پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا:اسفندیار ولی خان

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کا فائدہ دہشت گردوں کو ...
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا:اسفندیار ولی خان

  


پشاور(ڈیلی پاکستان آن  لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان فاصلوں اور بد اعتمادی بڑھنے کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا،جاری امن مذاکرات کی کامیابی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

تفصیلات  کے  مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان کاکہناتھاکہ  سانحہ بابڑہ ایک عظیم سانحہ اور پختونوں کیلئے کربلا سے کم نہیں تھا، آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی،زندہ قومیں اپنے اسلاف، شہداء اور غازیوں کی قربا نیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں اور جب تک ممکن ہوا ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات اہم موڑ پر ہیں اور ایسے وقت میں ذرا سی غلطی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی، دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی سے پیدا ہونے والے فاصلوں کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو گا،اگر کوئی دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہے تو اسے ہوش سے کام لینا ہوگا۔انہوں نے  کہا کہ 65اور71کی جنگوں کے دوران افغانستان کا کردار سب کے سامنے ہے جب پاک فوج مشرقی بارڈر پر مصروف تھی تب افغانستان نے مغربی سرحدوں پر ہمارے لئے کبھی پریشانی پیدا نہیں کی اور برادرانہ تعلقات کی عظیم مثال قائم کی، اگر آج ہم بھائی چارے اور بہتر ہمسائیگی کا حق ادا کریں اورافغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات رکھیں تو اُس کی پہلی ترجیح پاکستان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ہر صورت دہشت گردی ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردوں کا راستہ روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، متفقہ20نکاتی دستاویز موجود ہے تو پھر دہشت گردی کا راستہ روکنے میں رکاوٹ کیوں پیش آ رہی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تما م 20نکات پر من و عن عمل کئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور


loading...