کرکے وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔ فلم سٹوڈیو ’’تقریباً تقریباً‘‘برباد ہو چکے ہیں، شاہ نور سٹوڈیو کا زیادہ تر حصہ شاہ نور کالونی میں بدل چکا ہے۔ باقی جو تھوڑا بہت ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہی حال ’’باری سٹوڈیو‘‘ کا ہے۔ ایشیا کا سب سے بڑا سٹوڈیو موجود تو ہے، لیکن ویران اور برباد نظر آتا ہے، موسیقی سے وابستہ کچھ لوگوں نے یہاں دفاتر بنائے ہوئے ہیں۔ یہ دفاتر فلم انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کیا خاک کھڑا کریں گے۔ ان سے وابستہ لوگ تو ہر ماہ کرایہ دینے سے بھی تنگ نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں ضروری بات یہ ہے کہ ’’فلم انڈسٹری‘‘ کے ماحول کو دوبارہ واپس لایا جائے، فلم سٹوڈیو کو دوبارہ آباد کیا جائے۔۔۔ وہاں رونق لگائی جائے، دفاتر کو دوبارہ آباد کیا جائے۔ سٹوڈیو کے ماحول کو بدلا جائے، فلم کی شوٹنگ کہیں بھی کی جائے، فلم کے دفاتر کو سٹوڈیو کے اندر ہی رکھا جائے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فلم سٹوڈیو کا ماحول ٹھیک نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ماضی میں جو لوگ اس ماحول میں رہے ہیں کیا وہ ان پڑھ، گنوار اور ناسمجھ لوگ تھے۔

ماضی میں فلم سے وابستہ ہر طرح کے لوگ اتنا ہی پڑھے لکھے تھے، جتنے آج کے نوجوان ہیں، مگر انہوں نے خود ایک ماحول بنایا اور فلم بنانے کے ساتھ ساتھ ایک خاص طرح کا ماحول بھی بنایا، مگر بعد میں جب ’’شیدے میدے‘‘ آئے تو انہوں نے فلمی ماحول کو بدل دیا اور سٹوڈیو کے اندر ہر طرح کی گندگی پھیلی جو بڑھتے بڑھتے سکرین تک پہنچ گئی اور فلم انڈسٹری برباد ہوگئی۔ اس وقت فلم لائن میں ایک پڑھا لکھا طبقہ داخل ہو چکا ہے، یہ لوگ اگر تھوڑی ہمت کریں تو سٹوڈیو کے ماحول کو بدلا جاسکتا ہے۔ ’’پروفیشنل ازم‘‘ کو واپس لایا جاسکتا ہے اور دوبارہ سے ’’فلمی ماحول‘‘ بن سکتا ہے اور بنیادی بات یہی ہے کہ دوبارہ سے ’’فلمی ماحول‘‘ کو واپس لانا ہے۔ ایک عام آدمی کے ذہن میں فلم کی کشش دوبارہ سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے نئے نئے لوگوں کو آگے لانے کی ضرورت ہے، جو اپنے فن کے ذریعے لوگوں کو سینما تک لانے کے لئے کام کریں،اس کے ساتھ ساتھ سینما کی حالت بدلنے کی بھی ضرورت ہے اور جدید دور کے جو تقاضے ہیں ان کے مطابق سینما کا اندرونی اور بیرونی ماحول درست کیا جانا بھی ضروری ہے۔

’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کو صرف خاص سینما تک محدود نہیں ہونا چاہئے۔ ایسی فلموں کو خاص و عام کے لئے عام کر دینا چاہئے۔ تاکہ ایک عام آدمی فلم کے ساتھ دوبارہ جڑے اور انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے۔ اس حوالے سے ہماری نئی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ عمران خان بذات خود ایک ’’سٹار‘‘ بھی ہیں اور ملک کے بڑے بڑے گلوکار اور اداکار ان کے سیاسی مددگار بھی رہے ہیں۔ ان کے جلسوں کی ایک رونق ’’سر اور ساز‘‘ بھی تھا۔ سو انہیں چاہئے کہ وہ فلم انڈسٹری کے حوالے سے خصوصی اقدامات کا بھی عزم کریں، تاکہ انڈسٹری ہر طرح کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔

مزید : رائے /کالم