لاہور میں سوتیلی ماں کے تشدد سے 3سالہ بچی چل بسی

لاہور میں سوتیلی ماں کے تشدد سے 3سالہ بچی چل بسی
لاہور میں سوتیلی ماں کے تشدد سے 3سالہ بچی چل بسی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)بادامی باغ کے علاقہ میں سوتیلی ماں کے تشدد سے 3سالہ بچی چل بسی ،پولیس نے لاش اپنی تحویل میںلے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی ۔

تفصیلات کے مطابق بادامی باغ کے رہائشی عرفا ن نامی شخص نے تین شادیاں کررکھی تھیں جن میں پہلی شادی سمیرا نامی خاتون سے کی جس کے بطن سے ایک دعائے زہرہ نامی بیٹی ہوئی پھر ان میاں بیوی کے درمیان کسی بات کو لے کر جھگڑا ہوا اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی پھر عرفان نے دوسری شادی مہوش نامی خاتون سے کی جس کے بطن سے دو جڑواں بیٹیاں مریم اور زینب پیدا ہوئیں لیکن اس بیوی کے ساتھ بھی دوسال سے ناراضگی چل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی ایک بیٹی زینب کو ساتھ لے کر میکے جا بیٹھی اس کے بعد عرفان نے تیسری فائقہ نامی خاتون سے شادی کی جس سے ایک بیٹا پیدا ہوا اور مریم بھی اسی خاتون کے پاس رہ رہی تھی کہ چند روز قبل مریم سیڑھیوں سے گر گئی جسے طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیاجہاں اس کو علاج معالجہ کے بعد واپس گھر لے آئے لیکن صبح جبکہ عرفان کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا کہ اس کو اطلاع ملی کے اس کی بیٹی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے جس پر اس نے اپنے کاروباری پاٹنرشاہزیب کو فون کرکے کہا کہ اس کی بیٹی مریم کو ہسپتال لے جائے جس پر اس کے دوست نے گھر آکر دیکھا تو بچی بستر پربیمار لیٹی ہوئی ہے جسے وہ فوری طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال لے گیاجہاں تھوڑی دیر گزرنے کے بعد مریم کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے چل بسی جس کے مرنے کی تصدیق ڈاکٹروں نے کردی دوست نے عرفان کو ساری صورتحال سے آگاہ کیاتو اس نے کہا کہ بچی کی لاش اس کے والدین کے گھر بھجوا دو جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو وویلہ مچ گیاانہوں نے کہا کہ اس کی موت نہیں ہوئی بلکہ فائقہ نے اسے قتل کردیا ہے اس کی اطلاع پولیس کو دے دی گئی جنہوں نے موقع پر پہنچ کے لاش اپنی تحویل میںلے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی ۔ پولیس کے مطابق لاش پر کسی بھی قسم کے تشدد کے نشان موجود نہیں ہیں لیکن پھر بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے ان حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے جوقانونی کاروائی بنے گی اسے عمل میں لایا جائے گا ۔

مزید : جرم و انصاف