قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط کردی گئی

قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط کردی گئی
قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط کردی گئی

  

اسلام آباد(آن لائن) یونیورسل سروس فنڈ (ایو ایس ایف) نے خیبر، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں اور شمالی وزیرستان میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی فراہمی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط قرار دے دی۔اس حوالے سے سینیٹ کی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری انسداد دہشت گردی آپریشن مکمل ہونے کے فوراً بعد مطلوبہ سہولیات فراہم کر دی جائیں گی۔

یو ایس ایف کے چیف ٹیکنیکل افسر آصف کمال نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کو بتایا کہ عسکری اداروں کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں تاحال آپریشن جاری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سنیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں جاری اجلاس میں ایو ایس ایف کے نئے منصوبوں، فنڈنگ سے متعلق آگاہ کیا گیا۔یو ایس ایف کی جانب سے بتایا گیا کہ گزشتہ 10 برس میں 57 ارب روپے جمع ہوئے جس میں سے 41 ارب روپے شہروں، ٹاﺅنز اور گاﺅں میں شروع کیے گئے منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں ٹیلی فون تک رسائی سے متعلق تازہ سروے کی ضرورت ہے۔آصف کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ آرمی نے یو ایس ایف کو شمالی وزیرستان میں رسائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر باجوڑ میں انٹرنیٹ کی فراہمی معطل ہے اور سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے ساتھ ہی تمام امور نمٹادے جائیں گے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور نے وزارت آئی ٹی کی توجہ اپنے علاقے کی جانب کروائی جہاں انٹرنیٹ کی سروس گزشتہ 8 ماہ سے معطل ہے۔وزارت آئی ٹی کے ممبر مدثر حسین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی درخواست پر مذکورہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنیٹ کی سروس معطل کی گئی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد