دہائیوں تک انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے بدنام زمانہ مافیا ڈان کے ساتھ آخری عمر میں کیا ہوا؟

دہائیوں تک انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے بدنام زمانہ مافیا ڈان کے ساتھ آخری ...
دہائیوں تک انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے بدنام زمانہ مافیا ڈان کے ساتھ آخری عمر میں کیا ہوا؟

  

میڈرڈ (ڈیلی پاکستان آن لائن)ہسپانوی پولیس نے انتہائی خطرناک پچاسی سالہ مافیا لیڈر مانوئل چارلین کو گرفتار کر لیا ہے۔ چارلین کو سپین کا منشیات کا سب سے بدنام تاجر اور اس کی جرائم پیشہ تنظیم کو گالیسیا کے علاقے کی سب سے پرتشدد مافیا سمجھا جاتا تھا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مانوئل چارلین کو شمال مغربی اسپین کے ایک علاقے سے 18 دیگر مجرموں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک بڑی کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ اس دوران پولیس نے کوکین کی بہت بڑی مقدار بھی اپنے قبضے میں لے لی۔

پولیس کے مطابق چارلین کو، جسے کئی عشروں سے سپین کا ’خطرناک ترین‘ مافیا لیڈر سمجھا جاتا تھا، شمال مغربی اسپین کے علاقے گالیسیا میں اس کارروائی کے دوران پولیس نے جن ڈیڑھ درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا، ان میں مانوئل چارلین کا بیٹا مَیلچور چارلین بھی شامل ہے۔

ان سرکردہ مافیا شخصیات کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ پرتگال کے نیم خود مختار مجموعہ جزائر آزوریس سے گالیسیا میں داخل ہو رہے تھے۔ ہسپانوی پولیس کے مطابق مانوئل چارلین بین الاقوامی سطح پر جرائم پیشہ حلقوں میں اس وجہ سے بہت معروف تھا کہ وہ اپنے گینگ پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے خاص طور پر انتہائی مہلک، پرتشدد اور تکلیف دہ حربے استعمال کرتا تھا۔ چارلین کی قیادت میں کام کرنے والا جرائم پیشہ گروہ نہ صرف سپین کا انتہائی خطرناک مافیا گروپ تھا بلکہ اس کا شمار براعظم یورپ کے منشیات کی تجارت کرنے والے سب سے بڑے گروپوں میں بھی ہوتا تھا۔

منشیات کے سمگلر اور تاجر گالیسیا کو سپین کے علاوہ یورپ بھر کی غیر قانونی منڈیوں تک منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں

مانوئل چارلین کی گرفتاری سے قبل ابھی چند ماہ پہلے ہی ہسپانوی پولیس نے ملک کے ایک اور بڑے مافیا لیڈر، 62 سالہ سیٹو مینانکو کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

میڈرڈ میں ملکی پولیس کے تفتیشی ماہرین کے مطابق اسپین میں گالیسیا 1970کی دہائی سے بیرون ملک سے منشیات کی آمد کا سب سے بڑا راستہ رہا ہے اور اس میں مانوئل چارلین کا گروہ ہی زیادہ تر مرکزی کردار ادا کرتا تھا۔

2017میں تیار کی گئی یورپی یونین کی انسداد منشیات سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق گالیسیا سپین میں جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جسے منشیات کے سمگلر اور تاجر نہ صرف اسپین بلکہ یورپ بھر کی غیر قانونی منڈیوں کو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ مانوئل چارلین منشیات کا کاروبار کرنے والے ان سب سے بڑے یورپی سمگلروں میں شمار ہوتا ہے، جنہوں نے اس کاروبار سے اپنے لیے اربوں یورو کی رقوم جمع کیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس