اہم شاہراہوں پر ٹریفک کئی کئی گھنٹے بند

اہم شاہراہوں پر ٹریفک کئی کئی گھنٹے بند

لاہور(لیاقت کھرل) نگران سیٹ اَپ میں سٹی ٹریفک حکام کی ناقص منصوبہ بندی، اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام، افسران کے نازیبا اور سخت رویے پر وارڈنز نے ردعمل کے طور پر 5909 شہریوں کی گاڑیوں کے بلاوجہ چالان اور 330 بوگس مقدمات درج کر دئیے۔ آئی جی پولیس نے خفیہ رپورٹ پر سٹی ٹریفک حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مسائل کے حل کے لئے نگران سیٹ اَپ میں بھی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے جس کے باعث شہر کے اہم مقامات، شاہراہوں اورسڑکوں سمیت چوراہوں میں ٹریفک کے نظام میں سست روی اور تجاوزات جیسے مسائل میں 200 فیصد تک بڑھے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے آئی جی پولیس پنجاب کو ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ نگران سیٹ اَپ میں ٹریفک حکام نے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی ہے جس میں سٹی گورنمنٹ، ایل ڈی اے، ٹیپا ، واسا سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ہم آہنگی نہ ہونے پر ٹریفک مسائل نے مزید جنم لیا ہے اور ٹریفک حکام نے ٹریفک کے نظام میں خرابی کاذمہ دار وارڈنز کو ٹھہرایا ہے جس میں ٹریفک حکام نے نازیبا اور سخت گیر رویے سے کام لے رکھا ہے جس پر وارڈنز کی جانب سے ردعمل کے طور پر شہریوں کی گاڑیوں کے بلاوجہ چالان ، معمولی توتکرار پر لڑائی جھگڑے اور مارکٹائی کے واقعات نے زور پکڑلیا ہے جس میں وارڈنز نے ردعمل کے طور پر 5909 شہریوں کی گاڑیوں کے بلاوجہ چالان کر دئیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ 1903 گاڑیوں کو شہر کے مختلف تھانوں میں بند کیا گیا ہے جبکہ 330 شہریوں کے خلاف بوگس مقدمات درج کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس نے سٹی ٹریفک حکام سے 24 گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ اس حوالے سے ایس پی ٹریفک سردار آصف علی کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے۔ وارڈنز کی پوچھ گچھ کو سخت روپے کا نام دیا جانا زیادتی ہے۔ تاہم بلاوجہ چالان اور بوگس مقدمات پر انکوائری کی جاتی ہے اور ذمہ دار کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جاتی ہے۔

مزید : علاقائی