تفہیمِ اقبال: جواب شکوہ (6)

تفہیمِ اقبال: جواب شکوہ (6)
تفہیمِ اقبال: جواب شکوہ (6)

  

بند نمبر(16)

شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود!

یہ مسلماں ہیں، جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود؟

یوں تو سید بھی ہو،مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

نابود ہونا (فنا ہونا، مٹ جانا)۔۔۔وضع (ظاہری شکل و صورت)۔۔۔ نصاریٰ (عیسائی)۔۔۔ ہنود (ہندو کی جمع)۔۔۔ تمدن (تہذیبی روایات و اقدار)۔۔۔

اس بند کی تشریح :

اس بند میں کوئی بھی لفظ یا ترکیب ایسی نہیں جو کسی تشریح کی محتاج ہو۔ بڑے سیدھے سادے الفاظ ہیں لیکن ان میں اثر انگیزی بلا کی ہے۔ خاص طور پر بند کا آخری شعر تو گویا اردو ادب میں ضرب المثل بن چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر17)

دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک

عدل اس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک

شجرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک

تھا شجاعت میں وہ اک ہستی ء فوق الادراک

خود گدازی نمِ کیفیتِ صہبائش بُود

خالی از خویش شدن، صورتِ مینائش بُود

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

صداقت (سچائی)۔۔۔ بے باک(بے خوف)۔۔۔عدل(انصاف)۔۔۔ قوی (مضبوط، طاقت ور)۔۔۔ لوث (لالچ، حرص)۔۔۔ مراعات (رعائیت کی جمع)۔۔۔ شجر (درخت)۔۔۔ فطرتِ مسلم (مسلمان کی فطرت)۔۔۔ شجرِ فطرتِ مسلم (مسلمان کی فطرت کا درخت)۔۔۔ نمناک (بھیگا ہوا)۔۔۔ شجاعت (بہادری)۔۔۔ فوق الادراک (وہ شخص کہ جس کی خوبیوں کی سمجھ نہ آ سکے، جس کی خوبیاں اور اوصاف جاننے کے لئے زیادہ سوجھ بوجھ کی ضرورت ہو)۔۔۔ ہستی ء فوق الادراک (ایسا شخص یا ایسی ہستی جو عقل و شعور میں نہ سما سکے)۔۔۔ خود گدازی(اپنے آپ کو پگھلانا)۔۔۔ نم (پانی، طراوت، تَری)۔۔۔ صہبا (شراب)۔۔۔ مینا (شراب کی بوتل)

اب اس بند کی تشریح:

خدا فرما رہا ہے کہ گزرے دور کے مسلمانوں کی باتوں میں سچائی اور صداقت ہوتی تھی۔ وہ سب حق گو لوگ تھے اور ہر بات دھڑلے سے کہا کرتے تھے۔ وہ ایسے عادل اور منصف تھے کہ جن کو کسی رو رعائت کا لالچ نہیں تھا۔ وہ بے لوث اور بے غرض ہو کر انصاف کیا کرتے تھے۔۔۔ ان مسلمانوں کی مثال اس درخت کی سی تھی جس کی شاخوں اور ٹہنیوں کے اندر نمی بھری ہوئی ہو۔ دورِ ماضی کے مسلمانوں میں یہ نمی شرم و حیا کی نمی تھی۔ وہ نڈر اور بہادر لوگ تھے اور باقی دنیا ان کے اوصاف دیکھ دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی تھی کہ یہ انسان نہیں بلکہ انسان سے اوپر کی کوئی مخلوق ہیں۔۔۔ آخر شعر فارسی کا ہے جس کا مطلب ہے: ’’ان کی شراب اتنی زود اثر تھی کہ وہ اسے پی کر اس کے نشے میں پگھل پگھل جاتے تھے اور پھر اس ساری شراب کو دوسرے لوگوں میں بانٹ کر خود شراب کی بوتل کی مانند خالی ہو جاتے تھے‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر18)

ہر مسلماں رگِ باطل کے لئے نشتر تھا

اس کے آئینہ ء ہستی میں عمل، جوہر تھا

جو بھروسا تھا اسے ،قوتِ بازو پر تھا

ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر اَز بر ہو

پھر پسر، قابلِ میراثِ پدر کیوں کر ہو

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

رگ باطل(جھوٹ اور مکروفریب کی رگ)۔۔۔ نشتر (تیز چاقو)۔۔۔ آئینہ ہستی (زندگی کا آئینہ)۔۔۔ جوہر (آئینے کی چمک)۔۔۔ ازبر ہونا (حفظ ہونا)۔۔۔ پسر (بیٹا)۔۔۔ پدر(باپ)۔۔۔ قابلِ میراثِ پدر (باپ کا ورثہ حاصل کرنے کے قابل)

اس بند کی تشریح:

دور گزشتہ کا ہر مسلمان جھوٹ اور مکر و فریب کی رگ کاٹ کر رکھ دینے کا عادی تھا۔ وہ سب لوگ سراپا حق تھے اور باطل کے قاتل تھے۔ ان کی زندگی اور جسمانی سراپا کو اگر ایک آئینہ سمجھ لیں تو وہ لوگ گویا اس آئینے کی آب و تاب اور چمک تھے۔۔۔۔ وہ اپنے بازو کی طاقت پر بھروسا کیا کرتے تھے۔ کسی غلط شخص کے ماتحت یا غلام نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے بازوؤں میں ڈٹ جانے اور مقابلہ کرنے کی طاقت ہے۔ اور تمہیں تو موت کا ڈر ہے لیکن اس دور کے مسلمان کو موت کا نہیں خدا کا ڈر تھا۔۔۔

اس بند کے آخری شعر میں خدا کی طرف سے ایک عالمگیر صداقت (Universal Truth)بیان کی جا رہی ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ اگر کسی بیٹے کو اپنے باپ کے علم و ہنر سے بے خبری ہو تو وہ اس کی وراثت کا حقدار کیسے بن سکتا ہے؟ یعنی وراثتِ پدر حاصل کرنے کے لئے پسر کو بھی اپنے پدر کے سے اوصاف درکار ہوتے ہیں۔

یہاں ایک جسارت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ حضرت اقبال کا یہ مصرع : ہے تمہیں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا۔۔۔ مجھے کھٹک رہا ہے۔ یہ جوابِ شکوہ چونکہ خدا کی طرف سے دیا جا رہاہے اس لئے ان بندوں (Stanzas) میں خدا اپنے لئے صیغہ ء جمع متکلم استعمال کر رہا ہے یعنی ’’ہم‘‘ کالفظ استعمال ہو رہا ہے۔ مثلاً یہ مصرعے دیکھئے:

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ہم سے کب پیار ہے، ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریب

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود؟

اب اس بند کے اس مصرع کو دیکھئے:

ہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھا

اگر اقبال اس مصرع میں خدا کی جگہ ہمارا کا لفظ رکھ دیتے تو یہ مصرع درجِ ذیل صورت میں زیادہ فصیح اور زیادہ بلیغ ہو جاتا ہے:

ہے تمہیں موت کا ڈر اس کو ہمارا ڈر تھا

اور اس جواب شکوہ کے آخری شعر کو بھی دیکھئے جس میں ’’ہم‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔

کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

کلام اقبال میں اس طرح کا سقم نکالنے والا میں کون ہوتا ہوں؟۔۔۔ ممکن ہے کوئی قاری میری اس غلط فہمی کو دور کرسکے۔۔۔۔میں اس کا شکر گزار ہوں گا۔۔۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اس مصرعہ میں اقبال سے سہواً ’’ہمارا‘‘ کی جگہ ’’خدا‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر19)

ہر کوئی مستِ مئے ذوقِ تن آسانی ہے

تم مسلماں ہو، یہ اندازِ مسلمانی ہے؟

حیدری فقر ہے نے دولتِ عثمانی ہے

تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟

وہ زمانے میں معزز تھے، مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قراں ہو کر

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

مستِ مئے ذوقِ تن آسانی (تن آسانی کی شراب میں مست)۔۔۔ حیدری (اشارہ ہے حضرت علی کرم اللہ وجہ کے فقر کی طرف)۔۔۔ دولتِ عثمانی (خلافتِ عثمانیہ کے تزک و احتشام کی طرف اشارہ ہے)اسلاف (جمع سلف، آباؤ اجداد)۔۔۔ تارکِ قرآن (قران کریم کی ہدایات و آیات کو ترک کرنے والے)

اب اس بندکی تشریح :

خدا کی طرف سے شکوے کا جواب دیا جا رہا ہے۔ شکوے میں آپ کو یاد ہوگا اقبال نے اپنے اسلاف کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ درِخیبر کو حضرت علیؓ نے اکھاڑا تھا، ہر قل روم کے شہر قسطنطنیہ کو بھی مسلمانوں نے فتح کیا تھا۔ الغرض شکوے میں کبھی محمود غزنوی (بت شکن) کا ذکر کیا گیا اور کبھی حضرتِ سلمانؓ اور اویسِ قرنیؒ کا حوالہ دیا گیا۔ اب اُس شکوے کے جواب میں خدا کہہ رہا ہے کہ تم میں سے آج ہر شخص کاہل، سست اور تن آسان بن چکا ہے، نہ کسی میں حیدرِ کرارؓ جیسا فقر ہے اور نہ کسی میں خلافتِ عثمانیہ کے خلفاء جیسا شکوہِ جہانبانی ہے۔ اس بند میں بھی اسی گزشتہ بند کا تسلسل روا رکھا گیا ہے کہ جب تک بیٹے کو باپ کے ورثے کی خبر نہ ہو تب تک اس کو باپ کے ورثے کا حقدار کیسے مانا جا سکتا ہے؟ خدا آج کے شکوہ گزاروں سے مکرر یہ پوچھ رہا ہے کہ تم لوگ کس قسم کے مسلمان ہو؟ اور تم کو اپنے بزرگوں کے کردار سے کیا نسبت ہے؟۔۔۔ وہ لوگ تو زمانے میں اس لئے معزز گردانے جاتے تھے کہ وہ صحیح معنوں میں مسلمان تھے اور تعلیماتِ قرآنی کے پابند تھے جبکہ تم نے قرآنی احکامات کو فراموش کر دیا! یہی وجہ ہے کہ تم اپنے اسلاف کے برعکس پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو کر پھر رہے ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر20)

تم ہو آپس میں غضبناک وہ آپس میں رحیم

تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم

چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم

پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلبِ سلیم

تختِ فغفور بھی ان کا تھا، سریرِ کَے بھی

یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمّیت ہے بھی؟

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

خطاکار(خطا کرنے والے)۔۔۔ خطابیں(خطاؤں اور خامیوں کو پکڑنے والے)۔۔۔ خطاپوش (غلطیوں اور خامیوں کی پردہ پوشی کرنے والے)۔۔۔ اوج(بلندی)۔۔۔ اوجِ ثریّا(آسمان تک کی بلندی)۔۔۔ ثریّا (آسمان پر رات کے وقت ستاروں کے جو جھمکے نظر آتے ہیں ان میں ثریّا نام کا جھمکا سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اس میں جو ستارے چمکتے نظر آتے ہیں، ان کے رنگ سرخ، عنابی ، نارنجی، گلابی، نیلے اور پیلے ہیں۔ یہ جب جھلملاتے ہیں تو ان کو دیکھ دیکھ کر آسمان والے کی کبریائی کا نقش دلوں پر اور گہرا ہوتا جاتا ہے۔ اقبال نے ’’ثریّا‘‘ کو کئی جگہ انہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً ان کا یہ شعر جو بانگِ درا میں ’’خطاب بہ جوانانِ اسلام‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی نظم میں دیکھا جا سکتا ہے:

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

درجِ بالا شعر بھی اسی موضوع کا گویا تتمہ ہے۔۔۔ قلبِ سلیم (ایسا دل جو کامن سینس کا پیرو ہو اور جس میں توازن و اعتدال کو پرکھنے کی صفات موجود ہوں)۔۔۔ تختِ فغفور (پرانے اور عظیم چینی شہنشاہوں کی شوکت و عظمت والا تخت سلطنت)۔۔۔ سریر(تاج)۔۔۔ کَے خاندانِ کیانی کی طرف اشارہ ہے۔ ایران کے یہ مشہور بادشاہ (قبل از اسلام) اپنے نام سے پہلے لفظ ’’کَے‘‘ کا سابقہ (Prefix) لگاتے تھے۔ مثلاً کے کاؤس، کے طہماسپ، کے خسرو، کے قباد وغیرہ۔ ان کا ذکر اسی ’’جواب شکوہ‘‘ میں خدا نے یہ کہہ کر بھی کیا ہے:

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نہیں دیتے ہیں

اب اس بند کی تشریح:

اس بند میں خداوند کریم کی طرف سے ’’پرانے‘‘ مسلمانوں اور ’’نئے‘‘ مسلمانوں کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ خدا پہلے وقتوں کے مسلمانوں کی ایک ایک خوبی بیان کرکے موجودہ مسلمانوں کے ہاں ان خوبیوں کو خامیوں میں تبدیل ہو جانے کا ذکر فرما رہا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ : ’’تم تو آپس میں ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے کے لئے تیار رہتے ہو جبکہ تمہارے اسلاف باہمی محبت کے جذبات سے متصف تھے۔۔۔ تم خود خطاؤں کے پتلے ہو، خطاکار اور گنہ گار بھی ہو اور دوسروں کی خطاؤں سے درگزر کرنے کی بجائے ان کو برسرِعام لا کر خوش بھی ہوتے ہو جبکہ تمہارے آباؤ اجداد خطاپوشیوں سے کام لیتے تھے اور آپس میں لطف و کرم بانٹ کر زندگی گزارتے تھے۔ اس لئے ہم نے ان کو تختِ فغفور بھی عطا کیا اور تاجِ کئی بھی بخشا۔۔۔ لیکن تم؟۔۔۔ تم تو صرف باتیں ہی کرتے ہو اور بس۔۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم میں حمیّت نام کی کوئی شے باقی نہیں۔۔۔

اس بند کے آخری مصرعے میں اقبال نے ’’غیرت‘‘ کی جگہ ’’حمیّت‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جو تھوڑا سا کم تہدید آمیز اور غیرت کے مقابلے میں کم شدیدلفظ ہے۔ یعنی خدا نے آج کے مسلمانوں کو ’’بے غیرت‘‘ کہنے کی بجائے ’’بے حمیّت‘‘ کہا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے اقبال کے دل میں یہ شعر کہتے وقت آج کے مسلمانوں کو’’بے غیرت‘‘ قرار دینے کا خیال رہ رہ کر آتا ہو گا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید : رائے /کالم