قومی اسمبلی کا اجلاس 13اگست کو طلب ، سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کا انتخاب ہوگا ، 180ارکان کی حمایت حاصل ، تحریک انصاف

قومی اسمبلی کا اجلاس 13اگست کو طلب ، سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کا انتخاب ...

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) صدرِ ممنون حسین نے 13 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ اجلاس 4 روز تک جاری رہے گا جس میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور وزیرِاعظم کا انتخاب ہو گا۔نگران وزیرِاعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلانے کی سمری صدر مملکت ممنون حسین کو بھجوائی تھی۔ سمری میں نئی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو بلانے کی تجویز دی گئی تھی۔صدر ممنون حسین نے سمری کی منظوری دیدی ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس 4 روز تک جاری رہے گا، پہلے اجلاس میں قومی اسمبلی کے نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے، پھر سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا اور اس کے بعد قائدِ ایوان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔واضح رہے کہ 25 جولائی کو عام انتخابات ہوئے تھے اور آئین کے تحت نگران حکومت کی جانب سے ہر حال میں 15 اگست تک قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بلایا جانا ضروری ہے۔

اجلاس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،آئی این پی) ترجمان پاکستان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بی این پی مینگل کی حمایت کے بعد نمبر 180کو کراس کرگیا ہے‘ 342کے ایوان میں 172 ارکان کی حمایت درکار تھی۔ جمعرات کو حکومت سازی کے لئے پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے 180 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کردیا۔ ترجمان پاکستان تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بی این پی مینگل کی حمایت کے بعد نمبر 180کو کراس کرگیا ‘ 342کے ایوان میں 172 ارکان کی حمایت درکار تھی۔دوسری طرف سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کیلئے تین اتحادی جماعتوں میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے ۔صوبے میں قائد حزب اختلاف کے لیے جی ڈی اے کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے ۔ ایم کیو ایم پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم سندھ اسمبلی میں تینوں جماعتوں کے درمیان قائد حزب اختلاف کے عہدے کے حصول کیلئے دوڑ جاری ہے ۔پاکستان تحریک انصاف 23 جنرل اور 7مخصوص نشستوں کے ساتھ صوبے کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے تاہم اس کو اپنا اپوزیشن لیڈر لانے کے لیے جی ڈی اے یا ایم کیو ایم میں کسی ایک جماعت کی حمایت لازمی حاصل کرنا ہوگی ۔ ایم کیوایم کے پاس سندھ اسمبلی میں 21 کا ہندسہ ہے جب کہ جی ڈی اے 13 ارکان پر مشتمل پارلیمانی پارٹی ہوگی۔اپوزیشن لیڈر کے لیے اکثریت ثابت کرنے والی جماعت حقدار ٹھہرے گی۔ایم کیوایم جی ڈی اے کو ساتھ ملانے کے لیے متحرک ہے ، دوسری جانب کھلاڑیوں اور پتنگ والوں میں پھر دراڑ پڑنے کا امکان نظر آرہا ہے اور ایک عہدہ دونوں میں تقسیم کا فارمولہ بھی زیر غور ہے۔پی ٹی آئی میں خرم شیرزمان ، حلیم عادل اور فردوس شمیم نقوی اپوزیشن لیڈر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں ۔ایم کیوایم اور جی ڈی اے مل جائیں تو تعداد 34 بن جاتی ہے جس کیلئے ایم کیوایم نے جی ڈی اے سے رابطہ بھی کرلیا ہے ، ایم ایم اے اور تحریک لبیک کے 3 ارکان اپوزیشن میں بیٹھتے ہیں تو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی تعداد67 ہوجائے گی۔کپتان کے سینئر کھلاڑیوں اور ایم کیوایم کی خواہش ہے کہ لڑائی کے بجائے اپوزیشن لیڈر کے لیے پہلے ہم پھر تم کا فارمولہ طے پاجائے یعنی اپوزیشن لیڈر کے لیے اڑھائی اڑھائی سال کی مدت مقرر کرلی جائیپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سندھ اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعرات کو بنی گالہ میں طلب کیا گیا تھا جس میں سندھ سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی ایم پیز بنی گالہ میں موجو دتھے۔بنی گالہ میں عمران خان کی زیرصدارت نو منتخب اراکین کا اجلاس ہوا جس میں صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی طے کی گئی۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے سندھ کے حوالے سے اہم فیصلہ کرلیا ہے اور صوبائی اسمبلی میں حلیم عادل شیخ کا دریں اثنا پنجاب سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 123سے تحریک انصاف کی کامیاب امیدوارسونیا رضا ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں 19ووٹ سے ہار گئیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کو حکومت سازی کے مرحلے کے دوران بڑا دھچکا لگ گیا،پی پی 123 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پی ٹی آئی کی سونیا رضا اسمبلی نشست سے ہاتھ دھوبیٹھیں۔25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں سونیا رضا اپنے مدمقابل(ن) لیگی امیدوار قطب علی شاہ سے صرف 70ووٹوں کے فرق سے کامیاب قرار پائی تھیں، انتہائی کم مارجن سے کامیابی پر ہارنے والے امیدوار نے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔عدالت عالیہ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا اور دوبارہ گنتی میں انہیں 16ووٹوں سے کامیابی مل گئی،حلقے سے دوبارہ گنتی کے کامیابی کا فارم49جاری کردیا گیا ہے۔گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر عہدوں پر نامزد ہونے والے امیدواروں کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے، جی ڈی اے کے سربراہ پیر صاحب پگارا نے کہا ہے کہ عمران خان ملک و قوم کی بہتری کے لئے آگے بڑھیں ہم ان کے لئے مشکلات پید انہیں کریں گے بلکہ ہر موقع پر ان کا ساتھ دیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے ایک اعلی سطحی وفد نے جس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، ڈاکٹر عارف علوی اور عمران اسماعیل شامل تھے جمعرات کی شام کنگری ہاؤس کراچی میں جی ڈی اے کے سربراہ پیر صاحب پگارا سے ملاقات کی اور ان سے وفاق میں پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت سازی اور دوسرے اہم سیاسی امور پر گفتگو کی۔ اس موقع پر جی ڈی اے کے رہنما پیر صدر الدین شاہ راشدی، سید غوث علی شاہ ، علی گوہر خان مہر،فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، حسنین مرزا،غوث بخش خان مہر اور دیگر بھی موجود تھے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے دوران مرکز میں حکومت سازی اور سندھ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے وفد نے پیر پگارا کو عمران خان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے پیر پگارا اور جی ڈی اے کی دوسری لیڈر شپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو بہت مفید قرار دیا اور کہا کہ عمران خان کی مکمل حمایت کرنے پر ہم پیر صاحب پگارا کے انتہائی مشکور ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سندھ کی ترقی کے لئے پیر صاحب کی سربراہی میں تحریک انصاف اپنا کردارادا کریگی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وفاق میں حکومت سازی اور ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے پیرصاحب سے تعاون مانگا تھا، جس پر انہوں نے ہمارا بھر پور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے کے ساتھ سیاسی تعاون کا سلسلہ الیکشن سے قبل بھی جاری رہا ہے اور ہم آپس میں مسلسل رابطے میں تھے تاہم آج ہم نے وافق میں حکومت سازی کے لئے باقاعدہ طور پر جی ڈی اے سے ووٹ مانگے تھے۔جس پر جی ڈی اے نے عمران خان۔ ہماری جانب سے نامزد کردہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اس بار سندھ سے اتنی نشستیں ملی ہیں جو اسے بے نظیر کی شہادت کے بعد بھی نہیں ملی تھی پھر وہ کونسی دھاندلی کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کے بجائے جی ڈی اے کو ووٹ دئیے تھے لیکن جیت پیپلز پارٹی کی نظر آئی،انتخابات کے دوران دولت اور پیسے کا جوعنصر سندھ میں دیکھا اس کی مثال نہیں ملتی ۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم سندھ میں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے اور یہاں جوائنٹ اپوزیشن بنائی جائے گی جس میں جی ڈی اے اورایم کیو ایم بھی ہمارے ساتھ ہوگی ۔جلد اس حوالے سے مشاورتی عمل شروع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وفاق کے بعد اب پنجاب میں بھی تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہوگئی ہے ۔پنجاب سے 23 آزاد امیدوار ہمارے ساتھ آگئے ہیں اب پنجاب میں ہماری تعداد 146 ہوگئی ہے۔یاس موقع پر پیر صاحب پگارا نے کہا کہ آج پی ٹی اے کے دوستوں کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ہم پہلے ہی ان کی حمایت کا فیصلہ کرچکے تھے،جی ڈی اے ہر قدم پر عمران خان کے ساتھ کھڑی نظر آئے گا۔عمران خان بہتری کے لیے آگے بڑھیں ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہمیں سازش کے تحت ہرایا گیا ہے جس پر پرامن احتجاج جاری رہے گا ہم عمران خان کے لیے مشکلات پیدا نہیں کریں بلکہ ہر معاملے میں ان کا ساتھ دیں گے جس کی یقین دہانی آج کی ملاقات میں بھی کرادی گئی ہے۔

تحریک انصاف

لاہور(جاوید اقبال +شہزاد ملک) متحدہ اپوزیشن پنجاب اسمبلی میں سپیکر پنجاب اسمبلی اورڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن کے لئے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا ابھی تک کوئی بھی فیصلہ نہ کر سکی اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن نے اس حوالے سے تا حال مشاورت کا سلسلہ شروع کیا ہے جس سے یوں لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کیلئے پنجاب میں میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے لیئے کسی بھی جگہ میدان کھلا نہیں چھوڑ رہے نہ چھوڑیں گے پی ٹی آئی کو بتائیں گے کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے پنجاب میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیئے متحدہ اپوزیشن سے مشاورت جاری ہے آئندہ دو روز میں صورتحال واضع ہو جائے گی ،انھوں نے کہا پیپلز پارٹی کے پاس چند نشستیں ہیں لیکن ان سے بھی مشاورت کریں گے اس بات کا قوی امکان ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ن لیگ کے مینڈیٹ کا احترام کریں گی ۔اور وزیر اعلی ،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے امید واروں کے لیئے ن لیگ کی حمائت کریں گی ۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں پیپلز پارٹی نے مرکز کی طرح پنجاب میں بھی ن لیگ سے سپیکر کا عہدہ مانگا ہے ن لیگ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے اس مطالبے پر مشاورت سے فیصلہ کریں گے ۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) نے قائد ایوان (وزیر اعلی )کا الیکشن لڑنے کے لئے تو اپنے امیدواروں پر غور کر رکھا ہے لیکن اس حوالے سے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے حوالے سے کوئی مشاورت یا کسی امیدوار کا نام سامنے نہیں آیا ہے یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کااعلان کررکھا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی جو کہ مرکز میں متحدہ اپوزیشن کاایک مضبوط حصہ ہے وہ (ن) لیگ کے امیدوار کو قائد ایوا ن کے الیکشن مین ووٹ دیتی ہے یا نہیں ابھی تک اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا کوئی بھی واضح فیصلہ سامنے نہیں آ سکا ہے ۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ اول