سینیٹ قائمہ کمیٹی کی دینی تعلیم کو لازمی طور پر نصاب میں شامل کی سفارش

سینیٹ قائمہ کمیٹی کی دینی تعلیم کو لازمی طور پر نصاب میں شامل کی سفارش

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم نے قرآن پاک اور اسوہ حسنہ کو لازمی مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کر دی، کمیٹی ارکان نے کہا کہ نصاب میں شامل قرآن پاک کی ایسی تشریح کرنی ہوگی جس پرتمام مکتبہ فکر کے علمامتفق ہوں،پاکستان کے اندر عدم برداشت کا کلچر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے جس کو(بقیہ نمبر9صفحہ12پر )

روکنا ہوگا،ایچ ای سی کی جانب سے پی ایچ ڈی کے سکالرز کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ان کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، ایک سکالر اپنا تحقیقاتی کام وقت پر جمع نہیں کرا سکا اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو 6سال تک ذلیل کیا جائے،ایچ ای سی اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پا ناکام رہا ہے۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کا اجلاس سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر نجمہ حمید، سینیٹر مولوی فیض محمد، سینیٹر مہر تاج روغانی، سینیٹر ہلال الرحمٰن، سینیٹر گل بشرہ ، سینیٹر شفیق ترین، سیکرٹری وفاقی تعلیم، ایگزیکٹو ڈائرکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن، چیئرمین این سی ایچ اے اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ وقار زاہدنامی پی ایچ ڈی سکالر کو نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری نہ دیے جانے کے معاملے پر ایگزیکٹو ڈائرکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ طالب علم نے اپنا ریسرچ ورک ٹائم پر جمع نہیں کروایا جس وجہ سے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری نہیں کی گئی۔ اس پررانا مقبول احمد نے کہا کہاسی وجہ سے طالب علم اعلی ٰتعلیم حاصل کر کے امریکہ اور دوسرے ممالک میں چلے جاتے ہیں جہاں ان کیلئے آسانیاں فراہم کی جاتی ہیں جس سے پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہو رہا ہے۔اگر ایک سکالر اپنا تحقیقاتی کام وقت پر جمع نہیں کرا سکا اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو 6سال تک ذلیل کیا جائے۔ساری دنیاکے تعلیمی اداروں کے اندر طلبا کو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا تصور بھی نہیں کیا جاتا ۔انہوں نے وفاقی محتسب کے پاس بھی درخواست دائر کی ہے جس کا فیصلہ ان کے حق میں آیا ہے اور کمیٹی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس موقع پر کمیٹی ارکان نے کہا کہ ایچ ای سی اپنا کام پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔وفاقی محتسب کے فیصلے کے بعد کمیٹی کو بھی یہی لگتا ہے کہ سکالر کو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرنا چاہیے۔اس موقع پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ نصاب میں نظر ثانی کرنا ٹھیک ہے لیکن اس کے ساتھ قرآن پاک اور اسوہ حسنہ کو بھی لازمی مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔رانا مقبول احمد نے کہا کہ قرآن پاک اور اسوہ حسنہ کو بھی لازمی مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ درست ہے لیکن اس حوالے سے قرآن کی تشریح اور دیگر چیزوں کو بھی زیر غور لانا ہوگا کہ تمام مکتبہ فکر کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔اس معاملے پر سینیٹر مولوی فیض محمد کمیٹی کی بہتر طور پر رہنمائی کر سکیں گے۔

دینی تعلیم کی سفارش

مزید : ملتان صفحہ آخر