پاکستان میں تیسرے الیکشن سے جمہوریت مضبوط ہوئی، ایس اے ڈی ڈبلیو

پاکستان میں تیسرے الیکشن سے جمہوریت مضبوط ہوئی، ایس اے ڈی ڈبلیو

واشنگٹن (این این آئی)امریکی تھنک ٹینک ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ (ایس اے ڈی ڈبلیو) نے پاکستان میں مسلسل تیسری مرتبہ انتخابات کے انعقاد کو جمہوریت کے استحکام میں کلیدی کردار قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ایس اے ڈی ڈبلیو نے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں انتخابی مواقع حاصل نہیں رہے، آزادی صحافت بھی جزوی طورپر قدغن کا شکار نظر آئی۔امریکی تھینک ٹینک کے صدر امیر مکھانی نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ سیاسی عمل میں داخلی مداخلت، سیاسی کارکنوں پر تشدد کے واقعات اور انتخابی نتائج میں مبینہ رد وبدل کے باعث انتخابات سے متعلق متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔انہوں نے انتخابات میں کالعدم تنظیموں کی شرکت پر بھی تحفظات کا اظہار ا۔ایس اے ڈی ڈبلیو نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ انتخابات میں مسترد ووٹوں کی تعداد 10 لاکھ 67 ہزاررہی جو الیکشن 2013 کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے اور متعدد پولنگ اسٹیشنز پر سست پولنگ کا عمل، گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹس پر پابندی اور انتخابی نتائج کے اعلان میں خلل انتخابی قواعد و ضوابط کے منافی ہے۔امیر مکھانی نے کہاکہ متعدد انتخابی مسائل کے باوجود انتخابات کے انعقاد سے جمہوری اقدار مضبوط ہوئی ہیں تاہم حلقے میں خواتین ووٹرز کی 10 فیصد لازمی تعداد کے قانون کی وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد نے حق رائے دہی استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ متعدد قبائلی اور شمالی علاقوں میں خواتین نے ووٹ ڈالا اور غیر مسلم کمیونٹی کے 3 امیدواروں نے عام نشست پر انتخابات لڑے تاہم بعض مذہبی اقلیتیں اس بار بھی انتخابی عمل سے باہر رہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر مبینہ قدغن کے باوجود عوامی رائے میں بہتری نظر آئی۔ایس اے ڈی ای ڈبلیو نے پاکستانی انتظامیہ پرزور دیا کہ صحافت پر سنسرشپ کے خاتمے، آزادیِ اظہار کے فروغ اور رائٹس آف ایسوسی ایشن کو آئین اور یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

ایس اے ڈی

مزید : پشاورصفحہ آخر