خطے میں دیر پاامن کا قیام فلسطین تنازع کے منصفانہ حل سے مشروط ہے ، شاہ عبداللہ

خطے میں دیر پاامن کا قیام فلسطین تنازع کے منصفانہ حل سے مشروط ہے ، شاہ عبداللہ

 اومان(آئی این پی)اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے خبردار کیا ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ منصفانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا تب تک خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے،اسرائیل اور فلسطین مابین کارآمد مذاکرات جاری رہنے چاہئیں اور بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا جائے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے خبردار کیا ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ منصفانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا تب تک خطے میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اردن فلسطینی قوم کے دیرینہ مطالبات اور حقوق کی حمایت کے ساتھ اور فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل پر زور دیتا رہے گا۔اردن کے شاہی دیوان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ عبداللہ نے ان خیالات کا اظہار فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے عمان میں قصرالحسینیہ میں ملاقات کے دوران کیا۔ دونوں رہ نماں میں فلسطین اور خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کے ساتھ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پربھی غور کیا گیا۔شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے اپنے دورہ امریکا کے دوران امریکی کانگریس کی کمیٹیوں کے سربراہوں اور ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں بھی تنازع فلسطین کے حوالے سے اردن کے اصولی موقف سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے ارکان کو صاف صاف بتا دیا کہ جب تک فلسطین کا تنازع منصفانہ انداز میں حل نہیں ہوپاتا اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اردن فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کو دو ریاستی حل کی شکل میں دیکھتا ہے اور اس فارمولے کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مشرقی بیت المقدس کو آزاد فلسطینی مملکت کا دارالحکومت قرار دینے کا مطالبہ کیا اور فلسطین اور اسرائیل پر بامقصد بات چیت شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید : عالمی منظر