اگر آپ دن میں اس وقت کھانا کھائیں تو فوری وزن کم ہوجائے گا، بالآخر سائنس نے آسان ترین طریقہ بتادیا

اگر آپ دن میں اس وقت کھانا کھائیں تو فوری وزن کم ہوجائے گا، بالآخر سائنس نے ...
اگر آپ دن میں اس وقت کھانا کھائیں تو فوری وزن کم ہوجائے گا، بالآخر سائنس نے آسان ترین طریقہ بتادیا

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک )کھانے پینے میں بے احتیاطی موٹاپے کا باعث بنتی ہے، اور شاید آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ جلدی بیماریوں سے لے کر جوڑوں کے درد اور دل کی بیماری تک کا کھانے پینے میں بے اعتدالی کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ بے احتیاطی اور بے اعتدالی سے مراد کیا ہے، اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اس کے بارے میں ایک مشہور امریکی ڈاکٹر نے ”8 سے 8“ کا سنہری اصول بیان کیا ہے، اور ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ یہ اصول بہت موثر اور کامیاب ہے۔

ڈاکٹر رانگن چیٹر جی، جو کہ صحت کے موضو ع پر متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ ”8 سے 8“ کے اصول کا مطلب یہ ہے کہ آپ صرف صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے کے درمیان کھانا پینا کریں اور ان اوقات کے علاوہ یعنی رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے کے درمیان کچھ مت کھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ موٹاپے کا تعلق صرف اس بات سے نہیں ہے کہ آپ کیا کھاتے ہیں بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ آپ کس وقت کھاتے ہیں۔ اکثر لوگ رات گئے تک کھانا پینا جاری رکھتے ہیں اور خصوصاً سونے سے قبل کچھ کھاتے ہیں جس کا انہیں بہت نقصان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رانگن کہتے ہیں کہ آپ کو دن کا آخری کھانا سونے سے کم از دو یا تین گھنٹے قبل کھالینا چاہیے اور اس کے بعد نظام انہضام کو کم از کم 12 گھنٹے کا وقفہ دینا چاہیے۔ اس طویل وقفے سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا پیدا ہوتے ہیں جو خوراک کے بہتر ہاضمے کا سبب بنتے ہیں جبکہ لمبے وقفے کے دوران نظام انہضام خودکار طریقے سے اپنی صفائی بھی کرتا ہے اور فاسد مادوں سے بھی نجات پاتا ہے۔

اگر آپ اپنے کھانے کو صبح آٹھ سے رات آٹھ بجے کے درمیان محدود کردیں تو باآسانی آپ کے نظام انہضام کو 12 گھنٹے کا وقفہ مل جاتا ہے جس کے دوران یہ اپنی صفائی اور مرمت بخوبی کرلیتا ہے۔ اس کا اثر صرف آپ کی عمومی صحت کی بہتری پر ہی نہیں ہوتا بلکہ قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی عرصے میں وزن میں بھی کمی ہونے لگے گی۔ کھانے کے اس نظام الاوقات کے ساتھ آپ کو سادہ خوراک اور ورزش کو بھی یقینی بنانا چاہیے تاکہ اس اصول کے بھرپور فوائد حاصل کر سکیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تعلیم و صحت