کراچی میں نجی سکول سیل کرن پر طلبا و طالبات سراپا احتجاج

کراچی میں نجی سکول سیل کرن پر طلبا و طالبات سراپا احتجاج

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہرقائدکے علاقے گلشن اقبال بلاک10 میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے)کی جانب سے ایک اسکول کی عمارت کو سیل کردیا گیا ہے جس کے بعد طلبہ و طالبات نے تعلیمی ادارے کے باہر احتجاج کیا، احتجاجی مظاہرے میں طلباء کے والدین بھی شرکت کی۔جمعرات کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد اسکول سیل کرنے کے خلاف طلبا و طالبات، والدین اور اسکول انتظامیہ نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کردیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق ایس بی سی اے کی جانب سے پیشگی نوٹس کے بغیر عمارت کو سیل کیا گیا اور بتایا گیا کہ اسکول غیر قانونی ہے۔ ٹیچرزنے بتایاکہ جب صبح اسکول پہنچے تو اسکول کو تالا لگا ہوا تھا۔اسکول انتظامیہ کے مطابق ایس بی سی نے اسکول کے باہر نوٹس چپکا دیا ہمیں کوئی نوٹس پہلے سے نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر اسکول انتظامیہ نے ایس بی سی کے خلاف نعرے بازی کی، طلبا اور ٹیچرز نے اسکول کے باہر بیٹھ کر احتجاج کیا اور اسکول کے باہر ہی پڑھائی شورع کردی۔انتظامیہ نے کہاکہ کے علاقے میں اور بھی اسکول ہیں، لیکن صرف ہمارے ہی اسکول کو سیل کیا گیا ہے۔ طلبا اور ٹیچرز نے اسکول کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اسکول کھول دیا جائے، ہزاروں طلبا کا مستقبل داؤ پرلگا ہوا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کہ اگر اسکول نہ کھولا گیا تو سیل توڑ کر عمارت میں داخل ہو جائیں گے۔احتجاج میں شریک والدین نے کہاکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اس اقدام نے بچوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بچوں کے والدین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مسئلہ کے حل پر فوری توجہ دی جائے۔دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ اسکول رہائشی پلاٹ پر اسکول تعمیر کیا گیا تھا،رہائشی زمین کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کیا جارہا تھا۔انہوں نے کہاکہ رہائشی زمین پر قائم اسکول کی زمین کو کمرشل کروانا پڑتا ہے۔ اسکول کو علاقہ مکینوں کی شکایات پر سیل کیا گیا۔سوسائٹی کی جانب سے بھی اسکول کے خلاف شکایت بلڈنگ کنٹرول کو موصول ہوئی تھی

مزید : کراچی صفحہ اول