ایم او یو یا یو او ایم

ایم او یو یا یو او ایم
ایم او یو یا یو او ایم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قارئین آپ حیران ہیں نا کہ کالم کا عنوان کیا دیا گیا ہے۔ ایم او یو پاکستان میں پوری طرح متعارف ہے ۔ تاریخ بھری پڑی ہے کہ حکومتوں اور فریقین نے سینکڑوں معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشتوں(ایم او یو ) پر دستخط کئے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے درمیاں بھی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دست خط ہو ئے ہیں۔ ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی اتحادی بن گئی ہے ۔ اس اتحاد کی وجہ سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بھی منتخب ہو سکیں گے۔ کسی کی ضرورت اور کسی کی مجبوری۔ ورنہ یہ ہی دونوں سیاسی جماعتیں تھیں جو ایک دوسرے کے خلاف بہت کچھ بولتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کو ضرورت ہی نہیں ہے۔

سیاست بھی کیا عجیب چیز ہے۔ کل تک ایک دوسرے کی جان کے دشمن آج مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر کے دوست بن گئے ہیں۔ ایم او یو کو الٹ کر پڑھیں تو یو او ایم بنتا ہے۔ اس کے انگریزی زبان میں معنی اس طرح ہیں کہ (you owe me) اس کے معنی یہ ہیں کہ تم میرے مقروض ہو یا مرہوں ن منت ہو۔ ابھی تو عمران خان ہی مرہون منت نظر آتے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی پتا چلے گا کہ وہ کتنے مرہوں منت رہتے ہیں اور ایم کیو ایم ان کی کتنی مرہون منت رہتی ہے۔تحریک انصاف کی ضرورت تھی سو ایم او یو پر دست خط ہو گئے ۔ پیپلز پارٹی کو اپنی عدوی اکثریت کے پیش نظر کسی اتحادی کی ضرورت نہیں تھی اِسی لئے انہوں نے ضروری نہیں جانا کہ ایم کیو ایم سے گفتگو کرتی تاکہ سندھ اسمبلی میں اپنی تعداد میں 16 اراکین کا اضافہ کر پاتی۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اراکین کی تعداد 16 ہے، جبکہ تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے۔ پیپلز پارٹی کو سیاسی تقاضے کے تحت تحریک انصاف کو محدود ہی رکھنا چاہئے تھا۔

کراچی میں حالیہ انتخابات میں پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کو چاروں خانے چت کر دیا ہے۔ وہ ایم کیو ایم جو کراچی میں 1988ء کے بعد سے ہونے والے تمام انتخابات میں ما سوائے قومی اسمبلی کے 1993ء کے انتخابات جس کا ایم کیو ایم نے بائی کاٹ کردیا تھا،کامیابی حاصل کرتی رہی تھی۔ وہ مُلک کی تیسری بڑی جماعت ہوتی تھی۔سندھ میں وہ دوسری بڑی جماعت ہوتی تھی۔ 2018ء کے انتخابات میں ایم کیو ایم قومی اسمبلی کی 6 اور صوبائی اسمبلی کی 16 نشستیں حاصل کر سکی ۔ کہاں قومی اسمبلی میں 24 اور صوبائی اسمبلی میں 42 نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ کراچی میں پی ٹی آئی کے عمران خان سمیت تین امیدواروں نے تمام امیدواروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ صوبائی اسمبلی میں 23 نشستیں لے اڑی ۔ 130 نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات میں 23 نشستیں معنی رکھتی ہیں ۔

مفاہمت کی یادداشت میں کراچی کو درپیش ایسے مسائل رکھے گئے ہیں، جن کے حل کے لئے واقعی وفاقی حکومت سے مالی تعاون چاہئے ہو گا، لیکن ساتھ ہی ساتھ بعض ایسے معاملات بھی رکھے گئے ہیں، جن میں وفاقی حکومت بے یار و مدد گار ہو گی۔ان معاملات کا براہ راست تعلق صوبائی حکومت سے ہوگا اور صوبائی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی نہایت آسانی کے ساتھ تشکیل دے گی۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں ’’ تم میرے مقروض ہو‘‘ کی داستان پیوست ہے۔ پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم سے ہمیشہ شکایت ہی رہی کہ وہ بااعتماد اتحادی ثابت نہیں ہوئی۔ ایم کیو ایم کو گِلہ رہا کہ پیپلز پارٹی نے وفاداری نہیں نبھائی۔ کس نے کس کے ساتھ بے وفائی کی ، اس طویل بحث میں جائے بغیر اور کسی فریق کا ساتھ دئے بغیر محتاط طریقہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی بالا دستی رکھنے کے باوجود بڑے پن کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ پیپلز پارٹی نے مہاجروں کو ایم کیو ایم کا قبیلہ قرار دیا اور انہیں اس حد تک نظر انداز کیا کہ مہاجر یہ محسوس کرنے لگے کہ انہیں دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک دو نہیں،تمام وزراء کا رویہ عام مہاجروں کے ساتھ کبھی پر وقار نہیں رہا۔ کراچی کو درپیش مسائل پر گفتگو، مذاکرات، کارروائیوں ، فائلوں کا ادھر سے ادھر جانا ، تو ہوتا رہا لیکن مسائل حل نہٰں کئے گئے۔ مہاجر سمجھتے ہیں کہ تاخیری حربے دانستہ تھے۔

کراچی میں پینے کے لئے پانی کی فراہمی اگر بہت بڑا مسئلہ ہے تو حیدرآباد میں جنرل یونیورسٹی، میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج کے قیام میں کیا قباحت تھی۔ یونیورسٹی کے قیام کے اعلان کو بڑے تردد کے بعد سابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے گزشتہ اکتوبر کے مہینہ میں کیا تھا اس پر کارروائی آج تک نہیں ہو سکی، حالانکہ اسمبلی سے بل بھی منظور ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کی لگاتار دو حکومتوں نے 2008ء سے 2018ء کے درمیاں سندھ کے کئی اضلاع میں ایک درجن سے زائد یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالج قائم کئے،سندھ یونیورسٹی نے کئی شہروں میں اپنے علاقائی کمپس قائم کئے، لیکن حیدرآباد شہر ، میر پور خاص شہر نظر انداز کئے جاتے رہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی طویل سیاسی زندگی کے باوجود معاشرے کے تمام طبقات کو گلے سے لگانا نہیں سیکھا۔ البتہ دیوار سے لگانے کا ہنر اسے خوب آتا ہے۔ یہ ہی پرخاش پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں خلیج پیدا کرتی رہی۔ سرکاری ملازمتوں میں لوگوں کو زبان کی بنیاد پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ میرٹ یا اہلیت کی بنیاد پر تو پیپلز پارٹی کے ادوار میں وزراء کی تقرری ہوتی رہی ، نہ ہی چھوٹے درجے کے ملازمین کی بھرتی۔ پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں ہنگاموں کے بعد بھٹو مرحوم نے فیصلہ دیا تھا کہ سندھ کے تمام اضلاع میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کی تقرریاں اس طرح ہوں گی کہ دونوں زبان بولنے والے افسران اضلاع میں بیک وقت موجود ہوں، پیپلز پارٹی کی بعد کی حکومتوں خصوصاً 2008ء کے بعد سے یہ اصول پامال کر دیا گیا۔

ایم کیو ایم اپنے ووٹروں کو منہ دکھانے کے قابل رکھنے کی خاطر عداوت پر کمر بستہ رہی ۔ یہ عداوت ہی اسے پیپلز پارٹی کی حکومت کو مفلوج کرنے کی کوشش میں اس حد تک لے گئی کہ خود ایم کیو ایم مفلوج کر دی گئی۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے نتائج دیکھ کر ایم کیو ایم والوں کو خود بھی رونا تو آیا ہوگا کہ کیسے عروج کو کیسا زوال ملا۔ پھر اسے یہ بھی تو ملال ہوا ہوگا کہ حیدرآباد میں پکاّ قلعہ جو اس کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا، جہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو دو ہندسوں سے زیادہ ووٹ نہیں ملا کرتے تھے، اس مرتبہ تین اور چار ہندسوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ یہ ووٹ اردو بولنے والوں کے ہی ہوں گے، کیونکہ علاقہ میں بھاری اکثریت ہی ان کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لئے بھی سبق ہے کہ لوگوں کو گلے لگانے سے گلے شکوے جاتے رہتے ہیں اور دیوار سے لگانے سے دوریاں ہی بڑھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی جو عام طور پر حیدرآباد شہر سے ایک صوبائی نشست پر کامیابی حاصل کرتی تھی، اس مرتبہ اس نے دو صوبائی نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوسری نشست پر امیدوار اردو زبان بولنے والے امیدوار عبدالجبار خان تھے ۔ ان کی پیپلز پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر اپنی توجہ اس حلقہ پر مرکوز رکھی تھی اور یہاں ترقیاتی کام بھی کرائے تھے انہیں اپنی محنت کا پھل ملا۔

مہاجروں کی اچھی خاصی تعداد ہمیشہ خواہش مند رہی ہے کہ ایم کیو ایم چوں کہ ان کی جانب سے اجتماعی سودا کاری کا حق حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے، لیکن اسے چاہئے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد میں رہے۔ اردو بولنے والوں کی آبادیاں سندھ کے شہروں میں ہی ہیں انہیں اپنے ہر چھوٹے بڑے ، معمولی اور غیر معمولی کاموں اور مسائل کے حل کے لئے پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں اور نامزد کردہ افسران کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے، آنکھوں میں اجنبیت دیکھ کر لوگ ’’فیض ‘‘ حاصل کئے بغیر ہی واپس ہوجاتے ہیں۔پیپلز پارٹی کو بہت سنجیدگی کے ساتھ اردو بولنے والوں کے حلقوں میں خلوص دل کے ساتھ کام کرنا چاہئیں اور میل جول کا سلسلہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ وہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا سکے، لیکن اصل ٹکراؤ ووٹ حاصل کرنے کے وقت پیدا ہوتا ہے۔ ایسے ایسے نعرے اختیار کئے جاتے ہیں،جو ماحول کو کشیدہ کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کو بھی اپنی سیاست اور سیاسی بقا کے لئے سندھی آبادیوں کا بھی رخ کرنا چاہئے۔ بقائے باہمی کا تقاضہ بھی یہ ہی ہے۔

مزید : رائے /کالم