بھارت کا اقوامِ عالم کو جنگ کا کھلا چیلنج یا قبضوں کی نئی عالمی پلاننگ۔۔۔؟

بھارت کا اقوامِ عالم کو جنگ کا کھلا چیلنج یا قبضوں کی نئی عالمی پلاننگ۔۔۔؟
بھارت کا اقوامِ عالم کو جنگ کا کھلا چیلنج یا قبضوں کی نئی عالمی پلاننگ۔۔۔؟

  


آزاد فضا میں سانس لینا ، ، جینا ، رہنا،ہر شخص اورآئین میں تبدیلی و ترمیم ہر معاشرے و ملک کا بنیادی حق ہے ، دوسرے ملکوں کی طرح یہ حق بھارت کو بھی حاصل ہے جو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا نہ ہی کسی کو ایسی کوشش کرنا چاہئے کیونکہ برصغیر میں دوسرا سیکولر ملک ہی کوئی نہیں ہے ۔ بھارت کی سیکولر حیثیت پر ہندوستانیوں کے ساتھ خطے کے کچھ اور لوگ بھی بھارتی آئین کا حوالہ دیکر فخر کرتے ہیں ۔ روشن خیالوں کے لئے واقعی یہ قابلِ فخر بات ہے کیونکہ نظریے کی سرحد نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے لکیریں لگا کر ، دیواریں بنا کر ان کے اندر چھوٹے چھوٹے دائروں میں قید کیا جاسکتا ہے نہ ہی کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے سے یہ پائمال ہوجاتا ہے ۔

بھارت کا آئین برصغیر کی تقسیم سے قبل متحدہ ہندوستان کے لئے برطانوی پارلیمنٹ میں بنائے جانے والے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ سنہ انیس سو پینتیس کے متبادل سنہ انیس سو انچاس میں ڈرافٹ کرکے سنہ انیس سو پچاس میں نافذ کیا گیا جس میں ملک کو سوشلسٹ ، سیکولر ،تمام شہریوں کو بلاامتیاز یکساں حقوق ، آزادی کا حقدار قراردیا گیا اور شہریوں میں رواداری ، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینا نصب العین قراردیا گیا مگر بدقسمتی سے آئین سازوں نے اسے ہمیشہ ہی پائمال کیا ہے ۔یہ آئین بنانے سے پہلے بھارت جموں کشمیر کے ایک حصے پر جبری قبضہ اور اس خطے کے عوام کا حقِ آزادی سلب کرچکا تھا اور پھر جب اقوامِ متحدہ میں یہ معاملہ لے جایا گیا اور اقوامِ متحدہ نے قرارداد کے ذریعے کشمیر میں استصواب کا فیصلہ کیا تاکہ جموں کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرسکیں ۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے بعد بھارت نے اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر کے بارے میں آئین میں ایک صدارتی فرمان سنہ انیس سوچھپن میں شامل کیا جس کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر اپنا الگ پرچم ، آئین بنانے ، انتظامی و قانونی امور طے کرنے کا اختیار دیا’خود مختار علاقہ‘ قراردینے کا آئینی اعلان کیا یعنی اپنے آئین میں ایک سیکشن تین سو ستر شامل کیا ، اس کے ساتھ ساتھ سیکشن پینتیس الف کے تحت جموں و کشمیر کے عوام کے ماسوا کسی بھی دوسرے شخص ( جو تقسیمِ ہند سے پہلے وہاں نسلاً آباد نہیں تھا ) پرجائیداد کی خریداری ممنوع قراردیدی گئی ۔ 

آئین بننے سے پہلے بھارتی قیادت نے وعدوں ، کمٹمنٹ، دعوﺅں جوشیلی پُر فریب تقریروں میں بھارت کو سیکولر سٹیٹ بنانے کے دعوے ( جن سے متاثر ہو کر کشمیر کے کچھ مسلمان رہنماﺅں نے فوری طور پر پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ نہ کیا اور اب ان کی نسل اپنے بڑوں کے فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار کررہی ہے ) کئے مگرمختلف اوقات میں متعصب سوچ اور بارود کی طاقت سے نفی کی گئی اور اقلیتوں کے ساتھ متعصب و متشدد رویہ اختیار کیا گیا ، ریاستی سطح پر اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جس کے نتیجے میں بھارتی سیاسی قیادت دن دیہاڑے اور کڑے پہرے میں بھی قتل کی گئی ، مسلم اقلیت کے مذہبی فرائض کی ادائیگی تک پابندی لگائی گئی اور اس پر عملدرآمد بھی تشدد سے کروایا، ان واقعات پر مقامی اور عالمی اداروں کی رپورٹیں چیخ چیخ کر ایسے واقعات میں کچھ ریاستی عناصر کی سرپرستی کی گواہی دے رہی ہیں ، پردہ پوشی، جانبداری، کے الزامات و حقائق کے باوجود خود بھارتی ذرائع ابلاغ بھی ان رپورٹوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ تقسیمِ ہند کے مہینے یعنی رواں ماہ اگست کی پانچ تاریخ کو بھارت بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مستند تشدد پسند حکمران جماعت نے اپنے مقدس ترین ایوان میں عوامی مینڈیٹ ، اعتماد کا خون اور ووٹ کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اسے ووٹ کو’ ایٹم بم‘ کی طرح استعمال کرنا قراردیا جاسکتا ہے ۔اس’ پارلیمانی جارحیت‘ پربھارت سمیت پوری دنیاکے سیکولر ، روشن خیال ندامت محسوس کررہے ہیں جبکہ ہے اس کا آغاز خود بھارت کی پارلیمان سے ہوا ہے ، بہت اعلیٰ کردار ادا کیا ان لوگوں نے جنہوں اپنے پارلیمان میں عددی اکثریت کی بنا پر آئین میں اس ترمیم کی مزاحمت کی جس کے تحت کشمیر پر جمہوری ایٹم بم گرایا گیا ۔روشن خیال عام بھارتی اپنے تشدد پسند حکمرانوں کے اس عمل پر جہاں دنیا بھر میں شرمندگی کا سامنا محسوس کررہا ہے اور نادم دکھائی دیتا ہے وہاں سیکولر ریاست ہونے کے دعوے پر ایک اور گہرا زخم محسوس کرکے روتا نظر آتا ہے ۔ پانچ اگست کو بھارتی آئین ( صدارتی فرمان) میں تبدیلی کے لئے بھارتی پارلیمان میں منظور کی جانے والی قراداد کے تحت کشمیر کو سنہ انیس سو چھپن میں دیا جانے والا سٹیٹس ختم اور جموں کشمیر کی تنظیم نو کا بل منظور کیا گیا ہے جس کے تحت جموں کشمیر اور لداخ کی تقسیم تجویز کی گئی ہے اور انہیں براہِ راست وفاقی یونٹ قراردیا گیا ہے ۔ 

بلا شبہ بھارت کو اپنے آئین میں ترمیم کا حق اور آزادی حاصل ہے لیکن یہ آزادی اس کے جائز اورقانونی علاقے تک محدود ہے جبکہ کشمیر پر اس کا قبضہ پوری دنیا نے ایک ’جبر‘ تسلیم کیا ہے ۔ اس مقبوضہ علاقے کو کسی صورت اپنے آئین میں ترمیم و تبدیلی اور قانون سازی سے ہتھیانے کا اختیار بھارت کے پاس ہے نہ دیا جاسکتا ہے ، اگر قبضے کی بنیاد پر آئین میں ترمیم سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا جواز تسلیم کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب کیا یہ بھی لیا جائے کہ امریکی قیادت میں دنیا کے جس جس خطے اور علاقے میں امریکی افوج یا عالمی افواج کے دستے تعینات ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر وہاں چڑیا پَر نہیں مار سکتی تو کیا قابض افواج اپنے ممالک سے خود کہیں یا وہ ملک اپنے آئین میں ترمیم و تبدیلی کرکے ان علاقوں کو اپنے ملک کا حصہ بنا لیں ؟ ہر گز ایسا نہیں ہوسکتا اگر کہیں ایسی کوئی سوچ پیدا ہورہی ہے ، منصوبہ بندی کی گئی ہے تو اس کی بھی ہر گز اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ عالمی انارکی موجب بنے گی ۔ مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی جبر کے خلاف کشمیری اور پوری دنیا کے آزادی و جمہوریت اور حق پرست آواز بلند کرتے ہیں ، کشمیریوں کی آزادی آواز دبانے اور حق بات کرنے والوں کو فتح کرنے کے لئے بھارت نے پہلے ہی مقبوضہ علاقے میںوہاں کی مقامی آبادی سے کم و بیش دوگنا زیادہ فوج اور نیم فوجی دستے تعینات کررکھے ہیں جن کے مظالم ،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، کشمیریوں کی نسل کشی پر مسلسل احتجاج جاری ہے اور بھارت کسی کو جواب نہیں دے پا رہا اور بھارتی

افواج آج تک نہتے کشمیری عوام کو جیلوں میں تو ڈال کر مار رہے ہیں ، اپاہج بنا رہے ہیں ، لاتعداد لاشیں گرا چکی ہیں ، عصمت دری ان کا قبیح ترین ’مشغلہ بن چکا ہے ، یتیموں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے لیکن بھارتی مسلح فورسز بارود کے ساتھ ان نہتے کشمیریوں کوفتح نہیں کرسکتیں ۔ موجودہ حالات میں بھارتی حکومت نے آئین میں ترمیم اور قانون سازی سے پوری دنیا کو آنکھیں دکھاتے ہوئے اور اقوامِ عالم کی رٹ چیلنج کرکے مقبوضہ علاقوں کو اپنا حصہ بنا لیا ہے جسے پوری دنیا پر کھلم کھلا حملہ قراردیا جانا چاہئے اور اقوامِ عالم کو اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے اس اوچھے اقدام اور چیلنج کا بھر پور جواب دینا چاہئے کیونکہ یہ صرف کشمیریوں ہی کا اور ایک بڑے فریق پاکستان کا ہی نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے جسے بھارتی سیاسی جماعتیں بھی تسلیم کررہی ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اپنی اس عالمی دہشت گردی پر ہٹ دھرمی دکھا رہے ہیں ۔ اس معاملے کو بھی ویسے ہی دیکھا اور اس سے نمٹا جانا چاہئے جیسے نائن الیون کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کا انداز اختیار اورامریکہ کے بنائے ہوئے اصول کے تحت عالمی افواج کے ذریعے نمٹا گیا تھا ، ورنہ یہ امر خارج از امکان نہیں کہ کشمیر سے قلبی ، ذہنی اور نظریاتی وابستگی رکھنے والے پاکستانی اپنے کشمیری بھائیوں پر ہونے والی اس عالمی دہشت گردی پر اپنی حکومت کو مجبور نہ کر دیں کہ وہ تنہا ہی اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرلے جبکہ ایک ایٹمی قوت کا ایسا کوئی بھی فیصلہ دونوں ملکوں اور خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے تباہ کن ہوسکتا ہے۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ