”پہلے لڑکی کے بینک اکاؤنٹ میں اتنے پیسے جمع کرواؤ۔۔۔“ عدالت نے لڑکیوں کو گھر سے بھگا کر شادی کرنے والوں کیلئے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، جان کر لڑکے بے اختیار کہہ اٹھیں گے ”میں اب گھر والوں کی مرضی سے شادی کروں گا“

”پہلے لڑکی کے بینک اکاؤنٹ میں اتنے پیسے جمع کرواؤ۔۔۔“ عدالت نے لڑکیوں کو ...
”پہلے لڑکی کے بینک اکاؤنٹ میں اتنے پیسے جمع کرواؤ۔۔۔“ عدالت نے لڑکیوں کو گھر سے بھگا کر شادی کرنے والوں کیلئے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، جان کر لڑکے بے اختیار کہہ اٹھیں گے ”میں اب گھر والوں کی مرضی سے شادی کروں گا“

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)جو نوجوان کسی لڑکی کو گھر سے بھگا کر شادی کرنا چاہتا ہے ، اس کو اب لڑکی کے نام پر بینک میں 50 ہزار سے لے کر تین لاکھ روپے تک جمع کروانے پڑیں گے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے یہ حکم جاری کیا ہے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کیلئے پولیس سے تحفظ مانگنے والے جوڑوں کو ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ لڑکا پہلے لڑکی کے بینک اکاونٹ میں ایک مقررہ رقم جمع کروائے۔ یہ رقم 50 ہزار سے تین لاکھ روپے تک ہوسکتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہائیکورٹ نے یہ ہدایت ان جوڑوں کے سلسلہ میں جاری کی ہے ، جو گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کیلئے پولیس تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جسٹس پی بی بجنتھری نے 27 جولائی 2018 سے اب تک چار ایسی ہدایات جاری کی ہیں جن میں لڑکے سے لڑکی کے بینک اکاونٹ میں رقم جمع کروانے کیلئے کہا گیا ہے۔پنجاب اور ہریانہ میں ہر روز اوسطا 20 سے 30 جوڑے اہل خانہ کے خلاف جاکر بھاگ کر شادی کرتےہیں ، جن میں کئی جوڑے پولیس تحفظ پانے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔

ایسے معاملات میں یہ جوڑے اہل خانہ سے جان کو خطرہ لاحق ہونے کا دعوی کرکے پولیس تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔پہلے ہائی کورٹ عدم تحفظ کے دعووں کی جانچ کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ سناتا تھا ، مگر گزشتہ کچھ وقت سے ہائی کورٹ نے ہدایت جاری کرکے لڑکی کے نام پر 50 ہزار سے تین لاکھ روپے تک جمع کروانے کا فیصلہ کیا۔ یہ رقم ایک مہینے کے اندر تین سال کی مدت کیلئے جمع کروانی ہوگی۔

مزید : بین الاقوامی