مریم نواز کی گرفتاری پر سوالات!

مریم نواز کی گرفتاری پر سوالات!
مریم نواز کی گرفتاری پر سوالات!

  


اگر احتساب کی رتھ قانون کی بجائے خواہش کے کاغذی گھوڑے کے ناتواں کندھوں پر رکھی ہو اور رتھ کھینچنے والے گھوڑے کی آنکھوں پر ”کھوپے“ رکھ کر اسے گردوپیش سے بے خبر کرکے صرف سامنے کا ”راستہ“ دیکھنے پر مجبور کر دیا جائے تو سوال اٹھانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور قدرت نے ازل سے اسے انسان کی فطرت کا جزولاینفک بنایا ہے۔ شیطان، حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا تو اللہ تعالیٰ نے سوال اٹھایا، ”جب میں نے تمہیں حکم دیا کہ آدم ؑ کو سجدہ کرو تو انکار کیوں کیا“؟ …… کچھ لوگ مخمل کے حسین پردوں پر اقتدارکی گردشوں میں محو طواف ارباب اقتدار کایہ قول زریں ستاروں کی صورت کڑھائی کراکرا نہیں لہراتے پھرتے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں پہلی باراحتساب کا چشمہ پھوٹا ہے اور اب وطن عزیز کے ریگزار بھی باغ ارم کا منظر پیش کرنے کو ہیں۔ ان کا ارشاد بجا، لیکن سوال تو پھر بھی اٹھتا ہے کہ ”پانی اپنی سطح ہمواررکھتا ہے، لیکن یہاں تو چراغ رخ زیبا لے کربھی شاید یہ دلفزا نظارہ دیکھنے کو نہ ملے“۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ اس چشمہ آب ”احتساب“ کا رخ تاباں صرف نشیبی علاقوں کی طرف ہو اور ”بالائی علاقے“ ہنوز اس کی پہنچ سے کوسوں دور ہوں؟ …… سوال اٹھانا غداری ہوتا ہے اور نہ ہی سائل کی نیت پر شک کرنا حوصلہ افزا رویہ۔ ریاست مدینہ میں توفلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ والی ریاست کو کسی بڑھیا نے اشارے سے بلایا اور عرب کے ریگستان کی کڑکتی دھوپ میں کھڑا کر کے باتیں سنائیں، لیکن مجال ہے جو تاریخ کے اس صادق وامین حکمران کے ماتھے پر شکن پیداہوئی ہو۔ ٹھہرے پانی میں پلچل مچانے کے لیے ایک ہی کنکر پھینکنا کافی ہوتا ہے یہاں تو بے یقینی کا ایک جنگل ہے جس میں سوالات کے اژدہے”اگر مگر لیکن کیوں کیسے“ جیسے پھن پھیلائے سوچ کو ڈسنے کے لیے تیار ہیں، لیکن جواب کا عصااتنا کمزورکہ سوال کی چوٹ سے ٹوٹا ہی چاہتا ہے۔

اگر ایک طرف پشاور میٹروکے دیوتاکے حضور سو ارب سے زائد کے چڑھاوے چڑھائے جا چکے ہوں، لیکن تعبیر کی برکھا ابھی تک برسنے سے شرمندہ، احتساب کا دولہا اپنی دلہن”بلین ٹری“ کے رخ سے گھونگھٹ سرکانے سے کترا رہا ہو، ہیلی کاپٹر کیس ابھی تک فضا میں ہو اور کسی کا ہاتھ وہاں تک نہ پہنچ پارہا، لیکن اپوزیشن مکھی مارنے کے جرم میں بھی پکڑی جا رہی ہو تو آہنی دیواربھی سوال کے سیل رواں کوروکنے سے قاصرہی رہے گی۔ اگر ایک طرف بابراعوان کو آزادی کا پروانہ دیا جا رہا ہو اور دوسری طرف قمر الاسلام مہینوں جیل کاٹ کر بیگناہی کا کتبہ اٹھا کر رہا ہو رہا ہوتو سوال تو پیدا ہوں گے۔ اگر ایک طرف فردوس عاشق اعوان پر بنے کیس مٹھی سے ریت کی مانند پھسلتے جا رہے ہوں اور دوسری طرف شاہد خاقان عباسی دیوار سے لگایا جا رہا ہو تو سوال کوکسی بھی زہر سے مارا نہیں جاسکتا۔ اگر ایک طرف زبیدہ جلال کے کیس پارٹی وابستگی کی آتش میں جلا، خاک بناکر پھونک مار کر ہوا میں اڑائے جارہے ہوں اور دوسری طرف مفتاح اسماعیل، احد چیمہ، سعد رفیق، حمزہ شہباز، یوسف عباس اورکامران مائیکل کواحتساب کی سیخوں پر چڑھا کر ہلکی ہلکی آنچ پر تلاجارہا ہو تو سوال اپنی پیدائش کے لیے کسی ازدواجی بندھن سے ماورا ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک طرف فہمیدہ مرزاکو پاکدامنی کے سرٹیفکیٹ عطا کیے جا رہے ہوں، لیکن دوسری طرف مریم نواز کو ایسے کیس میں پابند سلاسل کیا جا رہا ہو، جو اپنی مضبوطی میں مکڑی کے جالے کو بھی شرماتا ہو تو دنیا کی کوئی بھی احتیاط سوال کو”پیدا“ ہونے سے نہیں روک سکتی۔

یہ انصاف نہیں کہ خود ہی سوال کا موقع دو اور پھر خود ہی سائل پر پابندیاں لگاؤ۔ مریم نواز کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہم نے مانا کہ مریم نوازشریف کی گرفتاری احتساب کے سفر میں ایک سنگ میل ہے، لیکن اس آشیانے کوتو ایک مضبوط شاخ چاہئے تھی تاکہ کوئی ناگ اس عمل صالحہ کے انڈے بچے نہ کھاتا، لیکن افسوس! بزعم خویش اس کارنمایاں کے تن نازک کو شک کے گردوغبار میں لپیٹ دیا گیا؟ وہ الزام جس پر ہائی کورٹ ایک تاریخی فیصلہ بھی دے چکی اور اپیل دائر کرنے کی مدت بھی گزر چکی، اسی الزام پر گرفتاری ایک ایسی چنگاری ہے جو خرمن کو جلانے کے لیے کافی ہے۔ نیب کے حکمنامہ نمبر 1 (9) HQ/2023/IW-II/NAB-l میں واضح مندرج ہے کہ مریم نواز شریف کو تین بجے نیب لاہور کے حضور پیش ہونا ہے۔ وقت کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے وہ ایک بجے اپنے والد سے ملاقات کے لئے جیل پہنچیں، لیکن کمال کی بات ہے کہ ان سے پہلے وہاں نیب کی ٹیم پہنچی ہوئی تھی۔ انہیں وہیں اپنے والد کے سامنے گرفتار کر لیا گیا۔ سوال تو پیدا ہوگا کہ بلانے والے خودچل کر جیل میں کیسے وارد ہوگئے؟ بغیر کسی سوال جواب کے عدالت کے احاطے کی بجائے جیل سے کیوں گرفتارکیا گیا؟ وقت تین بجے کا طے تھا تو ایسی بھی کیا عجلت تھی کہ دوگھنٹے مزید صبر نہ ہوسکا؟ اگر گرفتار ہی کرنا تھا باپ کے سامنے ہی کیوں کیا گیا؟ اگر نئے پاکستان میں ملزموں کو نشان عبرت بنانا ہی مقصود تھا تو بیچ چوراہے، پرہجوم شاہراہ اور لوگوں کے جم غفیر سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی اورجگہ ہوسکتی تھی؟ سوال تو پیدا ہوگا کہ گرفتاری کا وقت اور جگہ دونوں کو صرف اس لیے تو تبدیل نہیں کیاگیا کہ کسی کو ذلیل کرنا اور اس کے اعصاب توڑنا مقصود تھایا کسی کی انا کی تسکین؟

مریم نواز نے 15اگست کو مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک ریلی کا اعلان کیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی انہیں گرفتارکرلیا گیا۔ احتساب کا عمل بے شک شفاف ہوگا، لیکن ان کی گرفتاری کاعمل اورجلدبازی، ان کی سابقہ ریلیوں کا بلیک آؤٹ، جلسوں والی جگہوں پر پانی چھوڑنا، جلسہ گاہوں کو تالے لگانا، اپیل کی مدت گزرنے کے بعد اپیل دائر کرنا، جبکہ اسی بنیاد پر کئی ایک مقدمات داخل دفتر کئے جا چکے ہوں، تین بجے سوالات کی بجائے ایک بجے گرفتاری ڈالنا، بلانے والوں کا خود جیل پہنچ جانا اور وہ بھی مریم نواز کے جیل پہنچنے سے پہلے اور اس جیسے دیگر اقدامات شکوک و شبہات پھیلانے اور پٹواریوں کو یہ کہنے کے لیے کافی ہیں کہ مریم نواز کے جلسے کاخ امراء کی دیواروں کو لرزا رہے تھے، اس لئے جلدبازی کی گئی۔ قائداعظم ؒسے کسی عیسائی نے پوچھا کہ اسلام اوردیگر مذاہب عالم بھلائی کا درس دیتے ہیں تو ان میں فرق کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا؟ ”فرق یہ ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ بھلائی کرو، لیکن اس کے لیے راستہ بھی بھلائی والا اختیار کرو“۔ تو حضور احتساب ہونا چاہئے، لیکن یکساں اور بلاامتیاز ورنہ ریاست مدینہ میں فاطمہ کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکے گا۔

مزید : رائے /کالم