چیف جسٹس کا تحقیقات میں تاخیر پر اظہار برہمی سابق چیئرمین نیب پیش

چیف جسٹس کا تحقیقات میں تاخیر پر اظہار برہمی سابق چیئرمین نیب پیش

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے نندی پور پاور پراجیکٹ کرپشن سکینڈل کی تحقیقات میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا نیب کے سابق چیئرمین قمرالزمان چودھری اور پراسیکیوٹر جنرل کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے 2012 سے مقدمہ زیرالتوا ہے، فیصلے کیلئے ٹائم فریم دیں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نندی پور پاور پراجیکٹ کرپشن کیس کی سماعت کی۔ نندی پور منصوبے پر رحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق منصوبے کے ذریعے قومی خزانے کو 113 ارب روپے کا نقصان ہوا، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اس منصوبے سے متعلق دو کیسز نیب لاہور جبکہ ایک نیب راولپنڈی میں زیرتفتیش ہے، اس مہینے ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دینگے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کے استفسار پر خواجہ آصف نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ ریفرنس فائل ہو، نندی پور منصوبے کے تاخیر کی وجہ سے 27 ارب روپے کا نقصان ہوا، 27 ارب روپے میں اپرچیونٹی کاسٹ شامل نہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جس شخص کی قانونی رائے سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا اس پر ریفرنس کیوں نہیں بنا ؟ جو ریفرنس بنتے ہیں بنائیں ورنہ فارغ کریں، 2012 سے یہ مقدمہ زیرالتوا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سابق چیئرمین قمرالزمان چودھری اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بلائیں، اس مقدمے کو نمٹانے کیلئے ٹائم فریم دیں گے، تفتیش میں غلطی پائی گئی تو تفتیشی افسر کو پکڑیں گے۔ عدالتی وقفہ کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سابق چیئرمین نیب قمر الزمان چودھری عدالت میں پیش ہوگئے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ آپ کے کیخلاف انکوائری کیوں نہ کرائیں، نیب بتائے کہ قمر الزمان چوہدری کے دور میں کتنے مقدمات کی انکوائری نہیں ہوسکی۔ قمر زمان چوہدری نے کہاکہ نندی پور پاور پلانٹ کی انکوائری اور تحقیقات کروا کر گیا ہوں۔چیف جسٹس نے کہاکہ نیب بتا دے کہ نندی پور ریفرنس کب فائل ہونگے؟ اور قمر الزمان چوہدری کے دور کی زیر التواء انکوائریوں کی فہرست بنا کر دی جائے ، سابق چیئرمین قمر الزمان چوہدری سے وضاحت مانگیں گے، قمر الزمان چوہدری لوگوں کو فائدہ دیتے رہے، قمر الزمان چوہدری کے دور میں نیب کا بھٹہ بیٹھا ہوا تھا۔

نندی پور کیس

مزید : صفحہ اول