دستورساز اسمبلی میں قائداعظمؒکی پہلی تقریر

دستورساز اسمبلی میں قائداعظمؒکی پہلی تقریر
دستورساز اسمبلی میں قائداعظمؒکی پہلی تقریر

  


11 اگست 1947ء کو ہونے والے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اسمبلی اراکین نے پاکستان کے لئے قائداعظمؒ کی طویل جد و جہد اور مضبوط قیادت کے اعتراف کے طور پر قائداعظمؒ کو اس اسمبلی کا صدر منتخب کیا اور اس میں پہلی تقریر کرنے کے لئے درخواست کی۔ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی اس دستور ساز اسمبلی کے وقار اور ساکھ میں بے حد اضافہ ہو ا، اور اسے دُنیا کی دستور سازی کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہوگیا۔ قائداعظمؒ نے اپنی تقریر میں جس بصیرت کا ثبوت دیا وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف دُنیا کے دساتیر میں موجود تمام خوبیوں اور انسانی قدروں کی سربلندی کے تمام لوازمات کے احساس و شعور کا ثبوت دیا، بلکہ اپنے ارد گرد کے حالات اور ان حالات میں کسی اسمبلی کے لئے کئے جانے والے ضروری اقدامات کی نشاندہی بھی کی۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز ہی میں یہ کہہ کر اسمبلی کے سنجیدہ غور و خوض اور جمہوری روح کے مطابق اکثریتی فیصلوں کی اہمیت واضح کر دی کہ وہ جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں وہ ان کے اچھی طرح سوچے سمجھے خیالات نہیں، بلکہ ان کے ذہن میں اس موقع پر جو چند باتیں آرہی ہیں،وہ ان کا اظہار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برصغیر جیسے بڑے ملک میں جس طرح دو ملک وجود میں آ گئے ہیں، اس پر خود ہمارے علاوہ دنیا کو بھی یقین نہیں آ رہا، جس طرح یہ سب آئینی اور پُرامن طریقے سے ہوا ہے اس کی مثال دُنیا میں نہیں ملتی۔جہاں تک آئین اور قانون سازی کا تعلق ہے، آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ اب آپ ایک مکمل آزاد اور خود مختار ادارہ ہیں۔ آپ کو تمام ضروری اختیارات حاصل ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ پر اس سلسلے میں ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ کس طرح کے فیصلے کرتے ہیں۔ مملکت کی سب سے پہلی ذمہ داری ملک میں امن وامان قائم رکھنا ہے، تاکہ لوگوں کے جان ومال اور مذہبی آزادی کا مکمل طور پر تحفظ کیا جا سکے۔ دوسری بڑی بات جو میرے ذہن میں آرہی ہے اور جن لعنتوں کا انڈیا شکار رہا ہے،وہ ناقص لاء اینڈ آرڈر، رشوت، بلیک مارکیٹنگ، اور اقرباء پروری ہیں۔ قائداعظمؒ نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کواپنے تمام سابق جھگڑے ختم کرکے اول و آخر مساوی حقوق کے ساتھ اس مملکت کا شہری بننا چاہئے۔

انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک نے گزشتہ چند صدیوں سے چلے آنے والے اپنے فرقہ وارانہ تنازعات بالآخر طے کرلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بھی وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہری کی حیثیت سے ہندو اور مسلم میں تمیز نہیں رہے گی، تاہم وہ اپنے اپنے عقیدے اورنظریات کے پابند رہیں گے،کیونکہ یہ انفرادی طور پر ان کے مذہب کا معاملہ ہے۔ قائداعظمؒ نے اپنی تقریر میں ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کی اور مذہب کے سلسلے میں سب کی آزادی اور سب کے مساویانہ حقوق پر زور دیا۔ تاہم قائداعظمؒ کی اس تقریر کے سلسلے میں ایک عرصے تک علمی اور نظریاتی حلقوں میں یہ بحث جاری رہی ہے کہ آیا اس پہلی تقریر میں قائداعظمؒ نے ملک میں اسلامی نظام رائج کرنے کی ضرورت واضح کی ہے یا ایک لادین یا سیکولر مملکت کی بات کی ہے۔ غیر جانبداری سے اس تقریر سے کوئی مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی جائے تو سب خیر ہی خیر ہے، کسی طرح کا الجھاؤ اور ان دونوں طرح کے گروہوں سے کسی بھی ایک کی پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے۔

مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ میں اس سلسلے میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا،جس میں سجاد میر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور بحث کا آغاز کیا،صدارت چیئرمین ٹرسٹ جناب خالد محمود نے کی۔ دوسرے مقررین میں قیوم نظامی، عطاء الرحمن، رؤف طاہر، تاثیر مصطفی میجرنصر اور، طیب گلزارشامل تھے۔ تقریب میں سلمان غنی،سلیم خالد اور رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے بھی شرکت کی۔سجاد میرنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: قائداعظم کی11اگست کی تقریر کے بارے میں دو مکاتب فکر کی بات کی جاتی ہے۔ ایک تیسرا مکتب فکر بھی ہے اور وہ ہے اوریا مقبول جان کا وہ اکیلے ہی اس بات کے قائل ہیں کہ اس سلسلے میں قائداعظمؒ کی کوئی تقریر ہوئی ہی نہیں، تاہم جو دو مکاتب فکر ہیں ان میں سے ایک اس تقریر کے حوالے سے یہ بات نکالتا ہے کہ قائد اعظمؒ ملک میں سیکولر سٹیٹ چاہتے تھے، جبکہ دوسرا مکتب یہ اخذ کرتا ہے کہ قائد اسلام کے اصولوں کے عین مطابق اسلامی حکومت چاہتے تھے۔ ان کی طرف سے میثاق مدینہ کی بات کی جاتی ہے۔مَیں نے قائداعظمؒ کی تقریر کے متن کا مطالعہ کیا تو اس کے الفاظ تقریبا وہی تھے جو میثاق مدینہ کے ہیں۔ کراچی میں اس مماثلت کے متعلق مَیں نے شریف المجاہد سے بات کی، لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی۔

مَیں نے سی این اے، کے ایک اجلاس میں ان کی موجودگی میں اپنی یہی بات پھر دہرائی۔ انہوں نے میر ی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انسان ہمیشہ ایک دوسرے سے سیکھتا رہتا ہے۔شریف المجاہد صاحب نے اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا کہ قائداعظمؒ اس زمانے میں تھک گئے تھے۔ ان کے خیالات میں بھی تھکاوٹ کا اظہار تھااور قائداعظمؒ فسادات کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے، لیکن میرا موقف یہ ہے کہ قائداعظمؒ ہمیشہ ہی پختہ بات کرتے رہے۔ ادھر اوریا مقبول صاحب کا کہنا ہے کہ قائداعظمؒ نے یہ تقریر کی ہی نہیں، جس دن اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا اس سے اگلے روز روزنامہ ”ڈان“ شائع ہی نہیں ہوا تھا۔ اس روز کا ڈان بھی نکل آیا، لیکن اوریا مقبول مانتے ہی نہیں،جبکہ پاکستان کی تاریخ کے ہر طرح کے ریکارڈ میں یہ تقریر موجود ہے۔ قائداعظمؒ کی اس تقریر پر تبصرے پر مشتمل مولانا عثمانی کی تقریر بھی ریکارڈ میں موجود ہے۔ رہا اس تقریر کے مفہوم و معانی کا مسئلہ تو دونوں طر ف کے لوگوں کی وضاحت میں اخلاص موجود ہو سکتا ہے۔ ایم بی نقوی صاحب نے قائد کی اس تقریر کو سکیولر بمعنی لادینی نظام کے لیتے ہوئے لکھا ہے کہ بعد ازاں لیاقت علی خان کے زمانے میں جو قراداد مقاصد منظور ہوئی وہ قائداعظمؒ کے مجوزہ نظام سے پہلا انحراف تھا، تاہم ان کی طرف سے قرار داد مقاصد کو قائد کے اصولوں سے انحراف قرار دینا ناسمجھی ہے۔

سیکولر ازم کو بھی کئی مفاہیم میں استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکی آئین میں اس سلسلے میں دو ہی شقیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہمارا کوئی مذہب نہیں دوسرا یہ کہ ہر شخص اپنے مذہب کے سلسلے میں آزاد ہے۔ پروفیسرعرفان یوسف نے کہا کہ وہ قائداعظمؒ کی اس تقریر اور میثاق مدینہ پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں جو کچھ سجاد میر نے کہا وہ درست ہے۔ دراصل سیکولرازم کا اصل مفہوم غیر جانبداری ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم دین بیزار ی بھی ہے۔ اسی لئے قائداعظمؒ نے اس لفظ کا استعمال کہیں بھی نہیں کیا۔ سجاد میر صاحب اس سلسلے میں جہاں کھڑے ہیں وہ درست مقام ہے۔ قائد اعظمؒ کے نظریات کے ضمن میں یہ مفہوم ومعانی اور قائد کے نظریات عام کئے جانے چاہئیں۔ ہم سب کو متحد ہوکر پاکستان کو اسی طرح بچانا چاہئے جس طرح کہ ریاست مدینہ کو بچایا گیا تھا۔ قیوم نظامی صاحب نے سجاد میر کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ مَیں نے اپنی کتاب کے سلسلے میں قائد کی اس تقریر کے حوالے سے کافی مطالعہ کیا ہے۔

اس تقریر کا لوگوں نے با لعموم پوری طرح مطالعہ نہیں کیا۔ اس تقریر کے حوالے سے قائد اعظم کے ارد گرد کے لوگوں کا حوالہ دیا جانا چاہئے۔ قائد نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مذہب کا امور مملکت میں کوئی دخل نہیں ہو گا۔ یہی فقرہ زیادہ متنازعہ ہوا۔ قائد اس وقت دستور ساز اسمبلی کو مملکت کے سسٹم کا ایک خاکہ دے رہے تھے۔ اس تقریر کے وقت تک قائداعظمؒ اپنا سیاسی سفر مکمل کرچکے تھے،انہوں نے کئی مواقع پر مذہب کو سیاست کے لئے استعمال نہ کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے گاندھی سے اسی لئے بیزاری کا اظہار کیا کہ وہ مذہب کو سیاست میں لے آیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاست بدنام چیز ہے،اس میں مذہب کو نہیں گھسیٹنا چاہئے۔ راجہ صاحب آف محمود آباد قائداعظمؒ کے بہت قریبی لوگوں میں سے تھے، ایک موقع پر انہوں نے ڈھاکہ میں ہونے والی شیعہ کانفرنس میں قائداعظمؒ کو شرکت کی دعوت دی۔ قائداعظمؒ نے کہا یہ بہت غلط بات ہے،مَیں کسی طرح کی فرقہ بازی میں نہیں پڑوں گا۔قائداعظمؒ قرآن اور سیرت پاک سے بہت متاثر تھے، قرآن کی بنیادی تعلیمات کا پورا علم رکھتے تھے، انہوں نے میثاق مدینہ اور آخری خطبے کا بغور مطالعہ کررکھا تھا۔ انہوں نے سیرت کی بات بھی کی اور قرآن کی بھی، لیکن مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کی کبھی حمایت نہیں کی۔قائداعظمؒ نے ڈسپلن، امانت، دیانت، مساوات،اخوت، برداشت اور اخلاقیات کی بار بار بات کی ہے۔ ان کے کسی دشمن نے بھی انہیں جھوٹا یا وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں کہا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تقریب میں قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ سوشلزم اور کیپٹلزم دونوں پاکستان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اسلامی آئیڈیلز کے مطابق اپنا نظام تشکیل دیں۔

عطاء الرحمن نے کہا کہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر اچھی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور پھر ان کی بنیاد پر ملکی نظام تشکیل دیا جانا چاہئے۔9اگست کی تقریب میں بھی جب ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ آپ کا آئیڈیل اکبر اعظم کا نظام حکومت ہے تو اس پر قائداعظمؒ نے باقاعدہ مداخلت کی اور کہا کہ اکبر اعظم کا نظام نہیں،بلکہ جس نظام کی مثال بنی کریم نے قائم کی تھی وہ ہمارا آئیڈیل ہے۔ یہ سوال مجھے پریشان کرتا ہے کہ اپنے نظام کے سلسلے میں قائداعظمؒ نے صرف 11اگست ہی کی تقریر تو نہیں کی اور اس سے بھی صرف چار فقروں ہی کو لے کر گھسیٹا جارہا ہے۔قائداعظمؒ نہ تھیوکریٹ تھے،نہ سیکولر۔اسلام کے اصولوں میں تھیو کریسی اور سیکولرازم کا کبھی کوئی مقام نہیں رہا۔ہمارے ہاں اسلامی مشاورتی کونسل کے ذریعے مختلف امور پر علماء کی رائے لی جاتی ہے، لیکن اسمبلی اس پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔ اس طرح ملائیت کو ختم کردیا گیا۔ لوگ قائداعظمؒ کو اپنی اپنی انتہاء پسندی کے لئے استعمال کررہے ہیں اور ان کے ساتھ انصاف نہیں کررہے۔ آج کا پاکستان قائد کے تصورات کا پاکستان نہیں۔یہ پاکستان سردار خضر حیات کے تصورات کی عکاسی کر رہا ہے، جس نے کہا تھا کہ فوجیوں نے انگریز کی خدمات سرانجام دی ہیں،اِس لئے اقتدارانہیں ملنا چاہئے۔طیب گلزار نے کہا کہ قائد نہایت شریف اور سچے کھرے انسان تھے،جو انسان فطرت کے قریب ہو گا،وہ اسلام کے قریب ہو گا۔

اصل چیز قرآن و سنت ہے، اگر آج ہمارے بڑے لوگ حضور کے غلاموں میں شامل ہو جائیں تو قوم وملک کے لئے بڑی بات ہو گی،جس کسی نے قرآن سے جتنا بھی فیض پایا ہے اتنی ہی خوش قسمتی کی بات ہے۔ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب خالد محمود نے کہا کہ قائداعظمؒ اپنی بات کے ایک ایک لفظ پر غور کرتے تھے،انہوں نے کہا تھا کہ مذہب کا ریاست کے معاملات میں کوئی دخل نہیں ہوگا، یعنی قانون ہر مذہب کے لوگوں کے لئے برابر ہوگا۔ انہوں نے اپنی اس تقریر میں زیادہ بات قومی تعمیر کے تقاضوں پر کی۔ مستقبل کے تقاضوں کا احاطہ کیا، اس وقت کے مسلم اور ہندو فسادات کو وقتی بتایا اور یہ تاثر دیا کہ تمام مذاہب کے لوگ پاکستان میں متحد ہوکر رہیں گے اور ان کی باہمی رنجشیں ختم ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ وہ قوم کے آئیڈیلز کے خلاف بات کر رہے تھے،اس سلسلے میں کسی کو مدافعانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ حالات اس وقت معمول پر بھی ہوتے تو پھر بھی انہوں نے اسی طرح کی بات ہی کرنا تھی۔وہ بہت بڑے مدبر اور ہر طرح کے تعصبات سے بلند تھے،انہوں نے عام سیاست دانوں کی طرح اس تناظر میں بات نہیں کی،بلکہ ہر موقع پر سب کے حقوق کی بات کی ہے۔

مزید : رائے /کالم