ترکی میں امریکی فوجیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش۔۔۔ وہ کام ہونے جارہا ہے جو ابھی تک کوئی نہ کرسکا

ترکی میں امریکی فوجیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش۔۔۔ وہ کام ہونے جارہا ہے جو ابھی ...
ترکی میں امریکی فوجیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش۔۔۔ وہ کام ہونے جارہا ہے جو ابھی تک کوئی نہ کرسکا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)آج تک تو یہی سنا تھا کہ امریکہ جسے چاہے دہشتگرد قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیتا ہے لیکن یہ حیرت انگیز انکشاف پہلی بار سامنے آ رہا ہے کہ اس دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جو امریکی فوجی افسران کو دہشتگرد قرار دے کر گرفتار کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

جریدے ”نیوز ویک“ کے مطابق یہ ملک ترکی ہے جس کے ماہرین قانون اپنے ملک میں قیام پزیر امریکی فوجی افسران کو دہشتگردوں کے ساتھ روابط کے الزام میں گرفتار کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ملک کے جنوبی ساحل پر واقع انسر لیک ائیربیس پر قیام پزیر تقریباً ایک درجن امریکی فوجیوں کے خلاف شکایات پہلے ہی درج کی جاچکی ہیں۔ ترک قانونی ادارے ”ایسوسی ایشن فار سوشل جسٹس اینڈ ایڈ“ کی جانب سے 60 صفحات پر مشتمل شکایات کا پلندا امریکی فوجیوں کے خلاف جمع کروادیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ترک ائیربیس پر ہزاروں امریکی فوجی قیام پزیر ہیں۔ ان میں سے درجن بھر کے بارے میں ادارے ایسوسی ایشن فار سوشل جسٹس اینڈ ایڈ کا کہنا ہے کہنا ہے کہ ان کے تعلقات دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ ان افسران کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے ترکی سے باہر جانے پر پابندی لگائی جائے اور ان کی گرفتاری کیلئے وارنٹ جاری کئے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق 11امریکی فوجیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کا تعلق فتح اللہ گولن سے ہے۔ یہ وہی فتح اللہ گولن ہیں جنہیں ترک صدر طیب اردگان 2016ءمیں ہونے والی ناکام بغاوت کے لئے ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔ ترک حکام کا خیال ہے کہ فتح اللہ گولن کے ذریعے امریکیوں نے ترکی کے استحکام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ترک صدر نے فتح اللہ گولن اور ترکی میں موجود ان کے پیروکاروں کو دہشتگرد قرار دے رکھا ہے۔

مزید : بین الاقوامی