کراچی کی تبدیلی میں پی ٹی آئی کا اہم کردار ادا ہو گا

کراچی کی تبدیلی میں پی ٹی آئی کا اہم کردار ادا ہو گا

(تجزیاتی رپورٹ/نعیم الدین) کیا آئندہ کراچی کی سیات میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کوئی اہم رول ادا کرسکے گی۔ یہ ایک سوال ہے جو کراچی کے شہری ایک دوسرے سے کررہے ہیں۔ ان شہریوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جماعت مرکز اور پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان میں تو حکومت بنارہی ہے، جبکہ سندھ میں اس کی حکومت نہیں بنے گی، ماضی کی طرح پھر پرانی جماعت پیپلز پارٹی کو ہی سندھ کا اقتدار ملے گا۔ کراچی دراصل مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، تحریک انصاف تو دراصل کراچی سے جیتی ضرور ہے لیکن اس کا یہ مینڈیٹ کراچی کیلئے کیا کردار ادا کرے گا۔ اس کا اندازہ لگانا عوام کو مشکل ہورہا ہے۔ الیکشن 2018 میں دراصل مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی آپس کا مقابلہ سمجھتے رہے اور ان دونوں جماعتوں نے تحریک انصاف کو سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جیت تو صرف اور صرف مہاجر قومی موومنٹ اور پی ایس پی کی ہی ہوگی ، لیکن نتیجہ اس کے بالکل مختلف آیا ، کراچی کی ان تینوں جماعتوں جن میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہے، کو یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ کراچی میں 2013 میں خاموش ووٹ جو تحریک انصاف کو پڑا تھا، وہ ایک بار پھر کراچی الیکشن میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کیلئے خطرہ ثابت ہوجائیگا، بعض حلقوں میں مقابلہ سخت ہوا، لیکن جب خاموش ووٹرز نے کام کردکھایا اور شاید تحریک انصاف کو بھی اندازہ ٹھیک سے نہیں تھا کہ اسے اس قدر کامیابی نصیب ہوگی، یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے کراچی کو خصوصی توجہ نہیں دی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کراچی میں وہ کام نہ ہوسکے جس کی توقع ہے تو کراچی کا مستقبل کیا ہوگا ۔ پیپلز پارٹی کو شہر کی حالت بہتر بنانے کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی کیونکہ سندھ میں اس کیلئے میدان خالی ہے اور کراچی کو جتنی زیادہ توجہ کی ضرورت اب ہے، اتنی پہلے نہیں تھی اور آج بھی ہے ۔ اس شہر کو اگر خصوصی توجہ ابھی بھی دیدی گئی تو آئندہ اس شہر کے لوگ اس شہر کیلئے ترقیاتی کاموں کو بھول نہیں پائیں گے۔ کراچی میں گرین بس منصوبہ تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جس طرح ماضی میں لیاری ایکسپریس وے کا جو حشر ہوا ہے، اس طرح گرین بس کا نہ ہو اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی اس شہر کو جس قدر ضرورت ہے وہ برسوں کا خواب ہے ، ابھی تو عوام کی یہ بھی نگاہیں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران نے جو 100 دن کا پروگرام دیا ہے اس سے ان کا ویژن کا پتہ چل جائے گا اور آئندہ پانچ سالوں کیلئے وہ کیا لائحہ عمل تیار کریں گے اور اس سے کراچی شہر کو کوئی فائدہ پہنچ سکے گا یا نہیں ، کیونکہ ان کا نہ تو وزیراعلی ہوگا ، نہ ہی میئر، بلکہ ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عمران خان کراچی کی قومی اسمبلی کی سیٹ رکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ کراچی کے عوام اس خوش فہمی میں رہے ہیں کہ آئندہ وزیراعظم کراچی سے ہوگا کیونکہ شہباز شریف بھی جو کہ وزیراعظم کے امیدوار ہیں اور وہ کراچی کی قومی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑے ہیں، لیکن کامیاب نہ ہوسکے ہیں ۔ کیا کراچی کے عوام شہر کو خوبصورت بنانے اور اس کو اسکا پرانا تشخص دلانے کیلئے شہباز شریف جیسے وزیراعلی کی ضروت محسوس کریں گے۔

مزید : کراچی صفحہ اول