انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیشن سے کروائی جائیں

انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات پارلیمانی کمیشن سے کروائی جائیں

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ ارکان نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بے قاعدگیوں پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے قیام کے بعد پارلیمانی کمیشن تشکیل دے کر معاملے کی تحقیقات کرائی جائے گی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور کا اجلاس پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروس میں سینیٹر رحمٰن ملک کی صدارت میں ہوا۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ انتخابات کے بعد بیلٹ پیپرز کچرا کنڈی، کچرا دان اور روڈ پر پائے گئے جو اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کا مینڈیٹ چوری ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے۔کمیٹی نے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) اور رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کی نا کامی کا بھی نوٹس لیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے حکام نے کہا کہ آر ٹی ایس، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے متعارف کرایا تھا۔کمیٹی کے چیئرمین نے سوال کیا کہ سسٹم کی نگرانی کی ذمہ داری کس تھی اور ای سی پی کے پاس ٹیکنیکل معاونت کیا تھی؟انہوں الیکشن کمیشن کے حکام کو آئندہ اجلاس میں آر ٹی ایس کو ہیک سے بچانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔رحمٰن ملک نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی تجویز پیش کی، جس پر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر خان اور جاوید عباسی نے معاملے کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے بجائے پارلیمانی کمیٹی سے کروانے کی سفارش کی۔سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ راولپنڈی میں ایک پولنگ سٹیشن میں 250 شہریوں نے ووٹ کاسٹ کیا جبکہ نتائج 300 ووٹ کے سامنے آئے۔پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ الزامات سے متعلق مکمل تحقیقات کرائی جائیں لیکن پارلیمنٹری کمیٹی کے ارکان کو تحقیقات میں فنی مسائل کا سامنا ہوگا کیونکہ وہ اس کام کے لیے تربیت یافتہ نہیں۔انہوں نے نادرا کے ڈائریکٹر جنرل سے میڈیا رپورٹس کے بارے میں استفسار کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کے دن آر ٹی ایس بالکل ٹھیک کام کررہا تھا۔جس پر ڈی جی نے بتایا کہ نادرا کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

رحمان ملک

مزید : صفحہ آخر