پاکستانی مدر ٹریساڈاکٹر رتھ فاؤ کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

پاکستانی مدر ٹریساڈاکٹر رتھ فاؤ کو بچھڑے ایک برس بیت گیا
پاکستانی مدر ٹریساڈاکٹر رتھ فاؤ کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رتھ فاؤ جنہوں نے جذام کا مرض مملکت خداد سے ختم کرنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کیا ان کی پہلی برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے

نجی نیوز چینل” ہم نیوز “ کے مطابق جرمنی کی سماجی تنظیم’ ’ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری‘‘ کی جانب سے ڈاکٹر رتھ فاؤ نے پہلی مرتبہ کراچی کا دورہ کیا تو جذام کے مریضوں کو دیکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں رہ کراس مرض کے خاتمے کے لیے کوشش کریں گی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1963 میں آئی آئی چندریگر روڈ (پرانا میکلوروڈ) سے ملحقہ جذام کے مریضوں کی بستی میں مفت کلینک کا آغاز کیا تو اس وقت پاکستان میں ہزاروں مریض تھے،تو انہوں نے مختلف مقامات پر اپنے کلینک کھول کر جذام کے مریضوں کا اعلاج شروع کر دیا ، 1969 میں انہیں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز ’ستارہ قائداعظم‘ دیا گیا، برطانیہ نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف ایوارڈ دے کر کیا۔

پاکستان نے ان کی ناقابل فراموش خدمات کے عوض انہیں شہریت کی ’پیشکش‘ کی لیکن انہوں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی مگر اس مٹی سے ان کے ’پیار‘ کا عالم یہ تھا کہ کہا ”مرنے کے بعد مجھے اسی دھرتی میں دفنایا جائے“،دوسروں کے دکھ درد بانٹنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ شدید علالت کے بعد دس اگست 2017 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔

ڈاکٹر روتھ فاو¿ کو ان کے انتقال کے بعد ریاستی سطح پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس