سزائے موت جو حکام کیلئے درد سر بن چکی ہے ، حقائق جان کر آپ کو شدید حیرانگی ہوگی

سزائے موت جو حکام کیلئے درد سر بن چکی ہے ، حقائق جان کر آپ کو شدید حیرانگی ...
سزائے موت جو حکام کیلئے درد سر بن چکی ہے ، حقائق جان کر آپ کو شدید حیرانگی ہوگی

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی ریاست نبراسکا کے لیے ایک قیدی کو سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کا فیصلہ بڑا دردِ سر بن گیا ہے۔ اس کی وجہ ایک جرمن دوا ساز کمپنی کا یہ اصولی مطالبہ ہے کہ سزائے موت کے لیے اس کا بنایا ہوا زہر استعمال نہ کیا جائے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس جرمن دوا ساز کمپنی کا نام ’فریزینیئس‘ (Fresenius) ہے اور اس ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور پر اپنی غیر جانبداری کی وجہ سے کسی بھی انسان کو سزائے موت دیے جانے کا نہ تو حامی ہے اور نہ ہی مخالف۔

لیکن اس کمپنی کا المیہ یہ ہے کہ ریاست نبراسکا میں ایک مجرم کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ریاستی محکمہ جیل خانہ جات جو زہر استعمال کرنا چاہتا ہے، وہ اسی کمپنی کا تیار کردہ ہے۔ جرمن فارماسیوٹیکل کمپنی ’فریزینیئس‘ کا پورا نام ’فریزینیئس کابی‘ ہے اور اس کے تو نام کا مطلب ہی یہ ہے: ”ہم انسانوں کی مدد کرتے ہیں۔“

اس دوا ساز ادارے کا موقف ہے کہ وہ اس بات کو کبھی قبول نہیں کرے گا کہ نبراسکا کی ایک جیل میں ایک سزا یافتہ مجرم کو موت کی نیند سلا دینے کے لیے جو زہریلا ٹیکہ لگایا جائے، اس میں اسی کمپنی کے تیار کردہ کیمیائی مادوں سے بنایا گیا ایک مرکب استعمال ہو۔

’فریزینیئس‘ کے مطابق اس کے لیے یہ معاملہ ایک ’اصول کی بات‘ ہے اور اس کے علاوہ اس طرح اس کے دوا سازی کے ذریعے بیمار ’انسانوں کی مدد کرنے‘ کے اصول اور اس سے جڑی اخلاقی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نبراسکا میں جس ملزم کو سزائے موت دی جانا ہے، اس کا نام کیری ڈین مور ہے، جو 1974 سے دو ٹیکسی ڈرائیوروں کے قتل کے جرم میں جیل کے ایک ’ڈیتھ سیل‘ میں بند ہے اور اب اس نے اپنی سزائے موت پر ممکنہ عمل درآمد کے خلاف جدوجہد بھی ترک کر دی ہے۔ نبراسکا میں حکام اب اس کی سزا پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس ریاست میں کسی مجرم کو سزائے موت دینے کا 21 برسوں بعد یہ پہلا اور زہریلے ٹیکے کے ذریعے سزائے موت کا آج تک کا اولین واقعہ ہو گا۔

نبراسکا کا محکمہ جیل کیری ڈین مور کو ہلاک کرنے کے لیے جو ٹیکہ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ چار ایسے کیمیائی مادوں سے تیار کیا گیا ہے، جن میں سے ایک سے دل کی حرکت بند ہو جاتی ہے۔ لیکن خود ریاستی محکمہ جیل خانہ جات کے لیے بھی یہ ایک پہیلی ہے کہ اسٹیٹ گورنمنٹ نے یہ کیمیائی مادے کہاں سے اور کیسے حاصل کیے۔ اس لیے کہ ’فریزینیئس‘ کی طرف سے اس کی طبی مصنوعات ایسے مقاصد کے لیے کسی بھی ملک میں کسی بھی جیل کو مہیا نہیں کی جاتیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /جرم و انصاف