وزیراعظم آزاد کشمیر اور محمود اچکزئی کو نوازشریف سے ملاقات کی اجازت نہ ملی

وزیراعظم آزاد کشمیر اور محمود اچکزئی کو نوازشریف سے ملاقات کی اجازت نہ ملی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود اچکزئی کو اڈیالہ جیل میں نوازشریف سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔میاں نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنما اڈیالہ جیل پہنچے ۔ اس کے علاوہ سینیٹر پرویز رشید اور عرفان صدیقی کو بھی میاں نوازشریف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔اڈیالہ جیل کے باہرگفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے نواز شریف سے ملاقات کی درخواست رد کردی، ہمیں کہا گیاآپ لوگ جیل کی حدود سے چلے جائیں، میں نینے جیل حکام سے کہا کہ بطور پارلیمنٹیرین جیل کا معائنہ میرا حق ہے لیکن نوازشریف کی وجہ سے ہمیں اس حق سے بھی محروم کردیا گیاہے۔عرفان صدیقی کا کہنا تھاکہ لسٹ پتہ نہیں کہاں سے بن کرآئی اس میں نام نہیں، مجھے کہا گیا آپ مل چکے ہیں دوبارہ نہیں مل سکتے، اس طرح قریبی لوگوں کو ملاقات سے محروم رکھنا جبر کے مترادف ہے۔مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ملاقات کا دورانیہ ایک سے بڑھا کر 2 یا 3 دن کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگومیں محمود اچکزئی نے کہاکہ دو ہفتے سے اسلام آباد میں ہوں، ہر بار مجھے منع کردیتے ہیں، یہ کیا طریقہ ہے، وہ تین بار کے وزیراعظم ہیں۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ آئین ہر آدمی کوجیل میں کسی بھی آدمی سے ملاقات کا حق دیتا ہے۔۔اس کے علاوہ عابد شیر علی، طارق فضل چوہدری، غلام بلور، محمد زبیر امیر، امیر مقام، رانا تنویر، بلیغ الرحمان، عطا الحق قاسمی اور طارق فاطی بھی اہلیہ کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچے

سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر غصے میں آگئے۔ اور گیٹ پر زبردستی گاڑی کھڑی کردی۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ جب تک اجازت نہیں ملتی گاڑی نہیں ہٹے گی۔

مزید : صفحہ اول