جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے مینگو پارٹی میں آم کھائے اور سوشل میڈیا پر آم کی قسم کا غلط نام لکھ دیا پھر حامد میر میدان میں آئے اور ۔۔ایسی خبر آئی کہ آپ بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے

جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے مینگو پارٹی میں آم کھائے اور سوشل میڈیا پر آم کی ...
جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے مینگو پارٹی میں آم کھائے اور سوشل میڈیا پر آم کی قسم کا غلط نام لکھ دیا پھر حامد میر میدان میں آئے اور ۔۔ایسی خبر آئی کہ آپ بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کے آم تو پوری دنیا میں ہی مشہور ہیں اور یہ پھلوں کا بادشاہ بھی کہلایا جاتاہے تاہم اس کی پاکستان میں کئی قسمیں پائی جاتی ہیں اور ان کے نام بھی آموں کی قسموں کی تاریخ بیان کرتی ہیں کہ یہ کس طرح سامنے آئیں لیکن انتہائی دلچسپ خبر یہ ہے کہ جرمنی کے سفیر نے آم کھائے اور سوشل میڈیا پر اپنے پسندیدہ آم کا نام غلط لکھ دیا تو حامد میر میدان میں آئے اور انہوں نے نام درست کرواتے ہوئے ساتھ اس کی تاریخ بھی بیان کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے پاکستان میں سفیر مارٹن کوبلر پاکستان بھر میں گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بالکل عام شہری کی طرح یہاں کی مختلف چیزوں سے محظوظ ہوتے ہوئے پوری دنیا میں اس کا پیغام پہنچا رہے ہیں ، انہوں نے مینگو پارٹی میں شرکت کی اور وہاں پر کئی قسم کے آموں کے ذائقے سے بھی لطف اندوز ہوئے اور انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ”اب آم کھانے کا وقت ہے ، مینگو پارٹی میں آم کی مختلف قسموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا ، سندھڑی ، کالا چونسا، جو کہ پنجاب سے ہیں لیکن میرا پسندیدہ آم ” انور راٹھور “ ہے جو کہ ملتان سے ہے ، جس کا ذائقہ انتہائی میٹھا اور زبردست ہے ، آپ کا پسندیدہ کونساہے ؟

اب یہاں پر وہ باقی نام تو ٹھیک لے گئے لیکن انہوں نے انور راٹول کو راٹھور لکھ دیا اور اس ” توہین“ پر فوری حامد میر نے ” نوٹس “ لیتے ہوئے جوابی ٹویٹ کیا جس میں ان کا کہناتھا کہ ”ہاں میرا بھی یہی والا پسندیدہ ہے لیکن یہ ” انور راٹول“ ہے ”راٹھور “ نہیں ، دراصل یہ آم اس کے بانی مسٹر انور کے نام سے جانا جاتاہے ، جس نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے گاﺅں ” راٹول “ سے ہجرت کی اور 1947 میں پاکستان آیا ،اس نے اس سفر کے دوران آموں کو ہی غذا کا حصہ بنایا اور پاکستان آکر انہوں نے اس آم کے بیج پاکستانی زمین کو تحفہ کیے ۔

مزید : قومی