اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اداروں نے 18ویں ترمیم کو قبول نہیں کیا وہ تبدیلی چاہتے ہیں ، حاصل بزنجو

اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اداروں نے 18ویں ترمیم کو قبول نہیں کیا وہ تبدیلی چاہتے ...

کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اداروں نے 18ویں ترمیم کو ابھی تک ذہنی طور پر قبول نہیں کیا ، اس میں وہ تبدیلی چاہتے ہیں،حالیہ پارلیمنٹ سے 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت مخالفت کرینگے، جمہوری اداروں کی فتح کو ناکامی میں بدلنے کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے، گزشتہ روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا بلوچستان کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر اپنوں کو نوازہ گیا ہے ان سے اپنے مقصد کا کام لینا چاہتے ہیں ،کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کو پارلیمنٹ کی بالادستی کسی صورت قبول نہیں ہمیں پارلیمنٹ کا ساتھ دینے کی سزا دی گئی ہے، حالیہ انتخابات میں بڑے پیمانے وخاص منصوبے کے تحت دھاندلی کی گئی اور نیشنل پارٹی کو صوبائی اسمبلی وقومی اسمبلی سے دور رکھا گیا مگر ہماری جدوجہد جار ی رہے گی ،ہم کسی صورت ان قوتوں کے سامنے نہیں جھکیں گے ،ہم نیشنل پارٹی آل پارٹیز الائنس کے اتحادی ہیں ، اسلام آبادمیں احتجاجی مظاہرہ کے بعد اب دوسرا مظاہرہ پشاور اور تیسرا احتجاجی مظاہرہ کوئٹہ میں کیا جائے گا، ہمیں الیکشن سے پہلے ہی اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ ہمیں جمہوریت کا ساتھ دینے پر ہمیں سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اہمیں الیکشن سے دور رکھا جائے گامگر ہم نے میدان خالی نہیں چھوڑا اور ڈٹ کر مقابلہ کیا ، الیکشن والے دن میں آوران میں تھا تین جماعتوں کے نمائندے جن میں خیر جان بلوچ، سردار گمبرانی اور دو آزاد ارکان نے آر او کو لکھ کر دیا تھا دھاندلی شروع کر دی گئی ہے ،مگر کسی نے ان کی باتوں پر توجہ نہیں دی ،بارکھان میں کریم کیھتران کے 600ووٹ خراب کیے گئے ،بلیدہ تمہ اور تربت میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور ہمارے جیتے ہوئے امیدواروں کوہاروایا گیا ۔

حاصل بزنجو

مزید : علاقائی