عمران خان ، پرویز خٹک ، ایاز صادق ، فضل الرحمن کی غیر مشروط معافی قبول

عمران خان ، پرویز خٹک ، ایاز صادق ، فضل الرحمن کی غیر مشروط معافی قبول

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن نے غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے سے متعلق کیس میں عمران خان ،سردار ایاز صادق اور پرویز خٹک کی غیر مشروط معافی قبول کر لی جبکہ تینوں کو وارننگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ ایسی زبان برداشت نہیں کی جائے گی ،الیکشن کمیشن نے ایاز صادق اور پرویز خٹک کی کامیابی کے مشروط نوٹیفکیشن کو باضابطہ قرار دے دیا ۔جمعرات کو الیکشن کمیشن میں عمران خان،سردار ایاز صادق ،پرویز خٹک اور مولانا فضل الرحمن کی جانب سے غیر اخلاقی زبان کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے کی،عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنا جواب جمع کرایا جس میں الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی گئی، ایاز صادق کے وکیل نے کہا کہ جب بندہ تقریر کر رہا ہوتا ہے تو تھوڑی بہت غلطی ہو جاتی ہے ،میں معافی مانگنا چاہتا ہوں،انہوں نے یہ جان بوجھ کر نہیں بولا ، ممبر کے پی کے نے کہا کہ وہ خود نہیں آئے، وکیل نے کہا کہ آپ کہیں تو میں بلوا لیتا ہوں انہوں نے اڈیالہ جانا تھا ،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ ایک اور تقریر میں وہ ہمیں دکھا رہے تھے کہ ہماری اتنی اوقات نہیں ہے جتنے ہمیں اختیارات دیئے گئے ہیں سماعت کے د وران پرویز خٹک اور ان کے وکیل بھی پیش ہوئے جبکہ سماعت کے دوران پرویز خٹک کی جانب سے میڈیا پر اپنے بیان کی معافی مانگنے کا کلپ بھی چلا یا گیا ،سماعت کے دوران مولانا فضل الرحمن کے وکیل بھی پیش ہوئے الیکشن کمیشن نے کیسزپر فیصلہ محفوظ کرلیا،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے سے متعلق کیس میں عمران خان ،سردار ایاز صادق اور پرویز خٹک اور فضل الرحمٰن کی غیر مشروط معافی قبول کر لی جبکہ تینوں کو وارننگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ ایسی زبان برداشت نہیں کی جائے گی ،الیکشن کمیشن نے ایاز صادق اور پرویز خٹک کی کامیابی کے نوٹیفکیشن کو باضابطہ قرار دے دیا۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری سے متعلق کیس میں بابر اعوان کا تحریری جواب مسترد کردیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے بیان حلفی اور ان کا دستخط شدہ معافی نامہ طلب کرلیاہے۔25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے این اے 53 اسلام آباد کے پولنگ اسٹیشن پر گئے جہاں انہوں نے پولنگ بوتھ کے پیچھے جاکر مہر لگانے کی بجائے میڈیا کے سامنے ہی بیلٹ پیپر پر مہر لگائی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا۔چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے کے از خود نوٹس کی سماعت کی جس سلسلے میں ان کے وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور اپنے مؤکل کی طرف سے معافی مانگی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹ کی رازداری افشا کرنا معافی کا معاملہ نہیں، عمران خان نے ووٹ کی رازداری سے متعلق جواب نہیں دیا۔اس پر بابر اعوان نے کہاکہ میں عمران خان کی جانب سے آج ووٹ کی رازداری پرجواب جمع کرادیتا ہوں۔چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کرووٹ نہیں دکھایا، ان کی مرضی سے ووٹ کی تصاویر بھی نہیں لی گئیں، رش کے باعث مہر لگانے والی جگہ کا پردہ گرگیا تھا، عمران خان نے پوچھا تھا کہاں کھڑے ہوکر مہرلگاؤں۔جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ ووٹ دکھانے میں میرے مؤکل کی مرضی شامل نہیں لہٰذا ووٹ کی رازداری افشا کرنے والا کیس ختم کرکے این اے 53 سے روکا گیا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔الیکشن کمیشن نے بابر اعوان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرانے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری جواب مسترد کردیا اور چیئرمین تحریک انصاف سے بیان حلفی سمیت ان کا دستخط شدہ معافی نامہ طلب کرلیا۔الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ عمران خان معافی نامہ اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائیں، کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول