ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ عوام رد کر چکے!

ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ عوام رد کر چکے!
ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ عوام رد کر چکے!

  

لگتا ہے نوازشریف کا بیانیہ اب مولانا فضل الرحمن نے اپنا لیا ہے۔ نوازشریف تو خیر مہذب لفظوں میں خلائی مخلوق کے پردے میں اپنا غم و غصہ نکالتے تھے، مولانا فضل الرحمن تو سیدھا فائر کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے متحدہ اپوزیشن کے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا، انہیں کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے تو عمران خان کی یہ بات درست لگنے لگی ہے کہ مولانا فضل الرحمن وہ مچھلی ہیں جو اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔مجھے لگتا ہے مولانا فضل الرحمن آئندہ چند دنوں میں تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔ شہبازشریف اور آصف علی زرداری تو انہیں پہلے ہی چھوڑ گئے ہیں، اگلے احتجاجی اجلاسوں میں شاید وہ اپنی پارٹی کے رہنما بھی نہ بھیجیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جو کچھ اس احتجاجی اجتماع میں کہا، وہ قطعاً سیاسی بیان کے زمرے میں نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ(ن) اس کی حمایت شاید ہی کر سکیں۔

میڈیا پر اس بات کا بہت چرچا رہا کہ شہبازشریف الیکشن کمیشن کے سامنے ہونے والے احتجاج میں شریک کیوں نہیں ہوئے۔ اگرچہ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے موسم کی خرابی کو اس کی وجہ بتایا گیا، تاہم یہ صرف ایک بہانا تھا،کیونکہ اس دن لاہور سے اسلام آباد جانے والی کوئی فلائٹ بھی کینسل نہیں ہوئی۔ شہبازشریف کے بارے میں آج کل کچھ حلقے یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ وہ اچھے ایڈمنسٹریٹر ضرور ہیں، اچھے سیاستدان نہیں۔ شاید یہ لوگ شہبازشریف سے مار دھاڑ والا سیاسی کردار چاہتے ہیں۔ جو کام شہبازشریف نے اپنے دورِ حکومت میں نہیں کیا وہ اب کیوں کریں گے۔ سب جانتے ہیں کہ جب نوازشریف نے اپنی نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ کیا تھا اور عدلیہ و فوج مخالف بیانیہ اپنا لیا تھا تو شہبازشریف اس سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے بارہا اس امر کا اظہار بھی کیا تھا کہ اداروں کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ اس حوالے سے نوازشریف اور شہبازشریف کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی بارہا آئیں۔ اسی اختلاف کی وجہ سے چودھری نثار علی خان بھی نوازشریف کی گڈبکس سے نکل گئے۔ اپنے بڑے بھائی سے جس ایشو پر شہبازشریف نے اختلاف کیا، اس پر وہ مولانا فضل الرحمن کا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں؟ وہ متحدہ اپوزیشن کے دو اجلاسوں میں شرکت کے بعد غالباً یہ جان گئے تھے کہ مولانا فضل الرحمن کچھ زیادہ ہی دکھی اور غصے میں ہیں اور اس عالم میں وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر وہ فوج اور عدلیہ پر قابلِ مذمت تنقید کررہے ہوں اور شہبازشریف ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہوں تو سمجھا یہی جائے گا کہ یہ ان کا بیانیہ بھی ہے۔ سو انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ احتجاج میں شرکت نہ کی جائے۔ انتخابات میں شکست کا مداوا ہو سکتا ہے، لیکن اگر کسی سیاستدان پر یہ چھاپ لگ جائے کہ وہ ریاستی اداروں کا دشمن ہے تو اس کا داغ مشکل ہی سے دھلتا ہے، سو وہ نہیں گئے۔

آصف علی زرداری تو پہلے ہی بہت زیرک سیاستدان ہیں، اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں، وہ سمجھ چکے ہیں کہ فوج کے خلاف بیان دے کر نتائج بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔ وہ اینٹ سے اینٹ بجانے کا اپنا تاریخی بیان کبھی نہیں بھولتے ہوں گے، ویسے بھی وہ دل سے نہیں چاہتے کہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف کوئی ایسی تحریک چلے جو جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دے۔ وہ متحدہ اپوزیشن میں پیپلز پارٹی کو اس لئے شامل رکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، بعدازاں سینٹ میں چیئرمین سینٹ کی تبدیلی اور اُس کے علاوہ صدارتی انتخاب میں ایک سرگرم کردار ادا کرنا ہے، اگر وہ ایک سائیڈ پر ہو کر بیٹھ جائیں تو سوائے سندھ حکومت کے قومی سیاست میں اُن کا کوئی کردار نہیں بچے گا۔۔۔ لیکن انہوں نے بڑی مہارت سے بلاول بھٹو زرداری اور خود کو اس سارے احتجاج سے دور کرلیا ہے۔ شیری رحمن کا کردار اس قدر بڑھا دیا ہے کہ اب وہی سارے عمل پر چھائی ہوئی ہیں۔ وہ یوسف رضا گیلانی یا خورشید شاہ کو بھی آگے کرسکتے تھے، مگر انہیں شاید اتنی پذیرائی نہ ملتی، جتنی شیری رحمن کے حصے میں آرہی ہے۔ میڈیا کا رُخ اُن کی طرف ہوتا ہے، ساری بریفنگ وہی دیتی ہیں اور غفورحیدری جیسے رہنماؤں کو بڑے اصرار کے بعد بات کرنے کا موقع ملتا ہے، سو منظر یہ ہے کہ ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتیں صرف اپنے مقاصد کے لئے متحدہ اپوزیشن کے نام پر یہ تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ حقیقت میں یہ دونوں نہ تو نئے انتخابات چاہتی ہیں اور نہ ہی عدلیہ یا فوج کے خلاف کسی قسم کے بیانیے کی حمایت کرتی ہیں۔

میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت جلد مولانا فضل الرحمن دھاندلی کے خلاف احتجاج میں اکیلے رہ جائیں گے۔ یہ سب کچھ صرف پارلیمانی عہدوں اور صدر مملکت کے انتخاب تک ہے، جس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے اہداف بنائے ہوئے ہیں، انہیں متحدہ اپوزیشن کی ضرورت ہے، جونہی یہ عمل مکمل ہوگا، سارا منظر تبدیل ہو جائے گا۔مولانا فضل الرحمن ہماری سیاست کا وہ کردار ہیں، جنہوں نے صرف اقتدار کو ہی سیاست سمجھا ہے۔ اقتدار کے بغیر انہیں سیاست ایک بوجھ لگتی ہے۔ اُن کا کمالِ فن یہ رہا ہے کہ انہوں نے آمروں کے ساتھ بھی شراکت اقتدار کی اور جمہوری حکمرانوں کے ساتھ بھی۔ وہ اپنی چند مخصوص نشستوں کے ساتھ اہمیت اختیار کرجاتے اور پھر مرضی کی سودے بازی ہوتی۔ اس بار ایم کیو ایم اور ایم ایم اے دونوں ہی ووٹروں کے ہاتھوں بڑی ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ مولانا فضل الرحمن کے تو یہ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ خود بھی دونوں سیٹوں سے ہار جائیں گے۔ اب ایسے جھٹکے انسان کو مضطرب تو کردیتے ہیں، لیکن سیاست میں سدابادشاہی تو کسی کی بھی نہیں ہوتی۔ نواز شریف کو اگر بُرے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تو باقی سیاستدان کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم تو لازوال تھے، ہمیں زوال کیسے آیا۔ آصف علی زرداری اور شریف خاندان نے پہلے بھی بُرے دن دیکھے ہیں۔

ایسے ہی حیران کن طور پر شہباز شریف نے خود کو اس بیانیے سے علیحدہ کئے رکھا جو نوازشریف نے اپنایا۔ اس کی وجہ سے انہیں بہت کچھ سننا بھی پڑا، مگر وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی پر تیار نہ ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی لہر کے باوجود پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کا صفایا نہ ہو سکا۔ پنجاب اسمبلی میں تو وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پرموجود ہے۔ میں سمجھتا ہوں مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے، انہیں اسفند یارولی، محمود خان اچکزئی اور سراج الحق کے رویے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے انتخابی نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار ضرور کیا ہے، مگر عدلیہ اور فوج کو دھمکیاں نہیں دیں۔ سراج الحق جو ایم ایم اے میں ان کے اتحادی ہیں، بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کو موقع دیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں۔ اگر وہ نہیں کریں گے تو عوام خود انہیں نکال باہر کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی شکست کے بعد پہلے دن سے یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ 1977ء جیسی تحریک چلائیں۔ ایسا خواب دیکھنا ہی اس امر کی گواہی دے رہا ہے کہ مولانا سیاسی تدبر اور بصیرت سے محروم ہیں۔ ان کی اس بات پر اس لئے بھی حیرت ہوتی ہے کہ تحریک انصاف کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئے تھے۔

پھر ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں بھی تھے، جبکہ عمران خان لوگوں کی امید بن کر اقتدار میں آنے والے ہیں۔ انتخابات الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں نے کرائے۔ تحریک نئی حکومت کے خلاف کیسے چلائی جا سکتی ہے؟ پیپلزپارٹی جو سندھ میں حکومت بنائے گی اور مسلم لیگ (ن) جو پنجاب اور مرکز میں بڑی اپوزیشن جماعت کے طور پر موجود ہوگی، بھلا کیوں چاہیں گی کہ ایسے حالات پیدا ہوں کہ جمہوریت کو خطرات لاحق ہو جائیں۔ بہتر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنی خیالی دنیا سے باہر آئیں اور جمہوری و سیاسی روح کے ساتھ سیاسی عمل کو چلنے دیں۔کسی جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر ریاستی اداروں پر حملے نہ کریں، اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں، البتہ نقصان زیادہ ہے، کیونکہ عوام اب ایسے بیانیے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔

مزید : رائے /کالم