جہانگیر ترین کے بیٹے علی جہانگیر ترین کے بارے میں وہ باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

جہانگیر ترین کے بیٹے علی جہانگیر ترین کے بارے میں وہ باتیں جو آپ کو معلوم نہیں
جہانگیر ترین کے بیٹے علی جہانگیر ترین کے بارے میں وہ باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایسا نہیں کہ جہانگیر خان ترین پہلے کوئی غیرمعروف آدمی تھے لیکن ان دنوں انٹرنیٹ پر ان کا بہت شہرہ ہے، وہ جس طرح آزاد امیدواروں کو ملک بھر سے گھیر گھیر کر لا رہے ہیں اور اس کام کے لیے اپنا ہوائی جہاز اڑا بلکہ دوڑا رہے ہیں، اس پر انٹرنیٹ صارفین ان کے متعلق کئی طرح کے لطیفے گھڑنے میں مصروف ہیں اور کئی تو ان کے بارے میں مختلف قسم کے سوالات پوچھ رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ان کے بیٹے علی جہانگیرترین اور ان کی سرگرمیوں کے متعلق ہے۔ ویب سائٹ مینگوباز نے اپنی رپورٹ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ علی ترین ان دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز ڈگری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، چنانچہ ان کا پاکستان اور برطانیہ آناجانا لگا رہتا ہے۔

علی ترین کے دو شوق ہیں ، کرکٹ اور سوشل ورک۔ وہ اپنے یہ دونوں شوق ایک این جی او بنا کر پورے کر رہے ہیں۔ ان کی این جی او جنوبی پنجاب میں فلاحی کام کرتی ہے۔ علی ترین خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے لیے بھی آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور اس حوالے سے ایک لانگ مارچ میں بھی حصہ لے چکے ہیں، چنانچہ وہ خواتین کے حقوق کے بھی پرچارک ہیں۔علی شادی شدہ اور ایک بیٹی کے باپ بھی ہیں۔ 2013ءمیں ان کی منگنی بسمہ احمد سے ہوئی تھی اور اگلے سال ان کی شادی ہو گئی۔اپنے والد جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد وہ این اے 154لودھراں سے الیکشن بھی لڑ چکے ہیں تاہم وہ اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ ایم این اے بننا ان کی ترجیح کبھی نہیں رہا۔ انہوں نے الیکشن میں حصہ صرف اپنے حلقے کے لوگوں کی خواہش پر لیا جو ان کے لیے خاندان کے افراد کی طرح ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد