تحریک ِ آزادی کشمیر کی کامیابی

تحریک ِ آزادی کشمیر کی کامیابی
تحریک ِ آزادی کشمیر کی کامیابی

  


بھارت نے یکطرفہ طور پر مسئلہ کشمیر ”آ ئینی طور پر“ حل کرکے رکھدیا ہے بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 الف کو منسوخ کرکے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آ ئینی حیثیت ختم کر دی ہے اور اسے براہ راست یونین کا حصہ بنا کر سات دہا ئیوں سے سر درد بنا ہوا مسئلہ کشمیر طے کر دیا ہے۔کسی بھی قسم کے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے، بلکہ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے، ایک لاکھ اسی ہزار اضافی فوجی بھی یہاں تعینات کر دیئے ہیں یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہاں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی 7لاکھ فوجی تعینات ہیں جو اس مسئلے کے ایک اہم فریق کشمیر ی عوام سے نمٹنے کیلئے انہیں قابو رکھنے کیلئے پہلے ہی ایک عرصے سے یہاں تعینات ہیں گویا اب کشمیر میں آٹھ لاکھ اسی ہزار فوجی تعینات ہیں۔ دور حا ضر کی تاریخ میں شاید یہ اکلوتی مثال ہو گی کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی ”اپنے ہی عوام کے ردعمل سے نمٹنے کیلئے“ڈیوٹی دے رہے ہیں یہاں نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنوں کا استعمال بھی ہوتا رہا ہے کلسٹر بموں کے استعمال کے ثبوت بھی مہیا کئے جاچکے ہیں۔

ہم کہتے رہے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا فوجی حل ممکن نہیں ہے یعنی طاقت اور قوت کے استعمال کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاسکتا ہے دلیل یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اس لئے جنگ ہونا نا ممکن ہے لیکن یہ بات بہت بڑا تاریخی مغالطہ ہے جنگیں آمنے سامنے ہو کر ہی نہیں لڑی جاتی ہیں اشتراکی روس اور عیسائی امریکہ نصف صدی تک باہم دست و گریبان رہے ہیں دونوں ریاستیں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تھیں ان کے درمیان نصف صدی تک حالت جنگ قائم رہی سرد جنگ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ایٹمی قوتیں اس میں ملوث رہیں شامل رہیں اور فعال رہیں۔ بالآخر اشتراکی روس کو شکست ہوئی اور عیسائی امریکہ فتح مند ہوکر سپریم عالمی طاقت بنا۔یہ سب کچھ جنگ کے ذریعے ہی وقوع پذیر ہوا۔

بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی عسکری طاقت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن اس عسکری قوت کے پیچھے اس کی سفارتی اور سیاسی قوت بھی شامل رہی ہے مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہیں پاکستا ن ہندوستان اور کشمیری۔ ہندوستان ایک عرصے سے اپنی فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کاوشیں کرتا رہا ہے پاکستان کے ساتھ اس کی تین جنگیں بھی اسی مسئلے کے تناظر میں ہوتی رہی ہیں 1971 میں بھارت نے ہمیں عسکری طریقے سے شکست دے کر مشرقی پاکستان کو کاٹ کر الگ کر دیا۔ پھر 80کی دہائی میں سیاچین پر قبضہ کرکے ہمیں ہماری کمزوری کا احساس دلایا۔ کہا جاتا ہے کہ کیونکہ اب ہم دونوں ممالک ایٹمی ہوچکے ہیں اس لئے جنگ قابلِ عمل آپشن نہیں ہے لیکن کارگل کب ہوا تھا۔ پلوامہ کب ہوا تھا جی جناب جب دونوں ممالک ایٹمی ہو چکے تھے اس لئے جنگ اب بھی ایک آپشن کے طور پر موجود ہے ایٹمی جنگ نہیں بلکہ روایتی جنگ ایک قابل عمل آپشن کے طور پر موجود ہے۔ مودی سرکار نے 9لاکھ مسلح فوجی کشمیراور لائن آف کنٹرول پر نمائش کیلئے نہیں تعینات کئے ہوئے ہیں 1کروڑ چالیس لاکھ نہتے کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ پاکستان کے ساتھ ممکنہ مڈ بھیڑ کیلئے بھی ہیں بھارت جنگ کے لئے میدان میں آچکا ہے۔سیاسی، سفارتی تیاری بھی کر چکا ہے۔

مودی سرکار نے یہ سب کیچھ اچانک نہیں کر دیا ہے سوشل میڈیا پر ان کی 80کی دہائی کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے،جس میں وہ دستور کے آرٹیکل 370 اور35 الف کے خاتمے کیلئے مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں انہوں نے اپنی حالیہ الیکشن مہم میں بھی اسے اپنے منشور کا حصہ بتایا تھا انہوں نے اس حوالے سے ہر قسم کی بھرپور تیاری بھی کر رکھی تھی۔ ہندوستان کی حکمران جماعتیں اور ذاتیں سب ایک بات پر متفق چلی آرہی ہیں کہ کشمیر ی مسلمانوں کو کچل کر رکھنا ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو برابری کے شہری حقوق نہیں دینے ہیں۔ پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی باہمی اختلافات کے باوجود مسلمانوں، کشمیریوں اور پاکستان کے بارے میں انکے افکار و خیالات ایک جیسے ہیں۔

بھارت نے اپنے قیام کے روز اول سے ہی مسلم دشمنی کو اپنی سیاسی و سفارتی پا لیسیوں کا حصہ بنایا اس نے چن چن کر ان اقوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دیا جو مسلم دشمنی کے حوالے سے واضع موقف رکھتی تھیں۔ برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل بالخصوص اس حوالے سے اہمیت کے حامل رہے ہیں ان ممالک کے صہیونی عیسائی و یہودی افراد اور لابیاں جو مسلمانوں کے خلاف کا م کرتی ہیں ہندوستان کے لئے پر کشش رہی ہیں 1971ء کی جنگ میں بھی بھارت کو پاکستان کے خلاف اسرائیل کی عملی معاونت حاصل تھی اسرائیلی جنرل جیکب، کلکتہ کے ملٹری سینٹر میں بیٹھ کر مشرقی پاکستان میں جاری بھارتی ایکشن کی رہنمائی کرتے رہے تھے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے بھی اسرائیل کے ساتھ ایک عرصے سے مشاورت جاری تھی۔ اسرائیلی ماہرین نے ہندوسرکار کو بتایا کہ انہوں نے کس طرح فلسطینیوں کی جدو جہد آزادی کو سبوتاژ کیا کس طرح مسئلہ فلسطین کو یکطرفہ طور پر ختم کیا اور آج اسرائیل تھرڈ ٹمپل کی تعمیر کے ذریعے ”گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل“ کی حتمی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مودی سرکار نے بھی ایسی ہی پالیسی اختیار کی ہے جس پر عمل درآمد کے ذریعے کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل کر کے اس علاقے کو ہندو کشمیر بنایا جائے گا جس طرح آج فلسطینی اپنے آبائی علاقوں میں اقلیت بن چکے ہیں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کار قابض ہو چکے ہیں اسرائیل نے بتدریج منصوبہ بندی کے ساتھ فلسطینیوں کو بے گھر کیا ان کی املاک خریدیں اور آج وہ اپنے ہی علاقوں میں اقلیت کی شکل اختیار کر چکے ہیں مودی سرکار نے بھی یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ آئینی شقوں کے خاتمے کے ذریعے ہندو آباد کاروں کو کشمیرآنے کے مواقع دئیے جائیں گے اور پھر بتدریج کشمیری اپنے علاقوں میں اپنی سر زمین میں اقلیت بن کر بھارت میں ضم ہو جائیں گے۔ یہ مودی سرکار کی منصوبہ سازی ہے لیکن کشمیری عوام جو گزری تین دہائیوں سے بھارتی فوجی سنگینوں کے سائے میں زندگیاں گزار رہے ہیں اس صورتحال کو ہرگز قبول نہیں کریں گے یہ کوئی جذباتی بات نہیں ہے کشمیریوں کی موجود نسل جدوجہد کرتے کرتے، ہندوفوجیوں کے ظلم و ستم سہتے سہتے اتنی ٹرینڈ اور نڈر ہوچکی ہے کہ اسے اب دبانا یا غلام بنا کر رکھنا مودی سرکار کیلئے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر کشمیریوں کی ایک معقول تعداد امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں بستی ہے جاری حالات میں ہر کشمیری، کشمیری کاز کا سپاہی بھی بن سکتا ہے اور سفیر بھی سردست کشمیر کی صورتحال کرفیو کی دھند میں ہے کشمیر ی کشمیر میں کیا ری ایکشن دکھائیں گے وہ اپنی آزادی کیلئے کس حد تک جانے کیلئے تیار ہو نگے اس بارے میں ابھی قیاس ہی کیا جاسکتا ہے لیکن کشمیریوں کی شاندار تاریخی جدوجہد آزادی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کشمیری موجودہ صورتحال میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔

مودی سرکار نے اپنے سازشی و انقلابی منصوبے پر عمل درآمد کیلئے وقت کا انتخاب بھی بڑی ذہانت سے کیاہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اہم، انتہائی اہم اور طاقتور فریق ہے لیکن سردست پاکستان کی عمومی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ پاکستان کی قومی حیثیت دگر گوں ہے اس پر ناامیدی و نا کارکردگی کے گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں عالمی اور داخلی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک پہنچا ہوا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کیلئے بھی قرضہ حاصل کرنا پڑرہا ہے قرض خواہ اداروں کی شرائط پر عمل درآمد نے ہماری معیشت کو مکمل طور پر ساقط کر دیا ہے۔2018-19کی نسبت 2019-20میں ٹیکس وصو لیوں کے ٹارگٹ میں 45 فی صد اضافہ احمقانہ سوچ ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے عالمی اداروں کی ہدایات کی روشنی میں ایسی معاشی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس نے ہماری معیشت کی رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ حکمران جماعت کے بیانیے نے سیاست میں افتراق و تفریق کی خلیج گہری کر دی ہے احتساب کے نام پر اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کاوشیں نا اتفاقی کی خلیج کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایات پر عمل درآمد کے باعث کئی معاشی و معاشرتی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی پالیسیوں نے بھی پاکستان پر گرفت کر رکھی ہے جن کے باعث پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور میں داخل ہو گیا ہے۔چین کے ساتھ سی پیک معاہدے کے باعث ہمارے امریکہ اور کیچھ عرب ممالک کے ساتھ بھی تعلقات ہموار نہیں رہے ہیں۔ امریکہ نے عالمی اداروں کے ذریعے بھی ہمیں جکڑ رکھا ہے آئی ایم ایف کو ہم نے اپنے اوپر مسلط کر رکھا ہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطالبات بھی ہمیں دباتے چلے جانے کیلئے ہیں قرض خواہ ادارے ہم سے اپنے اپنے مطالبات منوا رہے ہیں جن کے باعث ہماری معاشی صحت روز بروز خراب ہوتی چلی جا رہی ہے سیاسی انتشار اپنی جگہ، امریکہ، بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے ہماری حکمت عملیوں کے باعث چین کے ساتھ بھی ہمارے معاملات بہت زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ہم سفارتی سطح پر بھی تنہائی کا شکار نظر آرہے ہیں۔

ہم پہلے امریکہ کے فرنٹ مین اور اب سہولت کار بن کر بھی اس کی دلی ہمدردیاں حاصل نہیں کر سکے ہیں کشمیر کی موجودہ صورتحال بھارت کی طرف سے عملاََاعلان جنگ ہے ایسا لگتا ہے کہ اسے امریکی آشیر باد بھی حاصل ہے کیونکہ امریکہ نے ہمیں کوئی خاص رسپانس نہیں دیا ہے۔ عالم اسلام کی حالت دگر گوں ہے ترکی اور ملائیشیاء نے ہمدردی کے دو بول ضرور کہے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بھارت نے شائد معاملات کرتے وقت چین کو بھی اطلاع دے دی تھی چین، لداخ کے حوالے سے اسی مسئلے میں ایک فریق ہے۔ اصل ایشوتو کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئے ہے۔ ہمارے عرب بھائی جنہیں اب بھائی کہنا شائد درست نہ ہو بھارتی دام میں گرفتار ہیں انہوں نے تو وہاں سر زمین عرب میں مندر کی تعمیر کی اجازت دے کر بت پرستی کا بھی چلن جاری کردیا ہے۔ او آئی سی میں بھارت کو ممبر کا درجہ دینے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھارتی ورکرز اور لابیاں خاصی فعال اور متحرک ہیں ہم اپنا کیس اقوام مغرب تو دور کی بات ہے اقوام مسلم تک بھی پہنچانے اور سمجھانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔

5 اگست 2019کا بھارتی قدم، سقوط مشرقی پاکستان سے بھی بڑا سانحہ ہے ہمارا بطور قوم جوری ایکشن 71میں تھا اسی قسم کا ری ایکشن آج نظر آرہا ہے۔ ہندوستان، ہمارا کشمیر ہم سے چھین کر لیجا چکا ہے ہم صرف دھمکیوں پر ہی گزارہ کر رہے ہیں۔ ہندوستان پوری تیاری کے ساتھ میدان عمل میں کھڑا ہے کشمیر پر اپنا تسلط جمانے کیلئے۔لیکن کشمیر ی بھی ہندوغلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے کے لئے تیار نظر آرہے ہیں وہ مظلوم ہیں کمزور ہیں لیکن اللہ کی نصرت کے سہارے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں، جس میں بالآخر ان کی کامیابی یقینی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔کشمیرکشمیریوں کو ہی ملے گا، ان شاء اللہ

مزید : رائے /کالم