امریکہ کو کشمیر میں کتنی دلچسپی ہے؟

امریکہ کو کشمیر میں کتنی دلچسپی ہے؟

امریکہ کے ایک معروف تھنک ٹینک ”سمسٹن سینٹر“ میں جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر اور سینیٹرفیلو ایلزبیتھ تھریلڈ نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش اور بعد میں وزیراعظم مودی کے اقدامات، کشمیر کی صورتِ حال اور دِنیا کے ردعمل کے حوالے سے فکرانگیز بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے کشمیر سے متعلق حالیہ اقدام سے قبل ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کو نظر انداز کر دینا چاہئے تاہم یہ ممکن ہے کہ اس پیشکش کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیر کی حالت کو تبدیل کرنے میں عجلت سے کام لیا ہو،کہ جنتا پارٹی کے منشور میں یہ پہلے ہی سے موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جواب فطری ہے،تاہم دُنیا بھر میں زیادہ ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا، امریکہ کے حوالے سے ان کی رائے ہے کہ امریکہ کو صرف اس قدر دلچسپی ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و امان کی صورتِ حال قابو سے باہر نہ ہو،انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی آئین آرٹیکل370 کے حوالے سے واضح کرتاہے کہ ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر بھارت ہیئت تبدیل کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا،لیکن بھارتی حکومت نے اسمبلی تو پہلے ہی سے معطل کی ہوئی ہے،اب تو یہ اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تو فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا۔اس تھنک ٹینک کی اہم رکن نے جو کہا وہ تفصیل سے بیان کردیا اور یہ سب حسب ِ حال ہے کہ پاکستان کے اندر بھی حقیقت پسند حضرات اسی طرح غور کر رہے ہیں،بلکہ یہاں تو یہ تک کہا جا رہا ہے، ٹرمپ کی ٹرمپی نے مودی کو یہ قدم جلدی اٹھانے پر اُکسایا کہ وہ اپنی جماعت اور انتہا پسند لوگوں میں اپنی ساکھ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔تھنک ٹینک کی نمائندہ خاتون نے جو بھی کہا وہ ایک تجزیئے اور معلومات کی روشنی میں تھا اور یہ سب حالات ہمارے بھی سامنے تھے اور بقول وزیراعظم ان کے لئے افغان امن عمل میں تعاون مشکل بنایا جا رہا ہے،اب تک جو بھی ہوا وہ انہی خطوط پر ہوا ہے اور ہماری حکومت کا ردعمل بھی اسی کے مطابق ہے تاہم ایلزبیتھ تھریلڈ کی اس بات میں بھی وزن ہے کہ دُنیا نے وہ تاثر نہیں لیا اور نہ ہی ردعمل دیا جس کا تقاضا تھا، اسی حوالے سے ہمارے وزیر خارجہ چین گئے اور وزیراعظم کے مطابق وہ دُنیا بھر کے سربراہوں سے رابطے میں ہیں،یہ اقدام درست ہے،تاہم یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ میں قائم ایک تھنک ٹینک امریکی صدر کی درفنطنی اور رویئے کے بارے میں یہ رائے رکھتے اور تجزیہ سے بھارتی عمل بھی جانتے ہیں تو ہم کہاں سو رہے تھے،ہمیں بھی بہت پہلے دُنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف دِلانا چاہئے تھی۔اب بھی یہ کام مناسب طور پر شروع نہیں کیا گیا۔بہتر عمل یہ ہے کہ اہم اور اہل پارلیمانی اراکین پر متفقہ اور متحدہ وفود بنا کر پوری دُنیا کے اہم ممالک کی طرف روانہ کرنا چاہئیں جو عالمی رائے عامہ کو حقیقت حال سے آگاہ کریں کہ اب تک کی اطلاعات تو حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ