”روس سے بھی مشاور ت کی جائے “

”روس سے بھی مشاور ت کی جائے “
”روس سے بھی مشاور ت کی جائے “

  


وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ سے ملاقا ت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیاہے کہ چین مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتاہے اور سلامتی کونسل میں پاکستان کی حمایت کرے گا ۔چین کی جانب سے اس سے قبل بھی متعدد بار اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی حمایت کی جا چکی ہے ، پاکستان سے ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی دوستی کے تناظر میں اس بار بھی پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر چینی حمایت حاصل ہو جائیگی ۔

عالمی سپر پاور امریکہ کی جانب سے بھی افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کے کلیدی کردار کی وجہ سے پاکستان کی تحسین کی جارہی ہے بلکہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران تو ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ہوسکتاہے کہ بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی الگ سے شناخت ختم کرنے کی اضطراری حرکت کی گئی  جس نے اس مسئلہ کو نہ صرف عالمی سطح پر اجاگر کردیا ہے بلکہ اس وقت دنیا کا ایک ہاٹ ایشو بناکر رکھ دیا ہے ۔

ایسی صورتحال میں جب بھارت کی ریاستی دہشتگردی اور بربریت کا شکار کشمیری مسلمان صرف اور صرف پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ایسے میں عین ممکن ہے کہ امریکہ بھی پاکستان کی مجبوریوں اور مشکلات کو سمجھتے ہوئے ، افغان امن عمل میں اس کے سہولت کاری کے کردار کوتسلیم کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کی جانب سے لائی جانیوالی قرارداد کے حق میں ووٹ دیدے اور ماسوائے روس کے سلامتی کونسل کے باقی مستقل ارکان بھی امریکہ کی جانب سے پاکستان کی تائید کرنے پر ”ہاتھی کے پاﺅں میں سب کا پاﺅں“کے مصداق پاکستا ن کے حق میں رائے دے سکتے ہیں ۔

سلامتی کونسل میں اگر صورتحال یہ رخ اختیار کرتی ہے تو پھر مسئلہ روس کارہ جاتاہے جس کے ساتھ سرد جنگ کے زمانے میں امریکی بلاک میں ہونے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں رہے ۔ روس ماضی میں متعدد بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں اپنا ویٹو پاور کاحق استعمال کرچکاہے جس کی وجہ سے پاکستان کوسلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا کیونکہ سلامتی کونسل میں لائی گئی کوئی قرارداداس وقت ہی پاس ہوسکتی ہے جب سلامتی کونسل کے تمام مستقل ممبر ان اس کی حمایت کریں بصور ت دیگر معاملہ جوں کا توں ہی رہتاہے ۔

سردجنگ کے بعد گزری ہوئی دو دہائیوں میں البتہ روس کا مزاج بھی کافی حد تک بدل چکا ہے اور انڈیا کی بھی روسی بلاک سے وہ وابستگی نہیں رہی۔بھارت کی امریکہ سے قربت اور دونوں ملکوں کے مابین ہونیوالے دفاعی و تجارتی معاہدوں نے اگرچہ بھارت کوروس سے دور نہ بھی کیا ہوتو مزید قریب بھی نہیں کیا ۔پاکستان کی مدد سے طالبان امریکہ امن معاہدے کے بعد اگرافغانستان میں امن قائم ہوجاتاہے توپاکستان میں موجود سی پیک اورگوادر بندرگاہ جیسے عظیم الشان منصوبے کے ہوتے ہوئے وسط ایشیائی ریاستوں کے توسط سے ایسی صورت نکل سکتی ہے کہ روس ان گرم پانیوں سے با آسانی مستفید ہوسکتا ہے جن سے مستفید ہونے کیلئے وہ افغانستان پر حملہ آور ہوکر ایک طویل جنگ میں الجھا اور اپنی معیشت کا کباڑا کرکے رکھ دیا جس کے نتیجے میں نہ صرف روس کو شکست و ریخت کا سامنا کرناپڑا بلکہ امریکہ کودنیا کی واحد عالمی سپر پاور بننے کاموقع بھی مل گیا ۔

حالیہ برسوں میں روسی رویے کودیکھتے ہوئے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ روس پاکستان میں سرمایہ کاری اور سی پیک سے مستفید ہونے کی خواہش رکھتا ہے ، مزید بر آں روس اورپاکستان کے مابین سمندری راستے گیس پائپ لائن کامعاہدہ اور روس کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کی حمایت بھی دونوں ملکوں کے روز بروز بہتر ہوتے تعلقات کی مثالیں ہیں ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدجہاں ہمارے وزیر خارجہ چین کا دورہ کرکے پاکستان کے اس بااعتماد دوست ملک کومزید اعتماد میں لے رہے ہیں وہاں ضروری ہے کہ روس کے ساتھ معاملات کومزید بہتر کیا جائے اور چوکس سفارتکاری کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر روس کو اعتماد میں لیکر ایسی صورت نکالی جائے کہ روس سلامتی کونسل میں پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدام کے خلاف لائی جانیوالی قرارداد کے حق میں ووٹ دے ، صرف ایسی صورت میں ہی مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں پیش کی جانیوالی قرارداد کے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ