بھارت کی ”علاقائی بدمعاشی“

  بھارت کی ”علاقائی بدمعاشی“

  

ملائشیا کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں،بھارت علاقائی بدمعاشی چھوڑ دے اور ایک ملک کی طرح سامنے آئے۔ مسئلہ کشمیر پر خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں،عالمی برادری تنازعے کا نوٹس لے، ہم نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بولنے کی معاشی قیمت چکائی ہے، اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف جو کچھ کہا اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ مودی سرکار کے5 اگست(2019ء) کے اقدامات غیر قانونی ہیں، جن کی مذمت کرتے ہیں، آئین کے آرٹیکل370 اور35 اے کی منسوخی بھی قانونی اقدام نہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر دیرینہ تنازع حل کرنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بے شمار خلاف ورزیاں کی گئیں، نئی دہلی کو سمجھنا چاہئے کہ ہم اُن کے منصوبوں کو جانتے ہیں اور نہتے کشمیریوں کے خلاف مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف بولتے رہیں گے، وہ کوالالمپور میں کشمیر کے حوالے سے ایک تقریب میں خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی حمایت پر مہاتیر محمد کا شکریہ ادا کیا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے گذشتہ برس جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر پر جو خطاب کیا تھا، بھارتی حکومت اس پر سیخ پا ہو گئی تھی، اور جواب میں ملائشیا سے پام آئل کی درآمد میں کمی کر دی تھی، ڈاکٹر مہاتیر نے اپنے خطاب میں ”معاشی قیمت“ ادا کرنے کا جو اشارہ کیا ہے وہ ایسے ہی اقدامات کی جانب ہے، اب اگرچہ اُن کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں اور حکومت میں بھی اُن کا اثر محدود ہو گیا ہے تاہم وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں اور  ویسے ہی خیالات کا اظہار کر رہے ہیں جیسے وہ بطور وزیراعظم کیا کرتے تھے، تاہم اُن کی جانشین حکومت کی کشمیر پالیسی میں وہ گھن گرج مفقود ہے جو اُن کے دور میں ہوا کرتی تھی، انہوں نے اپنی حکومت کے دوران اسلامی ممالک کو درپیش مسائل پر غور کے لئے ایک عالمی کانفرنس بھی طلب کی تھی، جس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی بہت متحرک تھے، ایران کو بھی اس کانفرنس کے مقاصد سے اتفاق تھا۔ صدر روحانی نے اس کانفرنس میں شرکت کی، کشمیر پر ایران کی پالیسی بھی بڑی بے باک ہے تاہم پاکستان کے وزیراعظم اس کانفرنس بذاتِ خود  شریک نہ ہو سکے اور نمائندگی کم تر سطح کے وفد نے کی۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اس کانفرنس میں بھی اپنا موقف دھڑلے کے ساتھ پیش کیا، صدر اردوان بھی کھل کر بولتے رہے، کئی دوسرے اسلامی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ ہیں تاہم اُن کے ہاں احتیاط زیادہ ہے اور مسئلہ کشمیر پر اظہارِ خیال کرتے وقت وہ الفاظ کے چناؤ میں بہت محتاط ہو جاتے ہیں،غالباً اُن کی معاشی مصلحتوں کا تقاضا ہے وہ یہ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ جس طرح بھارت نے ملائشیا کے پام آئل کی درآمد بند کی ہے کہیں اُن کا تیل بھی اسی طرح روک نہ لیا جائے، تاہم ایران کو بھارتی عزائم کا بروقت ادراک ہو گیا ہے اور اس نے چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے بھارت کو نکال دیا ہے،جس کی تعمیر بھارت نے کرنی تھی،لیکن اب تک زبانی جمع خرچ سے آگے بات نہیں بڑھی تھی، اب ایران کو درست طور پر محسوس ہوا کہ یہ تاخیری حربے ہیں اور اُن کا مقصد ایران سے معاشی مفادات حاصل کرنا تھا۔ ایران امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت کو تیل کی تجارت میں بڑی مراعات دے رہا تھا، اب یہ بھی محدود ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب چین بڑی کامیابی کے ساتھ اس خلا کو نہ صرف پُر کر رہا ہے،بلکہ چینی منصوبوں میں ایران کی شمولیت کی وجہ سے علاقائی تعاون و ترقی کا دائرہ بھی وسیع ہو  رہا ہے۔

کشمیر میں غیر قانونی قبضے کے بعد بھارت نے جو بھی اقدامات کئے ان سے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی، کرفیو جیسے لاک ڈاؤن نے حالات اتنے خراب کر دیئے ہیں کہ سیب کی پوری فصل تباہ ہو گئی ہے، بروقت پھل نہ اتارنے کی وجہ سے اب پکے ہوئے خراب پھل خودبخود درختوں سے گر رہے ہیں، ریاست کی معیشت کا زیادہ تر انحصار اسی فصل پر ہے۔ دوسری فصلیں بھی خراب ہو رہی ہیں سیاحت بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے، جو ریاست کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ریاست میں سیاسی بے چینی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا اور کشمیری نوجوان اب بھی سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ بھارت کی تقریباً نصف فوج ریاست میں ڈیپلائے ہے اس کے باوجود حکومت کرفیو کی پابندیاں ختم کرنے کے لئے تیار نہیں،اس عرصے میں کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کے لئے غیر کشمیریوں کو ریاست کے ڈومیسائل دیئے جا رہے ہیں، چار لاکھ لوگوں کی ریاستی شہریت ظاہر کی جا چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے، ساری توجہ مسلمانوں کو اقلیت بنانے پر صرف کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ اگرچہ اب بھی کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیتی ہے تاہم اس تنازعے کو ختم کرانے کے لئے اقوام متحدہ کو جو کردار ادا کرنا چاہئے وہ نظر نہیں آتا، مہاتیر محمد نے بھارت کو مسئلے کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا جو مشورہ دیا ہے اس پر بھی بھارت تیار نہیں، اب تو سفارتی تعلقات بھی ڈاؤن گریڈ ہو گئے، کشیدگی کے اس ماحول میں ٹریک ٹو سفارت کاری کے امکانات بھی ختم ہو گئے ہیں،اب محسوس ہوتا ہے کہ ماضی میں خفیہ سفارت کاری سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی جو کوششیں بھی کی گئیں وہ بھی محض تضیع اوقات ثابت ہوئی ہیں اگر پس پردہ کوششوں میں تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی بھی تو وہ حالات کے کروٹ بدلنے کی وجہ سے ناکام ہو گئی، خورشید محمود قصوری جب وزیر خارجہ تھے اُس وقت یہ کوششیں کوئی رنگ دکھاتی نظر آئی تھیں،لیکن جونہی پرویز مشرف کی حکومت کا زوال سامنے نظر آیا ان کوششوں کو بھی بریک لگا دی گئی،بعد کے ادوار میں جو سفارت کاری ہوئی وہ بھی کوئی رنگ نہ جما سکی، حتیٰ کہ مودی برسر اقتدار آ گئے، ان کی کامیابی سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ بھی نقش بر آب ثابت ہوئیں،بلکہ انہوں نے تو کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے ملک ہی میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر دی، اُن کی شہریت کو مشکوک بنانے کے لئے شہریت کے نئے قوانین نافذ کر دیئے گئے،اب نہ صرف پورا کشمیر ایک جیل خانے کا منظر پیش کر رہا ہے،بلکہ پورے بھارت کے مسلمان بحیثیت مجموعی آزمائش کے دور سے گذر رہے ہیں، تاریخ میں اتنا سخت وقت اُن پر کبھی نہیں آیا، ان حالات میں مذاکرات کی تو کوئی امید نہیں، البتہ اگر اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے کوئی عملی پیش رفت کرے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا عالمی پلیٹ فارم او آئی سی ہے،لیکن اس پر بھی جمود کی سی کیفیت طاری ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس ادارے کو (بزعمِ خود) بیدار کرنے کے لیے چند  غیر محتاط جملے ادا کر دیے تھے۔ سعودی عرب جیسے آزمودہ دوست کے بارے میں بھی شکوہ کرتے ہوئے احتیاط اور آداب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تھا۔ نتیجتاً انہیں بار بار وضاحتیں کرنا پڑ رہی ہیں۔ اگر وہ شکوؤں اور طعنوں کی غیر سفارتی زبان استعمال کرنے کے بجائے اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیں، اور پاکستانی اور کشمیری قیادت کے ساتھ سنجیدہ مشاورت کے بعد کوئی لائحہ عمل بنائیں تو پاکستان کے(اور خود ان کے) حق میں بھی بہتر ہو گا۔بہرحال ڈاکٹر مہاتیر کی ہمت اور جرأت کو سلام کہ وہ کشمیری برادرانِ اسلام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، عالم  ِ اسلام کے تمام مقتدر حضرات اگر ان کا لہجہ اپنا سکیں تو بھارت کا حوصلہ پست ہو گا، اور کشمیریوں اور پاکستان کے حوصلے دوچند بلکہ سہ چند ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -