’’قلت آب تشویشناک صورتحال آبی ذخائر میں اضافے کی ضرورت‘‘ 

’’قلت آب تشویشناک صورتحال آبی ذخائر میں اضافے کی ضرورت‘‘ 
’’قلت آب تشویشناک صورتحال آبی ذخائر میں اضافے کی ضرورت‘‘ 

  

ہر سال بارشوں اوربرف پگھلنے کے عمل سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوتی ہے جسکی بدولت جہاں فصلوں کا اورجانی ودیگر مالی نقصان ہوتا ہے وہاں زیادہ نقصان پانی کا ہوتا ہے جو پانی سمندرکی نذر ہو کر ضائع ہو جاتا ہے ۔ہماری ناقص منصوبہ بندی سے مون سون میں دریاؤں کا پانی سمندر میں بہہ جانا نعمت خداوندی سے منہ موڑنے کے مترادف ہے اس پانی کو ڈیم میں جمع کر کے ہم سستی بجلی بھی بنا سکتے ہیں اور زراعت کے لیے اپنی زمین کو وسیع بھی کر سکتے ہیں۔پانی کی اہمیت کو ترجیحی بنیادوں پر رکھتے ہوئے جہاں حکومت کا کام ہے کہ ڈیمز بنائے وہاں پانی کا استعمال کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ پانی ضائع نہ کریں اور اس کے استعمال کرنے میں احتیاط برتیں۔ ماہرین کے مطابق واٹر منیجمنٹ سے تقریباً ایک ڈیم کے پانی کے برابر5ملین ایکڑ فیٹ پانی بچایا جاسکتا ہے۔یہ کام اداروں اور صارفین نے مل کر کرنا ہے اس پر فوری عمل ہونا چاہیے۔

ماہرین نے پانی کی کمی کی ایک وجہ پاپولیشن میں اضافہ بھی بتایا ان کا کہنا ہے کہ 1947-88 میں4کروڑ سے آبادی بڑھ کر اب 20کروڑ سے زائد ہو گئی ہے جبکہ پانی اُتنا یا اس سے کم ہو گیا ہے۔ آبی ذخائر میں اضافے میں سابقہ حکومتیں نا کام ہوتی رہی ہیں۔ اب نئی آنے والی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ پر فوری اقدامات کریں گے۔ جہاں دیگر ڈیمز ضروری ہیں وہاں کالا باغ کی بے پناہ افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔نگران وزیر اطلاعات بیرسٹرعلی ظفر نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں ،پانی کی شدید قلت کا سامناہے،کالا باغ ڈیم پر غلط فہمی پیدا کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ہوسکتا ہے ،کالا باغ ڈیم سے متعلق صوبوں میں غلط فہمیاں ہیں ،جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔

کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور پھر اسے شروع کیا جائے ۔1983 ؁ء میں ڈاکٹر کینڈی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کالا باغ ڈیم 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی اسٹور کیا جا سکے گا اور یہ پورے ملک کے پچاس لاکھ ایکڑ رقبے کو سیراب کریگا آٹھ بلین ڈالر اسکی تعمیر پر خرچ ہوں گے ،پانچ ہزار میگا واٹ تک بجلی کی پیداوارحاصل کی جا سکے گی مگراعتراض یہ اُٹھایا گیا کہ کالا باغ ڈیم کے موجودہ ڈیزائن سے نوشہرہ شہر ڈوب جائے گا ۔اس عذر کو دور کرنے کیلئے ڈیزائن میں تبدیلی لائی گئی ڈیم کی اونچائی 925سے 915فٹ کر دی گئی ۔سندھ کی سول سوسائٹی نے سوال اُٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی غصب کر لے گا ۔

یہ منصوبہ سندھ کی عوام کو منظور نہیں ہے اور یوں اُس وقت سندھ کے عوام کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے چاروں صوبوں کو پانی کی تقسیم کے ایک فارمولے پر راضی کیا گیا۔اس معاہدے اور فارمولے کے مطابق پنجاب 37فیصد ،سندھ 33فیصد ، سرحد14فیصد اوربلوچستان 12فیصد دریائی پانی لینے پر راضی ہو گئے تھے ۔بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور بھی نہیں کیا ۔

ماہرین کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ کالا باغ ڈیم اور دیگر چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں ۔نوشہرہ کے عوام کے تحفظات دور کیے جائیں سندھ کے لیے اضافی پانی کا بندوبست کیا جائے تاکہ ملک کی ترقی کا منصوبہ سیاست بازی کی نذر نہ ہو جائے ۔دیکھنے میں آیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نے کھربوں کے بجٹ میں میٹرو ٹرین ،میٹروبسیں چلانے پر خرچ کیے جن سے صرف چند شہروں کے مکین مستفیض ہو رہے ہیں جبکہ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے سے ملک کی خوشحالی مضمر ہے۔ اس پر توجہ نہ دینا نا انصافی ہے۔ اس ڈیم سے پاکستان کا پچاس لاکھ ایکڑ وسیع و عریض رقبہ سیراب ہو گا جس سے پیداوار حاصل کرکے پاکستان کثیر زرِ مبادلہ کما سکتا ہے اور ہم قرضوں کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

اس ماہ شوریٰ ہمدرد نے ’’قلت آب تشویشناک صورتحال اور آبی ذخائر میں اضافے کی ضرورت‘‘ کو موضوع بنایا ۔

یہ اجلاس قائم مقام اسپیکر ابصار عبدالعلی کی زیر صدارت مقامی ہوٹل میں ہوا۔اجلاس میں جسٹس (ر)ناصرہ اقبال، جماعت علی شاہ،میجر (ر)صدیق ریحان ، برگیڈیئر(ر) محمد سلیم ، پروفیسر نصیر اے چوہدری ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ، ثمر جمیل خان ، انجینئر سلطان علی برق ، انجینئر سعید اقبال بھٹی، پروفیسر خالد محمودعطاء، رانا امیر خان ، پروفیسر میاں محمد اکرم ، ڈاکٹر اے آر چوہدری ، فاطمہ قمر ،پروفیسر محمد احمد اعوان ، شائستہ ایس حسن ،جمیل بھٹی و دیگر نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر قراداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے فوری ایک ایسا کمیشن قائم کیا جائے جس سے ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹوں اور اسکے مخالفین کے خدشات کو دور کیا جا سکے ،بھلے اسکا نام تبدیل کر کے بھٹو ولی خان یا پاکستان ڈیم ہی رکھ دیاجائے اوراس کی تعمیر کے لیے خصوصی طور پربجٹ مختص کیا جائے۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ