میں نے گانا ڈیڈیکیٹ کرنے کی بات اجیت کمار ڈوول اور مودی کیلئے کی: چیف جسٹس  کے سوال پر عامر لیاقت کا جواب سن کر عدالت میں موجود ہرکوئی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا

میں نے گانا ڈیڈیکیٹ کرنے کی بات اجیت کمار ڈوول اور مودی کیلئے کی: چیف جسٹس  کے ...
میں نے گانا ڈیڈیکیٹ کرنے کی بات اجیت کمار ڈوول اور مودی کیلئے کی: چیف جسٹس  کے سوال پر عامر لیاقت کا جواب سن کر عدالت میں موجود ہرکوئی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نومنتخب رکن اسمبلی اور اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی ۔ درخواست گزاروں  نے   استدعا کی  کہ عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ عدالت عظمی کے جانب سے اس کو پروگرام جاری رکھنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی ، شرط یہ تھی کہ وہ تضحیک آمیز اور منافرت پر مبنی گفتگو نہیں کریں گے ۔

دوران سماعت  درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیئے ۔ وکیل نے بتایا کہ عام لیاقت منافرت پھیلانے اور تضحیک کے عادی ہیں، ان کے خلاف پہلے بھی درخواستیں آئیں اور پیمرا نے نوٹس لئے، ان پر پابندی بھی لگی مگر بار بار وہی کرتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں فوجداری کارروائی نہیں ہو رہی ۔ وکیل نے بتایا کہ یہ نہیں کہہ رہا کہ فوجداری نوعیت کی کارروائی کر کے جرم میں سزا دی جائے ۔ اس کی دو تشریحات ہیں ۔ شاہد اورکزئی کیس میں 2007 میں توہین عدالت کا ایک اصول طے کر دیا گیا ہے، اس کی مختلف جہات ہیں ۔

مقامی نیو زویب سائٹ کیلئے صحافی ’وحید اے مراد‘ نے لکھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جہتیں تو ہوں گی مگر ہم فری اسپیج کے حق کے گارنٹر بھی ہیں اس کو بھی دیکھنا ہے ۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر یہ فری سپیج میں آتا ہے تو پھر میرا کوئی کیس نہیں ہوگا ۔ عامر لیاقت کے وکیل شہاب سرکی نے کہا کہ ہم درخواست گزاروں کی فراہم کردہ ویڈیو نہیں دیکھ پائے جن سے ان کو شکایت ہے اس کے بعد ہی جواب دے سکیں گے، انہوں نے صرف ویڈیو کا تحریری متن فراہم کیا ہے، جب تک مکمل پروگرام نہیں دیکھتے سیاق و سباق سمجھ سمجھ نہیں آئے گا، اگر یہ ہمیں تاریخ بتا دیتے تو ہم خود پورے پروگرام کی ویڈیو ساتھ لے آتے ۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کی فراہم کردہ ویڈیو کلپ پروجیکٹر پر عدالت میں چلائی جائے ۔ پہلی ویڈیو چلائی گئی تو عامر لیاقت بول رہے تھے ‘نیلے پیلے چینل کے میرشکیل کو، فادر آف بھارت کو، سن آف بھارت کو، نیلے پیلے کے تمام اینکرز کو، مودی کے تمام اینکرز کو بھی، جلنے والے، حسد کرنے والے کو بھی یہ گانا ڈیڈیکیٹ کر رہا ہوں پیار سے، اور گانا پیار سے ہی ڈیڈیکیٹ کیا جاتا ہے’۔

چیف جسٹس نے ویڈیو رکوا کر عامر لیاقت کو بلایا، وہ اپنی نشست سے اٹھ کر روسٹرم کی جانب آئے تو چیف جسٹس ثاقب نثار سخت لہجے میں بولے یہاں ڈرامہ نہیں چلے گا عدالت ہے، سٹیج  نہیں ، جواب دیں کہ اس ویڈیو میں آپ کا مخاطب کون ہے؟ ۔ عامر لیاقت جھٹ سے بولے اجیت کمار ڈوول اور مودی کیلئے (عدالت میں بیٹھے افراد عامر لیاقت کے جواب پر مسکرا کر رہ گئے) ۔ اس پر چیف جسٹس سخت لہجے میں بولے عدالت کے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں،  اس جھوٹ پر ابھی نوٹس جاری کرتے ہیں ۔

 عامر لیاقت کے  وکیل شہاب سرکی نے کہا کہ دراصل عامر لیاقت بھارتی چینل زی ٹی وی کے اینکرز کے بارے میں کہہ رہا ہے، زی ٹی وی نے ان کے بارے میں پروگرام کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کیا ان کی (بطور رکنی اسمبلی) کامیابی کا نوٹی فیکیشن جاری ہو گیا ہے؟ ۔ کیا ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہئے جو کو اپنی زبان پر اختیار نہیں ہے، ٹی وی پر عام لوگوں کو کیا بتا رہے ہیں ۔چیف جسٹس نے عامر لیاقت کے وکیل سے کہا کہ آپ وہ زی ٹی وی کے پروگرام بھی لائیں جو ان کے خلاف کئے گئے، اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، ان کو عدالت نے اجازت دی تھی، ہم نے انتباہی حکم بھی دیا تھا، یہ ذومعنی پروگرام کرتے ہیں ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال ان کو سی ڈیز اور متن فراہم کر دیا تھا، ان کا جواب بھی عدالت میں جمع ہے ۔ چیف جسٹس بدستور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ آج مودی یاد آ گیا، کوئی اور یاد آ گیا ۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کسی کے ساتھ جتنی بھی مخالفت ہو اس طرح کسی کے خلاف منافرت نہیں پھیلانی چاہیئے، غدار قرار دینے کی بات نہیں ہونا چاہیئے، اس طرح تو ملک میں اشتعال کی فضا پیدا ہوگی ۔

ویب سائٹ کے مطابق  چیف جسٹس نے پوچھا کس چینل پر ہوتے ہیں یہ؟ وکیل نے جواب دیا کہ بول پر ۔ چیف جسٹس نے عدالت میں موجود سمیع ابراہیم (بول کے ڈائریکٹر نیوز) کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ لوگوں کو یہ دکھاتے ہیں، نذیر لغاری صاحب (بول کے اینکر) کہاں ہیں؟۔ سمیع ابراہیم عدالتی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ یہ سب دیکھنے کے بعد بہت شرمندگی ہے، میں اس پر معافی مانگتا ہوں، اب میں بول کا کانٹینٹ ہیڈ ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی پڑھے لکھے آدمی کو اس طرح کی گفتگو زیب دیتی ہے؟ ۔ سمیع ابراہیم نے کہا کہ میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ۔

مزید : قومی