اللہ تعالیٰ کے مطالبات

اللہ تعالیٰ کے مطالبات
اللہ تعالیٰ کے مطالبات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے مطالبات کرتا ہے ۔ان مطالبات کو سامنے رکھنے کی وجہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی پہلو سے کسی مخلوق کے محتاج ہیں۔ قرآن مجید اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ستودہ صفات،بزرگ و برتر، غنی و بے نیاز، احد و صمد ہے۔ کوئی مددو تعاون تو درکنار وہ اپنی عبادت، تعریف اور شکر گزاری کے بھی ضرورت مند نہیں۔مخلوق سے یک طرفہ طور پر ان کا تعلق عطا وبخشش کا ہے۔ مخلوق عدم تھی، انھوں نے اسے وجود دیا۔ مخلوق مردہ تھی، انھوں نے اسے زندہ کیا۔مخلوق محتاج مطلق ہے اور وہی ہیں جو مخلوق کی ہر ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔مخلوق جب نہیں تھی، وہ تب بھی تھے اور اگر نہیں ہوگی ، تب بھی وہ باقی رہیں گے۔

یکطرفہ عطاو بخشش کا یہی وہ تعلق ہے جو ان مطالبات کا باعث بنتا ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرچہ خدا کو کسی چیز کی بھی حاجت نہیں، مگر انسان کی اخلاقی حس بہرحال یہ مطالبہ کرتی ہے کہ جس ہستی نے اسے سب کچھ دیا اور دیتا چلا جارہا ہے، وہ اس کا شکریہ ادا کرے۔ نیز انسان کے اندر موجود روحانیت کا یہ تقاضہ ہے کہ وہ کسی رب کو پوجے۔ یہ رب، اللہ رب العالمین کے سوا کوئی اور نہیں۔قرآن مجید کے آغاز میں بیان کردہ سورہ فاتحہ اسی حقیقت کا بیان ہے کہ انسان کی اخلاقی حس جس ہستی کا شکر ادا کرنا چاہتی ہے اور اس کی روحانیت جس ہستی کی پرستش کرنا چاہتی ہے وہ اللہ رحمن اوررحیم کی ہستی ہے۔

قرآن مجید اس انسانی تقاضے کو عبادت یا بندگی کے عنوان سے بیان کرتا ہے۔ اس بندگی میں پرستش بھی شامل ہے، اطاعت بھی ہے اور حمیت و حمایت کا جذبہ بھی پایا جاتاہے۔انسان جس کی بندگی کرے گا ، اس سے اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے کچھ نہ کچھ مراسم عبودیت بھی اختیار کرے گا، یہ پرستش ہے۔ وہ ہستی چونکہ اِلٰہ ہونے کے ساتھ بادشاہ بھی ہے اس لیے اس کی اطاعت بھی لازمی ہے۔ پھر اس کے ساتھ وہ ہستی چونکہ انسانوں کا ربّ اور ان کا مالک بھی ہے، اس لیے فطری طور پر انسان اپنے مالک کی حمیت و حمایت میں کھڑا ہوتا ہے اور جب موقع آتا ہے، اس کے لیے جان بھی دے دیتا ہے۔

قرآن مجید جس سورت پر ختم ہورہا ہے یعنی سورہ الناس وہ اللہ تعالیٰ کی انھی تین حیثیتوں کا تعارف ہے کہ وہ بیک وقت انسانوں کا ربّ یا مالک،ملک یا بادشا ہ اوران کا اِلٰہ یا معبود ہے۔گویا قرآن مجید کا آغاز اور اختتام وہ اساسات بیان کررہا ہے جن کی بنا پر خدا کے حوالے سے انسانوں پر عائد اخلاقی مطالبات کی وجہ سامنے آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے حوالے سے عائد کردہ مطالبات گرچہ لازمی اور قانون کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے وہ شرعی مطالبات میں بھی زیر بحث آئیں گے، مگر مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر وہ اخلاقی بنیادیں بھی رکھتے ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حوالے سے بیان کردہ بعض مطالبات کو اخلاقی مطالبات کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہ مطالبات سب کے سب عبادات سے متعلق ہیں۔ ہم اخلاقیات کی اس بحث میں انھی عبادات کو زیر بحث لائیں گے، تاہم یہاں ان کا قانون نہیں بلکہ روح زیر بحث آئے گی۔ ان کا قانون شرعی مطالبات کے ذیل میں بیان ہوگا۔عبادات کی اس روح میں ان کی حقیقت اور ان کا مقصد دونوں انشاء اللہ تفصیل سے زیر بحث آئیں گے۔

تاہم عبادات سے پہلے اخلاقی مطالبات کے ضمن میں قرآن مجید جس بات کو زیر بحث لاتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔یہ گویا کہ خدا کے حوالے سے کیا گیا سب سے پہلا اور بنیادی اخلاقی مطالبہ ہے۔ ہم اخلاقی مطالبات کا آغاز اسی سے کرتے ہیں۔

شرک سے پرہیز

شرک وہ سب سے پہلی اور بنیادی آلودگی ہے جو انسانوں کو امتحان کی اس دنیا میں لاحق ہوئی اور ہر دور میں سب سے بڑھ کر انسانیت اسی ناپاکی کا شکار رہی ہے۔ چنانچہ ہر دور میں یہی دعوت عبادت رب انبیا علھیم السلام کی بنیادی دعوت رہی اور قرآن مجیدکی اصل دعوت بھی اسی مرکزی نقطے کے اردگرد گھومتی ہے۔ تاہم ہر دور میں چونکہ نبیوں کو ماننے والی امتیں بھی شرک کا شکار ہوتی رہیں، اس لیے قرآن مجید نے مزید یہ اہتمام کیا کہ مطالبات کے ضمن میں بھی ہمیشہ آغاز اسی نقطے سے کیا کہ خدا ہی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک بناکر اس کی عبادت نہ کی جائے۔

شرک کی روح اور اس کی اساس

عقل و فطرت، علم و فکر، انبیا و صلحا کی دعوت میں کبھی شرک کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔انسانی عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی۔اس کی فطرت بھی اس کے خلاف کھڑی ہے۔علم و فکر کے مسلمات میں کبھی کوئی چیز ایسی سامنے نہیں آئی جو کسی غیر اللہ کے لیے عبادت کا کوئی قرینہ ثابت کرسکے۔ انبیا اور صلحا کی دعوت بھی ایسے کسی تصور سے ہمیشہ خالی رہی ہے۔ تاہم جو چیز انسانوں کو ہمیشہ شرک کی طرف لے کر جاتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔خدا جتنا بھی عزیز و قدیر ہو وہ بہرحال کبھی سامنے نہیں ہوتا۔ کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا۔ سن نہیں سکتا۔ چھو نہیں سکتا۔وہ اپنی مرضی تو انسانیت تک پہنچاتا ہے، مگر کسی نافرمانی پر عام طور پر ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ اْس کے وعدے اگلی دنیا کے وعدے ہیں اور اس کی وعیدیں آنے والی دنیا کی وعیدیں ہیں۔ظاہر ہے کہ ایمان بالغیب کا یہ مطالبہ امتحان کی بنا پر کیا گیا ہے کہ خدا ا گر سامنے آجائے تو پھر اس کی کسی نافرمانی کا کوئی سوال ہی نہیں۔ مگر ظاہر پرستی کی یہی انسانی کمزوری ہے جو ہر دور میں شرک کا باعث بنی ہے۔ اس کے بارے میں اقبال نے بالکل ٹھیک کہا ہے :

خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر

پوجتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر

چنانچہ انسانوں نے بُت تراشنے شروع کئے جو اپنی تمام تر بے وقعتی کے باوجود انسان کی نظر کے سامنے ہوتے ہیں۔ انسانوں نے روحوں ، فرشتوں اور جنوں کو پکارنا شروع کیا کہ خدا کے برعکس جس کی ہستی کا کوئی تصور ممکن نہیں، ان کا بہرحال کوئی نہ کوئی تصور تو کیا ہی جا سکتا ہے۔اس نے قبروں کو سجدہ شروع کیا کہ مرنے والے مردہ سہی مگر سامنے قبر تو بہرحال موجود ہے۔اس نے شمس و قمر،شجر وحجر اور جانوروں تک کو اس وجہ سے پوجنا شروع کیا کہ اس کی نگاہیں ان کا ادراک تو کرسکتی ہیں۔برخلاف اس خدائے رحمن کے کہ نگاہیں اس کے ادراک ہی سے عاجز ہیں۔یوں وہ شرک وجود میں آیا جو خدا کی ذات، صفات اور اختیارات میں کسی اور کو شریک یا اس کا ہم سر ماننے کا نام ہے۔اس شرک میں لوگ غیر اللہ کوخداکی ذات کا حصہ سمجھتے ہیں جیسے مسیحی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔یا پھر خدا کی صفات اور اختیارات میں دوسروں کو حصہ دار سمجھ کر ان سے دعا اور عبادت کا تعلق پیدا کرتے ہیں۔جیسے بتوں کی پرستش،غیر اللہ سے مرادیں اور مددمانگنا وغیرہ۔ظاہر ہے کہ استمداد و پرستش کا یہ تعلق اسی بنیاد پر قائم ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں خدا کی طرح غیب کا علم رکھتی اور دنیا و آخرت کے معاملات میں ہر طرح کا تصرف کرسکتی ہیں۔ قرآن مجید ان تمام تصورات کی نفی سے بھرا ہوا ہے۔

شرک جدید

انسانوں کی یہ ظاہر پرستی زمانہ قدیم ہی تک محدود نہ تھی بلکہ دور جدید میں جب کہ سائنس نے اس کائنات میں ہر جگہ انتہائی نازک، پیچیدہ اوربامقصد قوانین دریافت کرلیے ہیں جن کے بارے میں کوئی احمق ہی یہ تصور کرسکتا ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئے ہیں،انسانیت شرک کے ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے، جسے الحاد کہا جاتا ہے۔الحاد بظاہر انکار خدا ہے۔ مگر خدا کا انکار کیا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ دورجدید میں انسان نے مدر نیچر کے نام سے ایک نئی دیوی تراشی ہے جس سے منکرین خدا وہ سارے کام لیتے ہیں جن کے لیے مذہبی لوگ خدا کا نام لیتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ کائنات میں اس درجہ کی حسابی قطعیت ہے، ایسا محکم نظم ہے، ایسی مقصدیت اور حکمت ہے کہ اسے اتفاقات کی کسی زنجیر کا نتیجہ قرار دینے کے لیے انسان کو اپنی عقل اور فطرت دونوں کو کونے میں رکھنا پڑے گا۔چنانچہ لوگ کرنے کو انکار خدا تو کردیتے ہیں، مگر وہ سارا کریڈٹ نیچر کے قوانین کو دے دیتے ہیں، جو اصل میں خدا کی حمد اور شکر گزاری کا باعث بننا چاہیے۔ یہی پس منظر ہے جس میں ہم نے الحاد کو بھی شرک ہی کی ایک جدید قسم میں شمار کیا ہے۔

تاہم قرآن مجید بالکل واضح ہے کہ شرک ظلم عظیم ہے اور اس کے مرتکب کے پاس عقل و نقل کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ صرف ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے اور یہ اتنی بڑی حق تلفی ہے کہ اس کابدلہ جہنم کی آگ کے سوا کچھ نہیں۔دوسری طرف جو لوگ ایمان لاتے ہیں، قرآن مجید نے اپنے آغاز ہی میں یہ بتادیا ہے کہ وہ غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں۔مومن عقلی اور فطری دلیل کو کافی سمجھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ خدا کو دیکھ کرماننا امتحان کی دنیا میں ممکن نہیں اور اس کا مطالبہ کرنا اپنی مہلت عمل ختم کرنے کے مترادف ہے۔

قرآنی بیانات

’’اے لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو بے نیاز و ستودہ صفات ہے۔‘‘(فاطر15: 35)

’’اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں ساری چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اوروہ غالب و حکیم ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور باطن بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ‘‘ (الحدید 1۔3: 57)

’’شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے، کائنات کا ربّ، رحمان اور رحیم، جزا و سزا کے دن کا مالک۔‘‘ ( فاتحہ1۔3: 1)

’’کہہ، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی‘‘ (الناس1۔3: 114)

’’اور اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی چیز کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور والدین ، قرابت مند، یتیم، مسکین، قرابت دار پڑوسی ، بیگانہ پڑوسی، ہم نشین، مسافر اور اپنے مملوک کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اللہ اترانے اور بڑائی مارنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (النسا : 4 36 )

’’اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے، تکبر سے اینٹھتے ہوئے، حجتیں کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے برگشتہ کریں۔‘‘

(الحج8۔9:22) 

’’اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سارے لوگ جو روئے زمین پر ہیں ناشکری کرو گے تو خدا کا کچھ نہیں بگاڑو گے اور وہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔‘‘ (ابراہیم 8: 14)

’’یہ الف ، لام ، میم ہے۔ یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ہوئے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (البقر?1۔3: 2)

’’اس کو نگاہیں نہیں پاتیں لیکن وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے، وہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے۔‘‘ (انعام 103: 6)

’’بے شک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ (سورہ لقمان13: 31)

’’بے شک اللہ اس چیز کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اس کے نیچے جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔‘‘ 

(سورہ النساء 116: 4)

’’کیا وہ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور وہ نہ ان کی کسی قسم کی مدد کر سکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کر سکتی ہیں۔ اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو تووہ تمھارے ساتھ نہ لگیں گے، یکساں ہے خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو۔جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو یہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔پس ان کو پکاردیکھو، وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں؟ کہہ دو، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ، میرے خلاف چالیں چل دیکھو اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ (سورہالاعراف 191۔195: 7)

’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ فیصلہ اسی کے اختیار میں ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (سورہالقصص88: 28)

’’اور انہوں نے جنوں میں سے خدا کے شریک ٹھہرائے حالانکہ خدا ہی نے ان کو پیدا کیا اور (انہوں نے)اس(خدا) کے لیے بے سند بیٹے اور بیٹیاں تراشیں، وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔‘‘ (سورہ انعام 100: 6)

’’اور جو نہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود پکارتے ہیں اور نہ اس جان کو جس کو اللہ نے حرام ٹھہرایا بغیر کسی حق کے قتل کرتے اور نہ بدکاری کرتے اور جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہو گا وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہوگا۔قیامت کے دن اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیا جائے گا اور وہ اس میں خوار ہو کر ہمیشہ رہے گا۔‘‘ (سورہالفرقان 68۔69: 25)

’’اے لوگو! ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے تو اس کو توجہ سے سنو! جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا کر سکنے پر قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ اس کے لیے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اس سے اس کو بچا بھی نہیں پائیں گے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں!انھوں نے اللہ کی ، جیساکہ اس کا حق ہے، قدر نہیں پہچانی! بے شک اللہ قوی اور غالب ہے۔‘‘ (سورہ الحج 73۔74: 22)

’’اور کہو کہ شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس کے نہ کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی ساجھی ہے اور نہ اس کو ذلت سے بچانے کے لیے کسی مددگار کی حاجت ہے اور اس کی بڑائی بیان کرو جیساکہ اس کا حق ہے۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل17 111: )

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب و حاضر کا جاننے والا، وہ رحمان و رحیم ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بادشاہ،یکسر پاک، سراپا سْکھ، امن بخش، معتمد، غالب، زور آور، صاحبِ کبر۔ اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

وہی اللہ ہے نقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا، صورت گری کرنے والا۔اسی کے لیے ساری اچھی صفتیں ہیں۔ اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ اور وہ غالب و حکیم ہے۔‘‘ (سورہ الحشر22۔24: 59)

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ