بلوچستان میں پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کرکے نتیجہ بنوانے کا دعویٰ

بلوچستان میں پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کرکے نتیجہ بنوانے کا دعویٰ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ دو پریزائیڈنگ افسران کو انتخابات والے دن مبینہ طور پر چند نقاب پوش اغوا کرکے لے گئے جس کے باعث ضلع واشوک کے حلقہ پی بی41 کے حتمی نتیجے میں ان کے پولنگ اسٹیشنز کے نتائج شا مل نہیں کیے گئے۔الیکشن کمیشن نے یہ معاملہ حلقے سے ہارنے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار میر مجیب الرحمٰن محمد حسانی کی درخوا ست کے بعد اٹھایا تھا، جس میں اس جانب توجہ دلائی گئی تھی کہ حلقے کے حتمی نتیجے میں پولنگ اسٹیشنز نمبر 44 اور 45 کے نتائج شامل نہیں۔ پی بی 41 کے ریٹرننگ افسر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہوں نے دو پریزائیڈنگ افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ان افسرا ن نے کہا یہ نتیجہ ہم نے نہیں بنایا، دونوں افسران نے کہا ان پولنگ اسٹیشنز پر کوئی ووٹ کاسٹ نہیں ہوا اور انہیں اغوا کرکے زبردستی نتیجہ بنوایا گیا۔الیکشن کمیشن نے سوال کیا ان افسران کو کس نے اغوا کیا تھا؟'حلقے سے کامیاب متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا پریزائیڈنگ افسران کے مطابق ان کو سکیورٹی فورسز نے اغوا کیا جبکہ اسی علاقے سے این اے 270 کے ایک پریزائیڈنگ افسر نے نتائج شامل کر کے فارم 45 تیار کیا۔اس موقع پر پی بی 41 کے پولنگ اسٹیشن 44 کے پریزائیڈنگ افسر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو ئے اور بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کئی نقاب پوش آئے اور مجھے اٹھا کر لے گئے اور کئی گھنٹے بعد فارم 45 میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا، ان وجو ہا ت کی بنا پر دو پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ شامل نہیں کیا۔الیکشن کمیشن نے این اے 270 کے ریٹرننگ افسر اور کامیاب امیدوار کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔

افسران اغواء

مزید : صفحہ آخر