دو چودھری پنجاب میں ن لیگیوں کافارورڈ بلاک بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

دو چودھری پنجاب میں ن لیگیوں کافارورڈ بلاک بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟
دو چودھری پنجاب میں ن لیگیوں کافارورڈ بلاک بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

  

ویسے تو ایک نیام میں دو تلواریں اور ایک گاوں میں دو چودھری اکٹھے نہیں رہ سکتے مگر  عمران خان نے یہ کام کر دکھایا ہے ۔ویسے  اصلی چودھری ابھی باقی ہے ۔ دیکھا جائے تو  پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے اعلان سے پہلے  بڑے مضبوط اور اہم فیصلے کر دیئے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی اور چودھری سرور کو گورنر پنجاب نامزد کر کے یہ واضح پیغام دیدیا ہے کہ  آئندہ دنوں میں پی ٹی آئی  پنجاب میں مزید مضبوط اور انتظامی   و سیاسی  طور  قابل ذ کر کام کرے گی  ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی طرف سے نامزد دونوں چودھری جن مناصب   پر نامزد کئے گئے ہیں وہ    اس سے پہلے بھی  ان عہدوں کو کامیابی سے چلا چکے ہیں۔ دونوں چودھری پنجاب کی تین بڑی برادریوں میں سے دو سے تعلق رکھتے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی اگر جاٹ ہیں تو چودھری محمد سرور آرائیں قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ امر بھی بڑا دلچسپ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کو بھی  پہلی بار  مسلم لیگ نے  سپیکر  نامزد کیا تھا اور چودھری سرور بھی پنجاب میں گورنر کے منصب پر مسلم لیگ (ن) کے ہی نامزد کردہ تھے۔ دونوں پنجاب کی سیاست پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اور دونوں میں یہ اہلیت ہے کہ وہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کو اپنی طرف راغب کر سکتے ہیں۔ اِن دونوں کی نامزدگی سے اس امر کو بھی تقویت مل رہی ہے  کہ پنجاب میں جلد مسلم لیگ (ن) کا فارورڈ بلاک بن جائے گا۔ اِن دونوں چودھریوں کے ابھی بھی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی سے قریبی رابطے ہیں۔

چودھری پرویز الٰہی پنجاب میں جوڑ توڑ اور روابط کے ماہر ہیں۔ اپنی 5 سالہ وزارت اعلیٰ کے دور میں انہوں نے پنجاب کی ترقی کیلئے نہ صرف مثالی کام کیا بلکہ ارکان اسمبلی کو وہ عزت احترام دیا جو ارکان اسمبلی اب بھی یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں ایک مثالی بیوروکریسی کے ذریعے حکومت کی جس کی وجہ سے تمام ادارے انہیں پسند کرتے تھے اور ہیں۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ دس سالوں کے دوران جس طرح مسلم لیگ (ن) اور خصوصی طور پر میاں شہباز شریف کی طرف سے اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کو اگنور کیا گیا وہ ابھی تک مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے ارکان کو یاد ہے۔ انہی بنیادوں پر سیاسی پنڈت یہ کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی مسلم لیگ (ن) میں ایک فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) پنجاب میں ایک بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بھی تیاری میں ہے اور ان کا مقابلہ چودھری پرویز الٰہی جیسا تجربہ کار اور وضعدار پارلیمنٹیرین ہی سپیکر کے طور پر کر سکتا ہے۔

جہاں تک چودھری محمد سرور کا تعلق ہے تو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی گورنری چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور اب پی ٹی آئی نے    وہ گورنری انہیں واپس لوٹا دی ہے۔ چودھری سرور کا تعلق بھی ارکان اسمبلی کے ساتھ بہت قریبی ہے ۔انہوں نے ماضی میں جب گورنر شپ سے استعفیٰ دیا تھا تو یہ ان کی بڑی بہادری تھی کہ ایک اتنے بڑے عہدے کو انہوں نے اصولی بنیادوں پر چھوڑ دیا تھا۔ چودھری سرور پر اس وقت صاف پانی پراجیکٹ اور کئی دوسرے معاملات میں بڑا پریشر ڈالا جا رہا تھا۔ چودھری سرور مختلف این جی اوز اور غیر ملکی مخیر حضرات کے ذریعے پنجاب میں ایسے پراجیکٹ مفت لگانا چاہ رہے تھے جبکہ ان کی راہ میں روڑے اٹکا کر سابق وزیراعلیٰ اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اپنے چہیتوں کے ذریعے مہنگے داموں یہ پراجیکٹ چلانا چاہتے تھے۔ بہرحال پی ٹی آئی کی طرف سے اب تک پنجاب کے حوالے سے کئے جانے والے  فیصلے سیاسی اور انتظامی طور پر بڑے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب پی ٹی آئی کس   نوجوان کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کرتی ہے اور اسے عبوری وزیراعلیٰ بناتی ہے یا پھر مستقل وزیراعلیٰ۔ فیصلہ عبوری ہو یا مستقل اس وزیراعلیٰ کو چودھری پرویز الٰہی اور چودھری سرور کی موجودگی میں معاملات چلانے میں بہت آسانی رہے گی۔

 ۔۔۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ