ایم کیو ایم پسند کرے یا نا پسند ووٹ عمران خان کو ہی دے گی

ایم کیو ایم پسند کرے یا نا پسند ووٹ عمران خان کو ہی دے گی
ایم کیو ایم پسند کرے یا نا پسند ووٹ عمران خان کو ہی دے گی

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ابھی وزیراعظم کے لئے ووٹنگ نہیں ہوئی اس لئے تحریک انصاف کے جذباتی ارکان کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی زبانوں پر قابو رکھیں، ایم کیو ایم کے بارے میں ان کے حقیقی جذبات جو بھی ہوں کیا ضروری ہے کہ انہیں زبان پر بھی لایا جائے، جب حیات کا ماحول سازگار ہوجائے گا تو اس وقت ’’محبت کے گیت‘‘ از سر نو چھیڑے جاسکتے ہیں، سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے منتخب ارکان نے جمعرات کو بنی گالہ میں پارٹی قائد عمران خان سے ملاقات کی تو انہیں یہی بات سمجھائی گئی، اگرچہ ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا تو یہی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ان کی جماعت کا تعاون مشروط ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ شرطیں پوری ہوئیں تو تحریک انصاف کے ساتھ تعاون کیا جائے گا، انہوں نے اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ اگر یہ شرطیں پوری نہیں ہوتیں تو کیا وہ اپنا تعاون واپس لے لیں گے’ اس تعاون میں ایک بہت باریک سا نکتہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اس کی ضرورت صرف قائد ایوان کے انتخاب کے وقت پڑے گی اور یہ بات تحریک انصاف کی قیادت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس تحریک انصاف کے نامزد امیدوار کو ووٹ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، ایم کیو ایم کو پسند ہو یا نا پسند، وہ فردوس شمیم نقوی جیسے لوگوں سے متفق ہو یا نہ ہو، ان کے خیالات ایم کیو ایم کو جتنا بھی سیخ پا کردیں، ووٹ عمران خان کے لئے مختص ہوچکا، یوں سمجھ لیں کہ ایم کیو ایم کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں، ایسا کیوں ہے اول تو تھوڑے عرصے کے بعد آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ آپشن کیوں نہیں تھا لیکن اگر آج آپ کو اس کا ادراک نہیں تو حالات کا دھارا جب اپنی رفتار کے ساتھ بہنا شروع ہوجائے گا وفاقی اور صوبائی حکومتیں بن جائیں گی، نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی جائیں گی تو بہت سے حقائق آپ سے آپ سطح آب پر آجائیں گے، جو اس وقت تہہ میں ہیں اور کسی کو نظر آتے ہیں اور کسی کو نہیں، بعض ایسے جہاں دیدہ لوگ ہوتے ہیں جو ہواؤں کی خوش بو سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ ان کا رخ کس طرف ہے، ان ہواؤں کے جمع کئے ہوئے بادلوں سے بارش برسے گی یا بدلیاں یوں ہی دوسری ہوائیں اڑا لے جائیں گی، بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو بارش میں بھیگ کر بھی یہ یقین کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ بارش برس چکی، اس لئے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صاحبِ فہم و ذکا بنایا ہے تو آپ کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ ایم کیو ایم (پاکستان) کو بھلے تحریک انصاف اور فردوس نقوی جیسے رہنماؤں سے کتنی ہی شکائتیں ہوں وہ ووٹ بہرحال عمران خان کو دیں گے، ان سطور میں ہم نے اس وقت بھی لکھ دیا تھا جب ابھی جہانگیر ترین کے ساتھ شرطوں والا معاہدہ طے بھی نہیں ہوا تھا، جس کا حوالہ آج خواجہ اظہار الحسن دے رہے ہیں، جہانگیر ترین نے جونہی ایم کیو ایم کی قیادت کے پاس جانے کا عندیہ دیا تھا تو اسے پہلے سے معلوم تھا کہ ان کی آمد کا مقصد کیا تھا، ایم کیو ایم نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ جہانگیر ترین کو حمایت کی یقین دہانی کرائی جائیگی البتہ اس کے اظہا رسے پہلے ان کے سامنے بعض شرائط رکھی جائیں گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، دونوں جماعتوں میں تحریری معاہدہ ہوا، اور ایم کیو ایم نے عمران خان کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا، اس دوران بعض بیانات کا ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے بہت برا منایا اور کہا کہ شمیم نقوی جیسے لوگوں کی وجہ سے یہ معاہدہ منسوخ بھی ہوسکتا ہے لیکن شمیم نقوی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بارے میں ہمارے جو خیالات ہیں ان میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی البتہ ہمیں چونکہ وزیراعظم کے لئے ایک ایک ووٹ کی ضرورت ہے اس لئے ہم اپنے ان خیالات کا اظہار نہیں کررہے، یہی بات بنی گالہ کے اجلاس میں طے ہوئی کہ فی الحال تحریک انصاف کے ارکان زیادہ جذباتی نہ ہوں اور حالات کے تقاضوں کو سمجھیں، حالات سازگار ہونے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہیں۔

تحریک انصاف سندھ اسمبلی کی دوسری بڑی جماعت ہے، یہ مقام پہلے ایم کیو ایم کے پاس تھا، جو اس کی سیاست کی وجہ سے اس سے چھن چکا ہے، سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر بھی ایم کیو ایم کو مشکل حالات درپیش تھے وہ اپنے ارکان کی تعداد کے مطابق چار سینیٹر منتخب کراسکتی تھی لیکن پارٹی دھڑے بندیوں کی وجہ سے صرف ایک سینیٹر منتخب کراسکی، قیادت کا بحران بھی پیدا ہوا اور یہ ڈاکٹر فاروق ستار سے چھن گئی، اب خالد مقبول صدیقی کے پاس ہے، خود ڈاکٹر صاحب ایک دوسرے ڈاکٹر سے ہار گئے ہیں جو کبھی ان کی صفوں کو رونق بخشتے تھے اور اب تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، اس لئے اے قارئین محترم اختلافات جہاں بھی ہیں اور جیسے بھی ہیں یہ وزیراعظم کے منصب کے لئے ووٹ ڈالے جانے کے بعد ہی سر اٹھائیں گے، ان کی نوعیت کیا ہوگی یہ اس وقت دیکھا جائیگا، فی الحال تو دیوار پر یہی لکھا ہے جو ان سطور میں عرض کردیا گیا ہے۔

مزید : تجزیہ