فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر 493

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر 493
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر 493

  

بمبینو کے اوپر ایک چھوٹا سا سنیما ’’ اسکا لا ‘‘ کے نام سے بھی انہوں نے بنایا تھا۔ یہاں عموماً انگریزی فلمیں چلائی جاتی تھیں۔ بمبینو میں نذر الاسلام صاحب اور رؤف شمسی کی فلم ’’ آئینہ‘‘ بہت طویل عرصہ تک چلتی رہی۔ بعد میں یہ اسکالا میں منتقل کر دی گئی تھی ’’ آئینہ‘‘ مسلسل گیارہ ماہ یا ایک سال تک بمبینو اور اسکالا میں نمائش پذیر رہی۔ اس لحاظ سے یہ پاکستان میں سب سے زیادہ عرصے چلنے والی پاکستانی فلم ہے۔ 

بمبینو سنیما آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری صاحب نے بڑی شوق سے بنوایا تھا۔ بہت خوبصورت اور شاندار سنیما تھا۔ اس میں فلمیں بھی منتخب ہی چلا کرتی تھیں۔اسکا نام بھی عجیب تھا لیکن کام بھی نرالا اور متاثر کن تھا ۔اسکے نام میں دلکشی ہی کافی تھی جو تماشائیوں کو اپنی جانب کھینچ لایا کرتی تھی۔اس سینما کی بدولت حاکم علی زرداری کا فلمی ستاروں سے بھی واسطہ رہتا تھا ۔اس سینما نے انکے کاروبار کو پھلنے پھولنے میں کافی مدد دی ۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر 492 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سنیما کے عقب میں دفاتر تھے۔ یہیں رؤف شمسی صاحب نے بھی اپنا دفتر بنایا تھا۔ بعد میں یہ سنیما انہوں نے خرید لیا۔ کافی عرصے تک وہ اور ان کے چھوٹے بھائی احمد شمسی اس سنیما کو چلاتے رہے۔ ان کا دفتر بدستور عقبی عمارت میں تھا۔ ہم یہاں رؤف شمسی اور احمد شمسی صاحب سے ملتے رہے ہیں۔ رؤف شمسی صاحب سے اتنے گہرے مراسم ہوگئے تھے کہ وہمیں اپنے گھر میں ٹھہرایا کرتے تھے۔ اب نہ رؤف شمسی رہے نہ احمد شمسی۔

انہوں نے بمبینو سنیما شیخ امتیاز صاحب کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ آج کل ان کے صاحب زادے یہ سنیما چلاتے ہیں۔ شمسی صاحب نے شاہراہ فیصل پر مہران ہوٹل کے نزدیک بلکہ برابر ایک شاندار کئی منزلہ عمارت کاشف سنیٹر بنالی تھی اور اپنے تمام دفاتر اس عمارت میں منتقل کر لیے تھے۔ یہاں بھی ہماری شمسی صاحب او ران کے چھوٹے بھائی احمد شمسی صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اسی کاشف سینٹر میں ہمارے دوست امجد شیخ کے دفاتر بھی تھے۔ شاید اب بھی ہیں۔ 

بمبینو سنیما میں بہت اچھی فلموں کی نمائش ہو اکرتی تھی۔ زیادہ تر انگریزی فلمیں یہاں پیش کی جاتی تھین۔ غالباً یہاں جو پہلی فلم نمائش پذیر ہوئی وہ ہالی ووڈ کی مشہور فلم ’’ ساؤتھ پیسیفک ‘‘ تھی۔ ہالی ووڈ کی مشہو رزمانہ فلم ’’ کلو پیٹرا ‘‘ کی نمائش بھی اسی سنیما میں ہوئی تھی۔ فلم کی ہیروئن الزبتھ ٹیلر تھیں جنہیں دیکھنے کے لیے ایک خلقت ٹوٹی پڑتی تھی۔ خصوصاً نوجوان نسل ان کی شیدائی تھی۔ یہ فلم اس حوالے سے بھی بہت مشہور ہوئی کہ اس کے ہیرو رچرڈ برٹن سے اس فلم کی تکمیل کے دوران میں الزبتھ ٹیلر کی محبت کا آغاز ہوا۔ وہ اس وقت شادی شدہ تھیں مگر بعد میں طلاق حاصل کر کے انہوں نے رچرڈ برٹن سے شادی کرلی تھی۔ ان سے بھی طلاق ہوگئی مگر دوبارہ شادی ہوئی۔ یہ بھی پائیدار ثابت نہ ہوئی۔ کہتے ہیں کہ الزبتھ ٹیلر نے کئی شادیاں کیں۔ کئی عشق کیے مگر انہیں حقیقی محبت رچرڈ برٹن سے ہی تھی۔ رچرڈ برٹن نے کلوپیٹرا میں مارک انتھونی کا کردار ادا کیا تھا۔ 

’’ لارنس آف عریبیا ’’ جیسی یادگار فلم کی بھی اس سنیما میں نمائش ہوئی تھی۔ اردو فلموں میں ’’ آئینہ‘‘ نے اس سنیما میں طویل ترین عرصے تک نمائش کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ ندیم اور شبنم کی یاردگار فلموں میں شامل ہے۔ اس کی موسیقی روبن گھوش نے بنائی تھی جو آج بھی سب کو یاد ہے۔ عالمگیر کا گایا ہوا نغمہ ’’ مجھے دل سے نہ بھلانا‘‘ آج بھی دلوں میں گونجتا ہے۔ اس فلم کے سبھی گانے مقبول ہوئے تھے۔ 

ہالی ووڈ کی فلم چنگیز خان کی نمائش بھی اسی سنیما میں ہوئی تھی۔ 

جب شیخ مختار کی فلم ’’ نور جہاں‘‘ پاکستان میں آئی تو فلمی دنیا میں اودھم مچی گیا۔ صدر ضیاء الحق نے اس فلم کی درآمد کے لیے خصوصی طور پر اجازت دی تھی۔ اس کے بعد یہ تاثر عام ہوگیا تھا کہ اب بھارتی فلموں کی نمائش پر سے پابندی ختم ہوجائے گی اور پرانی بھاتی فلمیں بھی پاکستان میں چلائی جائیں گی۔ نخشب صاحب کی فلم ’’ زندگی یا طوفان ‘‘ کی درآمد کے بعد بھی یہ تاثر عام ہوگیا تھا۔ 

پاکستان کی فلمی صنعت ’’ نور جہاں‘‘ کی نمائش کے بعد ٹھپ ہو کر رہ گئی تھی کیونکہ نقسیم کاروں او سنیما والوں نے پاکستانی فلمیں اس امید پر خریدنی اور چلانی بند کر دی تھیں کہ بھارتی فلموں کا سیلاب آنے والا ہے۔ اسٹوڈیو میں کام رک گیا۔ پاکستانی فلم ساز فکر مند اور بے کار ہوگئے۔ ہم نے بھی اس زمانے میں ان حالات کی پیش نظر انگلستان اور پھر امریکا اور کینیڈا کا رخ کیا تھا۔ پاکستانی تقسیم کاروں اور نمائش کاروں کے ایک بڑے طبقے کا ہمیشہ یہی طرزِ عمل رہا ہے کہ وہ ہمیشہ بھارتی فلموں کی درآمد کے لیے شور مچاتے رہے اور جب مقامی فلمی صنعت کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا اور نوبت ہنگاموں ، جلوسوں اور احتجاج تک پہنچ گئی پھر بھی مغربی اور مشرقی پاکستان کے سرکردہ تقسیم کاروں کی یہی کوشش تھی کہ بھارت سے فلموں کی درآمد کا سلسلہ ختم نہ ہو۔

اس سلسلے میں ان کے پاس بہت سے اعتراضات او دلائل تھے ، مثلاً۔۔۔ 

بھاری فلموں کی درآمد پر پابندی لگنے سے مقامی سنیما گھروں میں الو بولنے لگے گا کیونکہ بیشتر سنیما گھروں میں بھارتی فلمیں ہی چلتی رہیتی ہیں۔ اس طرح سنیما گھر ویران اور ان سے وابستہ بے شمار لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ 

حقیقت یہ تھی کہ بھارتی فلمیں واقعی اس زمانے میں زیادہ تر سنیما گھروں میں چلائی جاتی تھیں کیونکہ قیام پاکستان سے پہلے سے ان کی درآمد کا سلسلہ جاری تھا۔ نئی بھارتی فلمیں آتی رہتی تھیں اور پرانی بھارتی فلموں کی نمائش بھی جاری رہتی تھی۔ مگر اس زمانے میں انگریزی فلمیں بھی بہت بڑی تعداد میں آیا کرتی تھیں اور بہت مقبول تھیں۔ ہالی ووڈ کے سبھی بڑے فلم ساز اداروں کے تقسیم کاری کے دفاتر پاکستان میں موجود تھے۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی فلمیں کی کھلی درآمد کے ہوتے ہوئے ان کی تعداد اور معیاری میں اضافہ ممکن نہ تھا۔ بھارت کے بڑے بڑے نامور اور مقبول فنکاروں ، ہدایت کاروں اور موسیقاروں کی فلموں کے مقابلے میں پاکستانی فن کار اتنے زیادہ مقبول نہیں ہوئے تھے۔ فلمیں بنتی ہی بہت کم تھیں۔ پھر بھارت کی بڑے سرمائے سے بنائی جانے والی فلموں کے مقابلے میں ان کا معیار بھی کم تھا اور اس میں اضافہ بھی ممکن نہ تھا کیونکہ سرمایہ نہیں تھا اور تقسیم کار یا تو مقامی فلمیں خریدتے ہی نہ تھے یا پھر ان کی بہت کم قیمت ادا کرتے تھے جس کی وجہ سے برائے نام سرمائے سے فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اس زمانے میں (یہ 60ء کی دہائی کا قصہ ہے) جتنا معاوضہ ایک بھارتی سپراسٹار وصول کرتا تھا ، اتنی رقم میں یہاں فلم بن جاتی تھی۔ زیادہ سرمایہ اول تو دستیاب نہ تھا دوسرے تقسیم کار اور سنیما والے انہیں اونے پونے دام ادا کرتے تھے۔ 

بہرحال ، یہ ایک علیٰحدہ داستان ہے جو پہلے سنائی جا چکی ہے ۔ بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی عائد ہونے کے بعد ہی پاکستان میں اچانک فلم سازی کی رفتار اور معیار میں نمایاں اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود بعض سنیما والے پاکستانی فلموں پر انگریزی فلموں کو ترجیح دیتے تھے حالانکہ قانون کے مطابق خالص انگریزی فلمیں چلانے والے سنیما گھروں کے لیے بھی سال میں 30فیصد پاکستانی فلموں کی نمائش لازمی تھی مگر قانون کو یہاں کون پوچھتا ہے۔ ہمیشہ سے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ رہا ہے۔ لیکن مجبوراً مقامی فلموں پر جب اکتفا کرنا پڑا اور ان کامعیار بھی بہتر ہوا تو پھر سنیما گھروں کی تعدادمیں بھی اضافہ ہوگیا۔ ان کے کرائے بھی بڑھ گئے اور تقسیم کاروں نے بھی دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنی شروع کر دی۔ جس فلم ساز نے اچھے دنوں کی آس پر تحریک چلائی تھی اس کے حصے میں بہت کم منافع آیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ