پاکستان میں اقلیتوں کوواضح اکثریت دی جاتی ہے، نفرتیں پروان چڑھیں توقومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکے گا: صدرممنون حسین

پاکستان میں اقلیتوں کوواضح اکثریت دی جاتی ہے، نفرتیں پروان چڑھیں توقومی ...
پاکستان میں اقلیتوں کوواضح اکثریت دی جاتی ہے، نفرتیں پروان چڑھیں توقومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکے گا: صدرممنون حسین

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ حالیہ عام انتخابات میں  جنرل نشستوں پر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کی کامیابی ایک مثبت پیغام ہے، لہذا اب یہ منفی پروپیگنڈہ بند ہو جانا چاہیے کہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں کو آگے بڑھنے کے مواقع میسرنہیں آتے, ملک میں  نفرتوں کے پروان چڑھنے کا عمل جاری رہا تو قومی ترقی کا عمل رک جائے گا, سیاست میں بھی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے،نفرتیں پروان چڑھیں توقومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکے گا.

نجی ٹی وی چینل” جیو نیوز“ کے مطابق صدر پاکستان ممنون حسین نے اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات میں جنرل نشستوں پراقلیتی نمایندوں کی کامیابی دنیا کیلیے پیغام ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کوواضح اکثریت بھی دی جاتی ہیں اور پاکستان اقلیتوں کے لئے محفوظ ترین ملک ہے ،عام انتخابات میں جنرل نشستوں پراقلیتی امیدواروں کی کامیابی بڑی پیش رفت ہے،اب یہ پروپیگنڈاختم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو آگے بڑھنے کے مواقع حاصل نہیں،اقلیتوں پرجب مشکل وقت آیا پاکستانی قوم اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی،علمااور مذہبی پیشواؤں نے ہمیشہ رواداری کے فروغ کیلئے کام کیا ،حکومت عوام کی طاقت کے ذریعے ہی انتہا پسندی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔صدر مملکت نے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں نفرتوں کے پروان چڑھنے کا عمل جاری رہا تو اس کے نتیجے میں قومی ترقی کا عمل رک جائے گا اورہم معاشی خوشحالی کے جو خواب دیکھ رہے ہیں، ان کی تعبیر کبھی نہ پا سکیں گے۔صدر مملکت  نے کہا کہ  مہذب معاشرے سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل ایسے اقدامات کرتے رہتے ہیں جن کے نتیجے میں قومیں سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہیں اور ان کے درمیان اخلاص اور خیر خواہی کے خوشگوار جذبات پروان چڑھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اکثریتی آبادی ان معاملات میں ایثار و قربانی کا زیادہ مظاہرہ کرتی ہے تاکہ اقلیتی برادریوں کے جائز حقوق کا تحفظ ہو سکے اور انھیں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے قوم کے دیگر طبقات کے ساتھ اپنے تعلقاتِ کار کو مستحکم بنا کر قومی ترقی کے عمل میں شریک ہو جائیں۔انھوں نے کہا کہ رواداری اور بھائی چارے کی یہی روِش ملک کو مضبوط بناتی ہے اور اسے اقوام عالم میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ پاکستان کی مسلم آبادی وہ پرامن بقائے باہمی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے کشادہ روی اور اخلاص کا مظاہرہ کرتی رہے تاکہ کوئی بدخواہ ہمارے داخلی مسائل سے فائدہ اٹھا کر ہماری اجتماعی منزل کھوٹی نہ کر سکے۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد